خلاصۂ قرآن(چودھواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

چودھواں پارہ ’’ربمایودالذین‘‘ سے شروع ہے، اس میں نیک اعمال کرنے کا پیغام ،سرکشی اور تکبر کرنے والوں کے احوال کا ذکر ہے ، جو دنیا کی زندگی میں مگن رہتے ہیں ،اورجنہیں جھوٹی امیدوں نے بہلاوے میں ڈال دیا ہے ، قیامت کے دن وہ پچتائیں گے ،اور کہیں گے کاش ! ہم فرمانبردار ہوتے ، اللہ تعالیٰ نے لوگوں سے کہا کہ اس نے یاد دہانی کے لئے قرآن نازل کیا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے ،اس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ابلیس نے ٹھا ن لیا ہے کہ وہ دنیا کے فریب میں تم کو مبتلا کر دے اور بہکا دے، اس سے ہو شیار رہو ، اس کا بس ان ہی لوگوں پر چلے گا جو اس کی پیروی کریں گے ،اور اپنے لئے گمراہی پسند کریں گے ، اس لئے تمہیں ہوشیار رہنا چاہئے ،اور اللہ کی ناراضگی سے بچنے کے لئے سامان کرنا چاہئے ،قوم لوط کے حالات بیان کرکے کہا گیا کہ اس سے عبرت حاصل کرو ، مگر جب انسان کے دل سے اللہ کا خوف نکل جاتا ہے تو انسان خواہشات کے نشہ میں اندھا ہو جاتا ہے ،اور پستی میں گر جاتا ہے ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کا ذکر کر کے کہا کہ اللہ نے تمہیں جن جن نعمتوں سے نوازا ہے ،اگر تم ان کو شمار کرنا چاہو تو تم شمار نہیں کر سکتے ،ان نعمتوں کا تقاضہ ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو ،مگر تم تکبر اور گھمنڈ میں پڑے ہو ،اور اللہ کی نا فرمانی کرتے ہو ،اس میں لوگوں کو تعلیم بھی دی گئی کہ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت سے دور رہو ،طاغوت سے مراد اللہ کے سوا ہر باطل طاقتیں ہیں ، اللہ تعالی نے مزید کہا کہ جو لوگ اللہ کے خلاف چال چل رہے ہیں ، وہ خبر دار ہو جائیں کہ اللہ ان کو کبھی بھی پکڑ سکتا ہے ، اس لئے تم اللہ سے ڈرو اور اس کی ناراضگی سے بچو ،ہر حال میں اللہ کو پکارو ،اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، اس کے بعد سورہ نمل شروع ہے ،اس میں اللہ تعالی ٰ نے اپنی نشانیوں کو بیان کیا ہے اس کی نشانیوں میں سے دودھ ،کھجور ،انگور ،شہد اور آس پاس کی چیزیں ہیں ،ان میں انسانوں کے لئے سبق ہے ،االلہ تعالی نے کہا کہ اس کی نعمتوں کو یاد کرو اور اس کا شکر ادا کرو ،جب تم پیدا ہوئے تھے تو کچھ نہیں جانتے تھے ، اللہ نے تم کو کان ،آنکھیں اور دل عطا کئے ،اس طرح خود تمہارے وجود میں بے شمار نشانیاں ہیں ،ان نعمتوں کا تقاضہ ہے کہ تم اللہ کا شکر ادا کرو ،اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرو ،پھر کفار ومشرکین اور سرکشی کرنے والوں کو متنبہہ کیا گیا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں ،اللہ کے راستہ سے روکتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ،اللہ ان کو عذاب دے گا، اس لئے تم انصاف کے علمبردار بنو ، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرو ،رشتہ داروں کی مدد کرو ،بے حیائی اور ظلم سے بچو ،اللہ کی نصیحتوں کو یاد رکھو ،اللہ سے جو عہد کیا ہے اس کو پورا کرو،اور جو قسم کھاؤ اس کو نہ توڑو،اور اپنی قسموں کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بناؤ، جو ایسا طریقہ اختیار کرے گا وہ دین اسلام کے راستہ سے الگ ہو جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اللہ سے جو عہدکیا ہے اس کا سودا نہ کرو ،اور جان لو کہ اللہ کے پاس جو ہے وہ زیادہ ہے اور جو تمہارے پاس ہے وہ ختم ہو جانے والا ہے ، اور اللہ کے پاس جو ہے وہ باقی رہنے والا ہے ،صبر اختیار کرو ،بہتر اعمال کر کے توشہ جمع کرو ،اللہ تمہارے نیک اعمال کا ضرور بدلہ دے گا ،جب قرآن پڑھو ، تو اللہ سے دعاء مانگو کہ وہ تمہیں شیطان سے محفوظ رکھے، تم ایمان پر قائم رہو ،اللہ پر بھروسہ کرو ،شیطان کو اپنا دوست نہ بناؤ ،اگر تم نے شیطان کو دوست بنایا یا اللہ کے ساتھ شرک کیا تو تم شیطان کے جال میں پھنس جاؤگے ،قرآن سے رشتہ مضبوط کرو ،اس سے تمہارا ایمان مضبوط ہو گا ،یہ کتاب مکمل ہدایت ہے ،فرمانبرداری کرنے والوں کے لئے اس میں بشارت ہے ، اللہ تعالی نے مزید کہا کہ دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح نہ دینا ورنہ تم تباہ ہو جاؤگے ،پھر تم اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے لگو گے اور اللہ کے بارے میں جھوٹ بھی گھرنے لگو گے ،پھر تمہارے دلوں پر مہر لگ جائے گی ،اور تم اللہ کی ہدایت سے محروم ہو جاؤ گے،اور بڑے عذاب میں پھنس جاؤ گے۔