خلاصۂ قرآن(نواں پارہ)

تحریر: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

نواں پارہ ’’قَالَ الْمَلَاُ الَّذِيْنَ ‘‘ سے شروع ہے ،اس پارہ کی ابتداء میں حضرت شعیب علیہ السلام اورا ن کی قوم کے واقعات ہیں، ان کی قوم کے متکبر سرداروں نے کہا کہ تم اور تمہارے ماننے والے ہماری ملت میں لوٹ آو ،ورنہ ہم تم سب کو اپنی بستی سے نکال دیں گے، پھر ان کی قوم کی سرکشی کی وجہ سے ان پر زلزلہ آیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے طریقہ کو بیان کیا ہے کہ جب ہم کسی قوم کی طرف رسول بھیجتے ہیں اور لوگ ان کی بات نہیں مانتے ہیں تو ہم ان پر فقروفاقہ، تباہی اور مصیبت مسلط کردیتے ہیں اور اگر رسول کی بات مانتے ہیں تو ہم ان پر انعام واکرام کرتے ہیں ،اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے ،پھر عہد الست کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی پیدائش سے پہلے بنی آدم سے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ،بنی آدم نے اقرار کیا تھا کہ کیوں نہیں ؟ آپ ہمارے رب ہیں ،اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کے اوصاف بیان کئے گئے ہیں، پہلی صفت یہ بیان کی گئی کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، رسول کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو اللہ نے نئی شریعت دے کر بھیجا، دوسری صفت یہ کہ آپ نبی ہیں، تیسری صفت یہ کہ آپ امی ہیں، چوتھی صفت یہ ہے کہ آپ کا تذکرہ توریت اور انجیل میں ہے، پھر آپ خاتم النبیین کا ذکر کیا گیا کہ آپ کوتمام مخلوقات کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہے،پھر کفار مکہ کا ذکر کیا گیا کہ یہ کفار چوپائے کی طرح ہیں، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ یہ کفار ومشرکین قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ اس کا جواب دیا گیا کہ قیامت کب آئے گی اس کا علم کسی کو نہیں ہے ،پھر قرآن کی عظمت کا بیا ن ہے ،اس میں بلعم بن باعوراء کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے ،اس کا واقعہ یہ ہے کہ فتح مصر کے بعد جب بنی اسرائیل کو قوم جبارین سے جہاد کرنے کا حکم ملا تو جبارین ڈر گئے ،اور بلعم بن باعوراء کے پاس آئے کہ کچھ کرو ،یہ اہل کتاب کا بڑ اعالم تھا ، اس کو اسم اعظم کا علم تھا ،اس نے پہلے اس کی مدد سے منع کیا ،مگر جب ان لوگوں نے رشوت دی تو یہ بہک گیا،پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے خلاف بد دعا ئیہ کلمات کہنے لگا ،مگر اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ وہ کلمات خود اس کے اور قوم جبارین کے خلاف نکلے ،اس کی سزا میں اللہ تعالیٰ نے اس کی زبان باہر نکال دی اور اس کی زبان کتے کی طر ح باہرنکل آئی اسی کو کمثلہ کمثل الکلاب سے تعبیر کیا گیا ہے ،اس کے بعد سورۂ انفال شروع ہے اس میں غزوۂ بدر کا ذکر ہے اور مال غنیمت تقسیم کرنے کا طریقہ بتایا گیا ہے ،پھر مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں ، مومنین کی صفات پانچ ہیں ،ان کے دل میں خشیت ہوتی ہے وہ قرآن کریم کی تلاوت کر تے ہیں ،وہ اللہ پر توکل کرتے ہیں ،نماز قائم کرتے ہیں اور سخاوت اختیار کرتے ہیں ،اس کے بعد چھ مرتبہ مومنوں کو خطاب کیا گیا ہے ،ان سے کہا گیا کہ اے ایمان والو ! میدان جنگ میں کفار کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ،اے ایمان والو !نہ اللہ سے خیانت کرو اور نہ رسول سے ،اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو ،اے ایمان والو!تم اللہ سے ڈروگے تو وہ تمہارے گناہو ں کو معاف کردے گا ،اے ایمان والو! دشمن سے مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو یاد کرو۔