قرآنی تعارف: سورۂ حج

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

جمہور کی رائے یہ ہے کہ یہ سورۃ الحج مکی آیات اور مدنی آیات کا مجموعہ ہے۔ روح المعانی اس میں دس رکوع اور آیات کی تعداد ۷۸ ہے۔
زمانہ نزول اس طرح ہے کہ نبی ا کی مکی حیات طیبہ کے آخر میں نازل ہوئی اور مدنی زندگی کے آغاز پر اس کا نزول ہوا۔اس کے مضامین کچھ اس طرح ہیں کفار کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلئے قیامت کی ہولناکیاں بیان کی گئیں اور انھیں سمجھایا گیا کہ اس سے پیشتر کہ وہ فیصلہ کن گھڑی آجائے تم چشم ہوش سے کام لیتے ہوئے اس دعوت توحید کو صدق دل سے قبول کرلو۔
مشرکین مکہ کی اس روش پر گرفت کی گئی ہے کہ اُنھوں نے مسلمانوں کے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے حالانکہ مسجد حرام ان کی ذاتی جائیداد نہیں ہے اور وہ کسی کو حج سے روکنے کا حق نہیں رکھتے۔ اس سلسلہ میں مسجد حرام کی تاریخ بیان کرتے ہوئے ایک طرف یہ بتایا گیا ہے کہ ابراہیم ں نے جب خدا کے حکم سے اسے تعمیر کیا تھا تو سب لوگوں کو حج کا اذن عام دیا تھا۔ وہاں اول روز سے مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق یکساں قرار دیئے گئے۔
دوسری طرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ گھر شرک کیلئے نہیں بلکہ خدائے واحد کی بندگی کیلئے تعمیر ہوا۔ اب یہ کیا غضب ہے کہ وہاں ایک خدا کی بندگی تو ممنوع ہے اور بتوں کی پرستش کیلئے پوری آزادی۔
تیسری بات یہ کہ مسلمانوں کو قریش کے ظلم کا جواب طاقت سے دینے کی اجازت عطاء کی گئی ہے اور ساتھ ساتھ ان کو یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جب تمہیں اقتدار حاصل ہو تو تمہاری روش کیا ہونی چاہئے اور اپنی حکومت میں تم کو کس مقصد کے لئے کام کرنا چاہئے۔ (یہ مضمون سورہ کے وسط میں بھی ہے)
آخر میں گروہ اہل ایمان کیلئے مسلم کے نام کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ ابراہیم ںکے اصل جانشین تم لوگ ہو ، تمہیں اس خدمت کیلئے منتخب کرلیا گیا ہے کہ دنیا میں شہادت علی الناس کے مقام پر کھڑے ہو۔ اب تمہیں اقامت صلوٰۃ ، ایتائے زکوٰۃ اور فصل خیرات سے اپنی زندگی کو بہترین نمونے کی زندگی بنانا چاہئے۔