زکوٰۃ؛ فضائل ومسائل

ازقلم: محمد ندیم الدین قاسمی، مدرس ادارہ اشرف العلوم، حیدرآباد

زکوۃ ،نہ صرف یہ کہ دینِ اسلام  کا ایک اہم رکن ہے ،بلکہ مال کی پاکیزگی اور تزکیۂ نفس کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے تقریباً ۸۲ مقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کو ذکر فرمایا ہے ، جس سے اس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے،حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں: جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا ، قیامت کے دن اس کا مال گنجے سانپ کی شکل میں اس کی گردن میں ڈال دیا جائے گا۔ (بخاری : باب اثم مانع الزکوۃ ، ۱۳۱۵ )

زکوۃ کا مقصد

زکوۃ کا اصل مقصد جہاں  قوم کے ان نادار اور غریب لوگوں کی اعانت ونصرت ہے جو عارضی یا مستقل اسباب کی بنا پر اپنی ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے سے عاجز رہتے ہیں، جیسے یتیم بچے، بیوہ عورتیں، معذور افراد، عا م فقراء ومساکین وغیرہ ، وہیں رضائے الہی ، قلب و مال کی تطہیر وتزکیہ ، اور مال کی حرص ومحبت سے پیدا ہونے والے اخلاقی رذائل سے صفائی بھی مقصود ہے ۔

زکوۃ کے دینی و دنیوی فوائد:

اکثر عبادات کے ثواب اور بدلہ کا وعدہ آخرت کی زندگی میں کیا گیا ؛ مگر زکوۃ وصدقات کے لئے جہاں آخرت میں عظیم الشان اجر وثواب کا ذکر ہے وہیں دنیوی نقد فائدہ کو بھی بتایا گیا ہے ؛ چناں چہ حدیث میں ہے :
۱۔صدقہ دینے میں جلدی کیا کرو ؛ اس لئے کہ مصیبت، صدقہ سے آگے نہیں بڑھتی۔( مشکوۃ المصابیح ۱/ ۱۶۸)
۲۔ایک حدیث میں ہے :
بے شک صدقہ اللہ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتا ہے ، اور بری موت سے بچاتا ہے ۔(ترمذی ۱/۱۴۴)
۳۔ایک حدیث میں ہے :
زکوۃ ادا کرکے اپنے اموال کی مضبوط حفاظت کا انتظام کرو،اور صدقہ کے ذریعہ اپنے مریضوں کا علاج کرو،اور دعا کے ذریعہ آسمانوں کے طوفانوں کا مقابلہ کرو۔(طبرانی وابوداود)
یہ تو دنیوی فائدے ہیں ،مگر اخروی منافع جو اصل مقصود ہیں وہ  تو بے شمار ہیں:
۱۔زکوۃ وصدقات میں خرچ گویاکہ اللہ کے ساتھ تجارت ہے، جس میں نقصان کا اندیشہ ہی نہیں۔( فاطر آیت ۲۹)
۲۔جوشخص زکوۃ وصدقات ادا کرے گا وہ جنت کے ایک مخصوص دروازہ ” باب الصدقہ” سے داخل ہوگا۔(مشکوۃ، ۱/۱۶۷)
۳۔ یہ صدقہ ہمارے لئے سائبان ہوگا( مشکوۃ،۱/۱۷۰)

زکات نہ د ینے کے نقصانات:

۱۔جو مال دار، زکوٰۃ نہیں دیتے،بے شک اللہ عزّوجلّ ان مال داروں سے سخت حساب لیں گے اور ان کو درد ناک عذاب دیں گے۔(المعجم الصغیر للطبرانی۲/ ۲۷۵)
۲۔حضرت ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ارشاد فرمایا: جو لوگ زکوٰۃ ادا نہیں کرتے ان سے بارش روک لی جاتی ہے، اور اگر جانور نہ ہوتے تو بارش کا ایک قطرہ بھی نہ برستا۔ (المعجم الکبیر للطبرانی۱۲/۴۴۶)

۳۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:خشکی ہو یا سمندر، جہاں بھی مال ضائع ہوتا ہے وہ زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے ہوتا ہے۔(الترغیب والترہیب ۱/۳۰۸)

۴۔نبی کریم ﷺ کے پاس دو عورتیں آئیں اور ان دونوں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنے ہوئے تھے، آپ ﷺ نے ان دونوں سے دریافت فرمایا کہ کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟ انہوں نے عرض کیا:نہیں! آپﷺ نے فرمایا:کیا تم یہ بات پسند کرتی ہو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے کنگن پہنائے؟ انہوں نے عرض کیاکہ نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا:ان کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔(سنن الترمذی ۲/۲۲۲)

زکوۃ کا نصاب

چاندی  کا نصاب موجودہ اوزان کے اعتبار سے ۶۱۲؍ گرام ، ۳۶۰؍  ملی گرام چاندی ہے ، اور  سونے کا نصاب موجودہ اوزان کے اعتبار سے ۸۷؍گرام ، ۴۸۰؍ملی گرام سونا ہے ،یا تجارت کا سامان ۶۱۲/ گرام ، ۳۶۰ ملی گرام چاندی  یا ۸۷ گرام ،۴۸۰ ملی گرام  سونے کی قیمت کے برابر ہو جائے یا نقد روپئے ، سونے یا چاندی کے نصاب کے برابر ہو یا سونا، چاندی ، تجارت کا سامان اور نقد روپئے یہ سب ملاکر چاندی کے  نصاب کو پہنچ جائے  تو وہ "صاحب نصاب” ہے،ایک سال گذر جانے پر ان کی زکوٰة ادا کرنا لازم ہے۔ ( مستفاد از کتاب المسائل ۲۱۳/ ۲)

زکوۃ کے مستحق افراد

ہر وہ شخص  جس کے  پاس بنیادی ضرورت اور استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان نہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر یا اس سے زائد ہو ،  اور وہ  سید/ ہاشمی نہ ہو، وہ زکات کا مستحق ہے ،  اسی طرح اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو، اس کے علاوہ ضرورت سے زائد نقدی، چاندی، مالِ تجارت یا استعمال سے زائد کوئی سامان یا چیز نہ ہو، تو جب تک ساڑھے سات تولہ سونا اس کی ملکیت میں نہ ہو وہ زکات کا مستحق ہوگا۔ اپنے اصول : باپ ،دادا ،دادی، نانی اوپر تک،اپنے فروع : بیٹا بیٹی، پوتا پوتی،  اسی طرح  میاں بیوی کا ایک دوسرے کو زکات دینا جائز نہیں ہے۔اس کے علاوہ رشتہ داروں میں اگر کوئی فرد موجود ہو  تو  اسے زکات دینے میں دوہرا اجر ہوگا، زکات دینے کا بھی اور صلہ رحمی کا بھی۔ (شامی ،کتاب الزکوۃ)

کچھ اہم مسائل

۱۔اگر کوئی شخص فلیٹ  وغیرہ تجارت کی نیت سے خریدا تھا،پھر اس کو کرایہ پر دیدیا، تو اب اس فلیٹ کی قیمت پر زکوۃ واجب نہیں ہوگی؛ البتہ اگر کرایہ کی آمدنی نصاب کے بقدر ہو تو حسبِ شرائط اس پر زکوۃ واجب ہوگی۔( کتا ب المسائل ۲۱۵ /۲)
۲۔ اداء زکوۃ کے وجوب کے لئے قمری سال کا اعتبار ہوگا  نہ کہ شمسی سال کا (کتاب المسائل ۲۱۲/۲)
۳ حج یا شادی  کے لئے رکھے ہوئے پیسوں پر بھی زکوۃ واجب ہے۔( شامی ۳ /۱۷۹)
۴۔ دورانِ سال نصاب میں جس قدر اضافہ ہوگا ، اس سب پر سال کے اخیر میں زکوۃ واجب ہوگی،یعنی جس دن سال پورا ہوا اس دن کا بیلنس دیکھ کر کل مال پر زکوۃ واجب ہوگی۔( کتاب  المسائل ۲/۲۱۱)
۵۔کسی مستحق شخص کو زکاۃ  کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا لازم نہیں ہے کہ  یہ زکاۃ کی رقم ہے، بلکہ مستحقِ  زکاۃ غریب کو زکاۃ کی رقم ،ہدیہ /ہبہ کے نام سے دی جائے تو بھی زکاۃ ادا ہوجائے گی، بشرطیکہ زکاۃ ادا کرنے والے کے دل میں زکاۃ  دینے کی نیت ہو۔( ہندیہ1/ 171)
۶۔ زکوۃ ،صرف اس پلاٹ پر واجب ہوتی ہے جو بلا کسی تردد صرف بیچنے کی نیت سے خریدا جائے اور پھر اس نیت پر برقرار بھی رہا جائے، اور جس پلاٹ میں بیچنے کی نیت بالکل نہ ہو یا بیچنے کی نیت برقرار نہ رہے یا خریدتے وقت ہی بیچنے کی نیت مشکوک ہو یا خریدنے کے بعد مشکوک ہوجائے، یعنی: خریدتے وقت بیچنے کے ساتھ مکان یا دوکان بنانے یا اولاد کو ہبہ کرنے وغیرہ کی بھی نیت ہو یا خریدنے کے بعد ان میں سے کوئی نیت بھی ہوجائے تو اس پر زکاة واجب نہیں۔(شامی : کتاب الزکوۃ ،۳/۱۹۳)۔