خلاصۂ قرآن (گیارہواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

گیارہواں پارہ ’’یعتذرون الیکم ‘‘ سے شروع ہے ،اس پارہ کی ابتداء میں منافقین کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دے دی کہ جب آپ مدینہ پہنچیں گے تو وہ آپ کے پاس اپنا عذر پیش کرنے کے لئے حاضر ہوں گے ،مگر یہ لوگ اپنے عذر میں جھوٹے ہیں ،اس میں اس جانب بھی اشارہ ہے کہ جب دین کے سلسلہ میں کوئی کام پیش آجائے تو تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں، ایک وہ جو فوری لبیک کہنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں ،دوسرے وہ ہوتے ہیں جو بہانہ بنا کر پیچھے رہ جاتے ہیں اور تیسرے وہ لوگ ہوتے ہیں جو نیت کے اعتبارسے صحیح ہوتے ہیں ، لیکن عذر یا وسائل کی کمی کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں ، یہ تینوں قسم کے لوگ برابر نہیں ہوتے ہیں ،دین کے کام میں بہانہ بنا کر پیچھے رھنا یہ منافقانہ رویہ ہے ،اس سلسلہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ جب دین کا کوئی کام ہو اور اس موقع پر لوگ عذر لے کر آپ کے پاس حاضر ہوں اور اس کام میں شرکت سے معذرت کریں تو آپ اس کی جانچ کریں کہ اس کا عذر صحیح ہے یا بہانہ ہے؟اگر عذر صحیح ہو تو آپ شرکت نہ کرنے کی اجازت دیں ،اور اگر بہانہ ہو تو عذر کو قبول نہ کریں ، اس کے بعد مومنین مخلصین کا ذکر ہے کہ جو مسلمان غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے ،وہ دس تھے ،ان میں سے اس آیت میں سات حضرات کا ذکر ہے جنہیں اپنی غلطی پر ندامت ہوئی اور انہوںنے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا یہ کہہ کر کہ جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں معاف کر کے نہیں کھولیں گے اس وقت تک ہم یہیں بندھے رہیں گے ،پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی تو انہیں کھول دیا گیا ،پھر مسجد ضرار کا تذکرہ ہے یعنی منافقین نے سازش کے تحت مسجد بنائی تاکہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے خلاف محاذآرائی کی جائے ،انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ اس میں نماز پڑھا دیں تاکہ برکت ہو ،اللہ تعالیٰ نے حقیقت کھول دی ،اور نماز پڑھنے سے منع کر دیا ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھیج کر اس کو منہدم کرا دیا ،پھر اس کے بعد مسجد قباء اور اہل قبا ء کا ذکر ہے کہ اہل قباء نے مسجد قباء کی تعمیر تقوی پر کی ھے ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ جا رہے تھے تو آپ نے قباء پہنچ کر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی ،پھر اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی تعریف کی، اس کے بعد دعوت ایمان پر سبقت کر نے والوں کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ سے راضی ہیں اور اللہ ان سے راضی ہے ، اور جو اللہ کے رب، اسلا م کے دین اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہو نے پر راضی ہو،اور وہ اللہ کے ہر حکم کو دل سے قبول کرتا ہو ، اللہ اس سے راضی ھے ،پھر یہ تعلیم دی گئی کہ نیکی کے کام میں سبقت کرنا اللہ کے قرب کا ذریعہ ہے ،پھر بتایا گیا کہ جن کے اعمال میں نیک اور بد دونوں ملے ہوتے ہوں اور وہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کر لیں تو استغفار کے بعد اللہ معاف کرنے والا ہے ، مسلمانوں کو یہ بھی تعلیم دی گئی ہے کہ جب گناہ ہو جائے تو صدقہ ادا کریں کیو نکہ صدقہ گناہوں کو دور کرنے کا ، اور اللہ کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کا ذریعہ ہے،پھر بتایا کہ اللہ کے دین کے نام پر خواہ کتنا ہی بڑا کام کیوں نہ کیا جائے ،اس میں تقویٰ اور اللہ کی رضا شامل نہ ہو تو اس کی قبولیت نہیں ہوتی ،کسی کام میں اخلاص کی وجہ سے اس کو قبولیت حا صل ہوتی ہے، جو کو ئی مسجد بنائے اور اس میں ریا اور د کھاوا نہ ہو ، اس کا اجر جنت ہے ،پھر اس کے بعد تعلیم دی گئی کہ جو بھی کام کیا جائے اس میں نیت اللہ کی رضا ہو ،اور اس نیت کی تجدید بار بار ہونی چاہئے ،پھر یہ بتایا گیا کہ وہ کون سے اعمال ہیں جن کی وجہ سے اللہ نے ان کی جان ومال جنت کے بدلے میں خرید لئے ہیں ،وہ اعمال یہ ہیں کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرے ،اللہ سے کئے گئے وعدہ کی پاسداری ہو ،آدمی زیادہ سے زیادہ توبہ کرے،عبادت اور اللہ کی حمد کرے ،روزہ رکھے ،رکوع اور سجدہ کرے ،نیکی کا حکم دے اور بُرائی سے روکے ، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرے، اس پارہ میں سورہ یونس بھی ہے ،اس میں توحید ،رسالت اور آخرت پر زیادہ زور دیا گیا ہے ،مشرکین کے اعتراضات کا ذکر کرکے ان کا جواب دیا گیا ہے،اور ان کی ہٹ دھرمی کو بیان کیا گیا ہے ،پھر قرآن کی صداقت بیان کی گئی ہے ، اس کے بعد حضرت نوح علیہ السلام ،حضرت موسیٰ اور فرعون کے واقعہ کو بھی بیان کیا گیا ہے۔