سودا جب بھی لے مسلم سے لے

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری (گوونڈی،ممبئی)
9224599910

مسلمان سوداگر(چیزیں بیچنے والا) اصولوں کا پکا، زبان کا سچا، ایفائے عہد کرنے والا، برابر تولنے والا،مال میں اگر نقص ہو تو بتا کر قیمت کم کر کے دینے والا ہوتا ہے۔وہ ملاوٹ نہیں کرتا، کم نہیں تولتا، ذخیرہ اندوزی نہیں کرتا، اپنے صارفین کو نقصان نہیں پہنچاتااسی لیے پورے اعتماد سے اسی سے چیزیں خریداری کی جاتی ہے۔اگر تاجر دھوکا دے، کم تولے، خراب چیز دے تو کون دوبارہ اس سے مال خریداری کرے گا؟؟؟؟ ۔
عام طور پر لوگ اپنے اطراف سے ہی چیزیں خرید تے ہیں ۔زیادہ تر سامان ان سے لیا جاتا ہے جو مزاج شناس ہو، کم قیمت پر اچھّی چیزیں دیے۔مروت اور اخلاق سے پیش آئیں۔
کچھ شر پسند سنگی ذہنیت کے فسطائی ٹولے کے متعصب لوگ اب مسلمان بیوپاریوں کا اس لیے بائکاٹ کرنے کی مہم چلا رہیے ہیں کہ مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزور کیا جائے انھیں تنگی کی حالت میں پہنچایا جائے ۔وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اصل رزق رسان الله تعالیٰ ہے جو ہر متنفّس کو رزق فراہم کرتا ہے۔انسانوں میں سے بھی اس کے مشرک، باغیوں کو بھی برابر رزق دیتا ہے۔
مسلمان تاجر الله سے ڈر نے والا، سچ بولنے والا، ایماندار، با اخلاق، مروت کرنے والا، جھوٹی قسم کھا کر اپنے مال کی بڑائ کرنے سے بچنے والا ، برابر تولنے والا، نرم خو، چہرے پر مسکراہٹ سجائے ادب سے بات کرنے والا، ہمدرد اور اپنے گراہک کا بھلا سوچنے والاا ور خیر خواہ ہو تاہے۔ وہ ضرورت مندکو چیزیں اُدھار بھی دیتا ہے۔ہمیں چاہیے کہ ایسے شخص سے اپنے معاملات کریں۔اس سے اجناس خریدیں۔ ایسے چھوٹے تاجر وں کو اگر ضرورت ہو تو کچھ روپیہ مال خریدنے کے لیےقرض دیں ۔کسی غریب کو چھوٹا کاروبار شروع کرنا ہو تو اسے زکواة کی رقم سے بھی مدد کی جاسکتی ہے ۔اس سے سامان خرید کر اس کی تجارت کو فائدہ پہنچائیں ۔
جماعت اسلامی ہند، نے بہت سارے مقامات پر چھوٹے کاروباریوں کی مختلف طریقوں سے مدد کی۔مثلاً مال کی خریداری کے لیے مختصر سرمایہ سرمایہ فراہم کیا۔کرایے کی گاڑی کی جگہ انھیں جماعت اسلامی نے گاڑیاں فراہم کی اور انھیں پیروں پر کھڑے ہونے کے لیے سہارا دیا گیا۔خدمت خلق کے تحت اسمال اسکیل لیول کے کاروبار یوں کو بھی ضروری مدددے کر ان کا تعاون کیا گیا۔آج ان کی اپنی خود کی گاڑی ہوگئی اور وہ کرایہ دینے سے بچ گئےہیں ۔ بہت سے چھوئے بیوپاری تجارت کے لیے سرمایہ سود پر حاصل کرتے ہیں، جماعت اسلامی ہند نے اپنی بساط بھر لوگوں کو بلا سودی سوسائٹی سے قرض بھی دیا اقر مدد بھی۔
دوستو!
اگر اسلامی اصولوں کے مطابق تجارت کی جائے اور اچھّے اخلاق اور دیانت داری کا پاس رکھا جائے، کم منافع پر چیزیں فروخت کی جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ سب ہی سامان خریدنے والے ایسے با اخلاق تاجر ہی سے معاملہ کرنا پسند کریں گے۔ ہمارے بہت سارے بیوپاری اگر ان اصولوں کا لحاظ نہیں رکھتے تو ان کے رویہ سے اسلام اور مسلمانوں کا کردار بدنام ہوتا ہے۔مثلا
بات بات پر گالم گلوچ، دھوکہ دینا، کم تولنا، زیادہ پیسے لے لینا، دوچیزیں زبردستی شامل کر دینا، جتنا مانگے اس سے دوگنا دے کر رقم جوڑلینا، چیزیں بدل کر نہ دینا وغیرہ ۔بالخصوص ایسے بیوپاری جن کی شرعی داڑھی، لباس اور سر میں ٹوپی سجی ہوتی ہے انھیں زیادہ لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے۔بہت سارے غیر مسلم تاجر اپنی میٹھی زبان اورتجارت کے آداب کا لحاظ رکھ کر معاملات کرتے ہیں تو بہت سارے مسلمان ان کے مستقبل گراہک بنے ہوئے پائے جاتے ہیں ۔ مثلاً
آرڈر کیا گیا سامان بحفاظت وقت کی پابندی کے ساتھ صارفین کے گھر پہنچا دینا۔
گاہک اگرکسی سامان کی شکایت کرے تو اس کو مطمئن کرائیں، ضرورت ہو تو سامان بدل کر دیا جائے ۔