خلاصۂ قرآن (بارہواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

بارھواں پارہ ’’ومامن دابۃفی الارض‘‘ سے شروع ہے یعنی زمین میں کوئی ایسا جاندار نہیں جس کو اللہ کی طرف سے روزی نہ ملتی ہو ،اللہ ہی جانتا ہے کہ انسان کہاں زندگی گـذارے گا اور کہاں اس کو موت آئے گی اور وہ کہاں دفن کیا جائے گا ،غرض رزق کا مالک بھی اللہ ہی ہے اور موت وحیات کا مالک بھی وہی ہے ،اس کے بعد حضرت نوح ،ھود ،صا لح ،لوط، شعیب اور موسیٰ علیہم السلام کا تذکرہ ہے کہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچایا ،توحید کی دعوت دی اور دین کی طرف بلایا تو ان کی قوم کے لوگوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ،پھر رسولوں کی بات نہ ماننے کی وجہ سے ان قوموں کا کیا انجام ہو ا، اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے ،گذشتہ رسولوں کے تذکرہ کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوتعلیم دی گئی کہ جب بھی اللہ کے کوئی رسول حق کی دعوت لے کر آئے تو ان کی قوم کے لوگوں نے ان کو جھٹلا یا اور ان کی تکذیب کی ،اس لئے اگر آپ کی قوم کے لوگ آپ کی تکذیب کر رہے ہیں ، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ،جس طرح گذشتہ نبیوں اور رسولوں نے صبر سے کام لیا ، اسی طرح آپ بھی صبر سے کام لیجئے ، یقیناً اللہ اپنے دین کو غالب کرے گا اور مسلمانوں کو غلبہ نصیب ہوگا ۔اس پارہ میں قرآن کریم کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ قرآن اپنی آیات ،معانی اور مضامین کے اعتبار سے محکم کتاب ہے ، اس میں کسی طرح کی کمی نہیں ہے ، نہ اس میں کوئی تعارض ہے اس کے محکم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ اس ذات کا کلا م ہے جو حکیم ہے اور خبیر بھی ہے ، اس کا ہر حکم حکمت سے لبریز ہے ، اور ساتھ ہی منکرین کو چیلنج بھی کیا گیا ہے کہ اگر واقعی قرآن کو کسی انسان نے بنایا ہے جیسا کہ تم کہتے ہو تو تم بھی اس جیسی دس سورتیں بنا کر لے آؤ ،اس میں توحید کے لئے دلائل بھی پیش کئے گئے ہیں کہ تمام مخلوقات کو رزق دینے والا اللہ ہی ہے ،خواہ وہ انسان ہو یا جنات ، چوپائے ہو یا پرندے ،مچھلیاں ہو ں یا رینگنے والے کیڑے مکوڑے ،یہی نہیں آسمانوں اور زمین کو اسی نے پیدا کیا ہے ، یہ سب اللہ کی وحدانیت پر دلیل ہیں ، پھر اس کے بعد رسالت کے اثبات کے لئے سات انبیائے کرام علیہم السلام کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ،حضرت نوح علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا اور بتایا گیا کہ ان کی قوم کے صرف چند لوگ ہی ایمان لائے ،انہوں نے اللہ کے حکم سے کشتی بنائی ،اللہ تعالیٰ نے پانی کا طوفان بھیجا ،اللہ تعالیٰ نے ایمان قبول کرنے والوں کو بچا لیا اور جو لوگ ایمان نہیں لائے وہ غرقاب کر دئیے گئے ،ھود علیہ السلام کی قوم میں سے جو ایمان لے آئے وہ کامیاب رہے بقیہ سرکشی کرنے والوں پر اللہ نے سخت طوفانی ہو ا بھیج کر ان کو ہلاک کر دیا ،صالح علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے ان سے فرمائش کی کہ پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دیکھا ئیے ،چنانچہ اللہ نے ان کے معجزہ سے پہاڑ سے اونٹنی نکال دیا ،اللہ نے ان کی قوم کے لوگوں کو حکم دیا کہ اس اونٹنی کو کوئی تکلیف نہ پہنچا نا ،مگر ان لوگوں نے اسے مار ڈالا ،اس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہو گیا ،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی کو بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے بیٹا اسحٰق عطا فرمایا ، اور پھر ان کو بیٹا یعقوب عطا کیا ،یہ اللہ کی بڑی نعمت تھی ،حضرت لوط علیہ السلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ان کی قوم کے لوگ بدکار تھے ،عورتوں کے بجائے لڑکوں کی طرف رغبت رکھتے تھے ،کچھ فرشتے خوبصورت جوان کی شکل میں حضرت لوط علیہ السلام کے پاس آئے ،ان کی قوم کے بدکار لوگ وہاں پہنچ گئے اور ان سے ان لڑکو ں کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کرنے لگے ،انہوں نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ لڑ کیوں سے شادی کر لو ،مگر وہ نہ مانے تو ان پر اللہ کا عذاب آگیا ، اللہ نے اس بستی کو الٹ دیا او ر ان پر پتھروں کا عذاب نازل کر دیا ،حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بیان کیا گیا کہ وہ لوگ ناپ اور تول میں کمی کرتے تھے ،انہوں نے اس برے کام سے منع کیا ،مگر وہ لوگ نہ مانے تو اللہ نے ان پر چیخ کا عذاب نازل کر دیا ،اتنی زور کی آواز ہوئی کہ سب ہلا ک ہو گئے ،حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ نے فرعون کے پاس بھیجا ،انہوں نے فرعون کو دین کی دعوت دی ،مگر اس نے نہیں مانا تو اللہ نے اس کو اور اس کے ماننے والوں کو سمندر میں غرق کر دیا ۔ان واقعات کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی اور مسلمانوں کو استقامت کا حکم دیا، اس کے بعد سورہ یوسف شروع ہے جس میں حضرت یوسف علیہ السلام نے کیا خواب دیکھا ،ان کے بھا ئیوں نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا اور پھر کیسے ان کو کنویں میں ڈال دیا ،قافلہ نے ان کو خرید کر مصر کے بازار میں بیچ دیا ، یہ سب واقعات بیان کئے گئے ہیں ، پھر کیسے عزیز مصر کی بیوی نے ان کو اپنی محبت میں پھنسایا ،اس واقعہ کا کچھ حصہ بھی اس پارہ کے آخر میں بیان کیا گیا ہے ۔