کرناٹک میں غریب مسلمانوں پر حملے

ازقلم: سمیع اللہ خان
ksamikhann@gmail.com

یہ خون جو ہے مظلوموں کا ضائع تو نہ جائے گا، لیکن
کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں

خبر ہے کرناٹک سے، شری رام سینا کے ہندو دہشتگردوں نے غریب مسلمانوں کے پھل بیچنے کے اسٹالوں پر حملہ کیا، ان کے پھل برباد کردیے، اس پوری کارروائی کے دوران کرناٹک پولیس پوری مستعدی کےساتھ وہاں موجود تھی اور اپنے ہجڑے ہونے کا ثبوت دے رہی تھی،
اس معاملے پر اب مسلمانانِ ہند کو میرا مشورہ یہ ہےکہ جہاں کہیں ہندو دہشتگرد اس طرح حملے کریں ان پر ایمانی رو سے فرض ہے کہ وہ پلٹ کر نعرۂ تکبیر کےساتھ ان بزدل ظالموں کو جواب دیں، اور اپنے جان و مال عزت آبرو کا دفاع کرتے ہوئے انہیں مجروح کردیں، گرچہ دفاع کا یہ حق دنیا کے ہر کانسٹی ٹیوشن میں بھی پایا جاتاہے لیکن میں ایسے کانسٹی ٹیوشن سے استدلال نہیں کرنا چاہتاہوں جس کا زمین پر کوئی وجود نہ ہو. جس کی عزت خود آئینی ادارے اتارتے ہوں اور وہ فسطائی رنگ میں تبدیل ہوتا جارہاہے، اسلیے میں قرآن و ایمان سے استدلال کرتے ہوئے عرض کررہاہوں کہ جب آپ پر ظلم کیا جائے تو جوابی کارروائی آپ پر شرعی رو سے واجب ہے، ظلم سہتے سہتے بزدل نسلوں کو پروان مت چڑھائیے جو آگے چلکر خدانخواستہ شودر بن جائیں، لہذا اب مسلمانوں میں اس امر کا کھلے عام ماحول بنانا بہت ضروری ہےکہ "چونکہ اب بھارتی پولیس جابجا عوامی محافظوں کی بجائے منظم ہندوتوا غلاموں کا رول پلے کررہی ہے تو اب اپنے جان مال اور عزت و آبرو کی حفاظت آپ کو خود کرنی ہے، کوئی آپکے لیے نہیں آنے والا، اب جب کہیں بھی آپ پر ہندوتوا دہشتگردوں کا حملہ ہو تو آپ نے صرف مظلوم نہیں بننا ہے، مظلومی کو قبول کرنا غلامی اور نحوست ہے، انسان کی پیدائشی عزت کےخلاف ہےکہ وہ ظالموں کا انتظار کرکے ظلم سہے، ایسا کرنے والوں پر قدرت کی طرف سے ہمیشہ کے لیے ذلت و غلامی مسلط کردی جاتی ہے، اسلیے آئیے اس رمضان سے عہد کیجیے کہ مار نہیں کھائیں گے، ظلم نہیں سہیں گے، اور عملی طورپر خود کو بھی تیار کیجیے اور ہر مسلم آبادی میں، حقِ دفاع کا ماحول بنائیے، ظالم فطرتاً بزدل ہوتاہے وہ آپکے حقِ خودارادیت اور خودداری کے ماحول کو دیکھ پسینے چھوڑنے لگ جائےگا، جب انسانوں کے محافظ ادارے غنڈوں کی صفوں میں شامل ہوجائیں تو انسانوں کو اپنی عزت خود بچانی ہوگی یا نہیں؟ یا مرتے رہیں اور عصمتیں لٹاتے رہیں کہ ابھی جناب انسپکٹر صاحب آتے ہوں گے بچاو کا کاروبار انہی کے ذمے ہے؟ مجھے اس بات کی بالکل پرواہ نہیں کہ مسلمانوں کو حقِ دفاع استعمال کرنے کی جانب میرا متوجہ کرنا مصلحت اندیشوں کے نزدیک کتنا بڑا گناہ ہوگا، مجھے اطمینان اس امر پر ہےکہ میں ہر اعتبارسے حق پر ہوں، ملکی سطح پر مسلمانوں میں دفاع کا ماحول بننا اس وقت امتِ مسلمہ کے ليے ارتدادِ خوف سے بچنے کا واحد راستہ ہے، اس ماحول کو بنانا ضرورتِ زیست ہی نہیں ایمانی تقاضا بھی ہے، سو کوئی قربانی دینی پڑجائے تو کیا حرج !

یہ خون جو ہے مظلوموں کا ضائع تو نہ جائے گا، لیکن

کتنے وہ مبارک قطرے ہیں جو صرفِ بہاراں ہوتے ہیں
جو حق کی خاطر جیتے ہیں، مرنے سے کہیں ڈرتے ہیں جگرؔ