قرآنی تعارف: سورۂ رعد

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

اس سورۃ مبارکہ کا نام ’’الرعد‘‘ ہے کیونکہ اس کی آیت میں یہ کلمہ مستعمل ہے۔ ’’یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ‘‘ اس کی آیات تعداد ۴۳ ہے۔ ۸۵۵ کلمات اور ۶۰۵,۳ حروف پر مشتمل ہے۔ اس کے ۶ رکوع ہیں۔
اس سورۃکا نزول مکہ میں ہوا یا مدینہ طیبہ میں ؟ اس بارے میں علماء کی آراء مختلف ہیں۔ خود حضرت ابن عباسؓ سے دونوں قول مروی ہیں۔ آیات کا مضمون مکی سورتوں سے بڑی مناسبت رکھتا ہے۔ علامہ آلوسی نے یہ کہہ کر اس اختلاف کو ختم کیا ہے کہ یہ سورت مکی ہے لیکن اس میں کئی آیتیں ایسی بھی ہیں جو مدنی ہیں (روح المعانی، ضیاء القرآن) ۔
الرعد کو اس سورۃ کا نام قرار دیا گیا ہے۔ رکوع ۴ اور رکوع ۶ کے مضامین شہادت دیتے ہیں کہ یہ سورۃ بھی اسی دور کی ہے جس میں سورۃ یونس ، ہود اور اعراف نازل ہوئی ہیں۔
یعنی زمانہ قیام مکہ کا آخری دور ، انداز بیان سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ حضرت نبی ا کو اسلام کی دعوت دیتے ہوئے ایک مدت دراز گزر چکی ہے، مخالفین آپ ا کو زک دینے اور آپ ا کے مشن کو ناکام کرنے کیلئے طرح طرح کی چالیں چلتے رہے ہیں۔
مومن بار بار تمنائیں کررہے ہیں کہ کاش کوئی معجزہ دکھاکر ہی ان لوگوں کو راہ راست پر لایاجائے اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو سمجھا رہا ہے کہ ایمان کی راہ دکھانے کا یہ طریقہ میرے ہاں رائج نہیں ہے اور اگر دشمنان حق کی رسی دراز ہورہی ہے تو یہ ایسی بات نہیں ہے جس سے تم گھبراؤ۔ پھر آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بار بار کفار کی ہٹ دھرمی کا ایسا مظاہرہ ہوچکا ہے جس کے بعد یہ کہنا بالکل بجا معلوم ہوتاہے کہ اگر قبروں سے مُردے بھی اُٹھ کر آجائیں تو یہ لوگ نہ مانیں گے بلکہ اس واقعہ کو بھی کوئی نہ کوئی تاویل کر ڈالیں گے۔
ان سب باتوں سے یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ سورۃ مکہ کے آخری دور میں نازل ہوئی ہوگی۔ سورۃ کا مدعا پہلی ہی آیت میں پیش کردیا گیا ہے ، یعنی یہ کہ جو کچھ حضرت محمد مصطفی ا پیش کررہے ہیں وہی حق ہے۔ مگر یہ لوگوں کی غلطی ہے کہ وہ اسے نہیں مانتے۔ ساری تقریر اسی مرکزی مضمون کے گرد گھومتی ہے۔ اس سلسلے میں بار بار مختلف طریقوں سے توحید ، معاد اور رسالت ی حقانیت ثابت کی گئی ہے۔ ان پر ایمان لانے کے اخلاقی و روحانی فوائد سمجھائے گئے ہیں۔ ان کو نہ ماننے کے نقصانات بتائے گئے ہیں اور یہ ذہن نشین کیا گیا ہے کہ کفر سراسر ایک حماقت اور جہالت ہے۔ پھر چونکہ اس سارے بیان کا مقصد محض دماغوں کو مطمئن کرنا ہی نہیں ہے ، دلوں کو ایمان کی طرف کھینچنا بھی ہے۔ اس لئے منطقی استدلال سے کام نہیں لیا گیا ہے بلکہ ایک ایک دلیل اور ایک ایک شہادت کو پیش کرنے کے بعد ٹھہر کر طرح طرح سے تخویف ، ترہیب ، ترغیب اور مشفقانہ تلقین کی گئی ہے تاکہ نادان لوگ اپنی گمراہانہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں۔ ( ت ق جلد دوم ص ۴۴۰)