شمشیر بے نیام: ایک سر سری نظر

ازقلم: مدثراحمد، شیموگہ کرناٹک
9986437327

چلئے ہم اور آپ مسلمانوں کے حالات پر ایک سر سری نظر ڈالیں ۔ مسلمانوں کا مالدار طبقہ دولت جمع کرنے اور پراپرٹیز خریدنے میں لگا ہوا ہے ، نوجوان طبقہ آئی پی یل کھیلنے ، دیکھنے اور اس پر جوابازی کرنے میں لگاہواہے ، نوجوان لڑکیاں سوشیل میڈیا پر گانے لگانے ، تھرکنے اور ٹک ٹاک ویڈیوز بنانے میں مصروف ہے ۔ گھریلو خواتین موبائل پر ویڈیوز دیکھنے اور بچے ہوئے وقت میں شاپنگ کرنے میں لگی ہوئی ہیں ۔ کم سن بچوں کو کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں ہے ، کئی بچے بے راہ روی کا شکار ہوچکے ہیں ، کچھ نشے باز تو کچھ غنڈہ گردی کو اپنی زندگی کا حصہ بنا چکے ہیں ۔ اہل علم طبقہ بحث و مباحثوں میں لگے ہوئے ہیں ۔ سیاستدان اپنی تجوریاں بھر نے اور اپنے مفادات کے لئے زندگی گزار رہاہے اور جو دانشور یا نصیحت کرنے والے لوگ ہیں وہ سماج میں بے کار کہلائے جارہے ہیں ۔ اس طرح سے امت مسلمہ کا ایک سر سری نقشہ ہمارے سامنے ہے ۔جس قوم کو ایک جسم کہا گیا ہے اس جسم کا پوسٹ مارٹم ہورہاہے ۔ وہیں مسلمانوں کے خلاف محاذ آر ہونے والے سنگھ پریوار کے لوگ ان کے اپنوںمیں اتحاد پیدا کررہے ہیں ، سینکڑوں ذاتوں پر مشتمل ہندو قوم آج متحد ہورہی ہے ۔ اپنے کاروبار کو فروغ دے رہے ہیں ، اپنے تعلیمی اداروں کو بڑھاوا دے رہے ہیں ، اپنی عبادت گاہوں کو محفوظ بنارہے ہیں ۔ دم بہ دم اپنے میڈیا ہائوز بنارہے ہیں ۔ اپنے نوجوانوں کو تعلیم سے آراستہ کررہے ہیں ۔ اپنی قوم کے نوجوانوں کو سرکاری نوکریوں میں شامل ہونے کے لئے ہمت افزائی کررہے ہیں ۔ اپنی قوم کی فلاح و بہبودی کے لئے فنڈس اکھٹا کررہے ہیں ۔ اسپتالوں کی تعمیر کی جارہی ہے ۔ یل کے جی سے لے کر یونیورسٹیوں تک کا قیام کیا جارہاہے ۔ پھول منڈی سے لے کر شیئر مارکیٹ تک ان کا غلبہ ہے ۔ لیکن مسلمانوں کے یہاں کیا ہے ؟۔ مسلمانوں کے مالدار یہاں زمین ، وہاں زمین لے رہے ہیں ، ان زمینوں کو برسوں بیکار رکھ رہے ہیں ۔ تجارت میں مارواڑیوں کے غلام بن چکے ہیں ، مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کو کمزور کرنے ، بدنام کرنے کا کام خود کررہے ہیں ۔ کسی کو مستقبل کی کوئی فکر نہیں ہے ۔ نوجوان اپنے ہاتھوں  میں  ہزاروں  لاکھوں  روپیوں کے موبائل پکڑے گھوم رہے ہیں چاہے وہ قرضے پر لئے گئے ہوں یا پھر چوری کے خریدے ہوئے ہوں ۔ مسلمانوں کی عورتیں رمضان میں گروہ بناکر مانگنے کے لئے سڑکوں پر اتر آئی ہیں ان میں کئی تو اچھے خاصے گھرانے کی عورتیں بھی ہیں ۔ اکائونٹ میں کچھ پیسے بچت کے ہوں یا نہ ہوں لیکن ماہانہ شاپنگ ، ہفتے میںایک دفعہ ائوٹنگ یا ٹور پر نکلنا مسلمانوں کا شیوہ بن چکاہے ۔ جب تعلیم کی بات آتی ہے تو وہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ کم سے کم قیمت میں انکے بچوں کی تعلیم ہو، اسکے لئے وہ کتنے ہی جھوٹ کیوں نہ کہیں ، خاص طورپر مسلم تعلیمی اداروں کا رخ کرتے ہیں انکے پاس فیس دینے کے لئے تک پیسے نہیں ہوتے ۔ وہی عید پر ایک بھاری ، دو معمولی کپڑے خریدنے کے لئے استطاعت رکھتے ہیں اور خریداری بھی مسلم تاجروں کے یہاں نہیں کی جاتی کیو نکہ انہیں مسلمانوں کے دکانوں کا مال اچھا نہیں لگتا ۔ انہیں مسلمانوں کے تعلیمی اداروں کی تعلیم اچھی نہیں لگتی ۔ یہ محسوس کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے ماحول میں تعلیم حاصل کرنے سے انکے بچوں کی زندگی روشن نہیں ہوتی ۔ آخر کب تک مسلمان اس تنگ نظری کا شکار رہیں گے ۔ جو قومیں کل تک مسلمانوں کے لئے حقیر ہوا کرتی تھیں آج وہی قومیں مسلمانوں پر مسلط ہونے لگی ہیں ۔ کل تک مسلم نوجوان طاقت ، شجاعت اور ہمت کے پیکر تھے ، آج وہی نوجوان نشے کے عادی ، ماڈلنگ ، ڈریسنگ اور ٹائم ویسٹنگ کے نمونے بن چکے ہیں ۔ اب بھی کچھ وقت بچا ہے ۔ مسلمان اگر ذلیل و خوار ہوکر اپنا خاتمہ کروانے سے بچنا چاہتے ہیں تو اپنی زندگیوں کو بامقصد بنائیں ورنہ تنکوں کی طرح روندھ دئے جائیں گے۔