بلگرام کے قدیم امام باڑہ پر قبضہ کی ناکام کوشش

بلگرام /ہردوئی( حافظ طریق احمد)
قصبہ کی قدیم عمارتوں میں شمار بڑا امام باڑہ پر کچھ لوگوں نے نئ سوسائٹی بناکر قبضہ کی ناکام کوشس کی ہے جبکہ قصبہ کے لوگ بتاتے ہیں کہ اطہر عباس رضوی امام باڑہ سوسائٹی کے صدر ہیں وہیں کچھ دنوں قبل وقف بورڈ کے زریعہ تشکیل دی گئ جدید سوسائٹی امام باڑہ پر اپنا دعوی پیش کررہی ہےلیکن موجودہ قدیمی سوسائٹی کے صدر نے اسے ساجش قرار دیا اور بتایا کہ جو کمیٹی بلگرام امام باڑہ پر اپنا دعوی پیش کررہی ہے وہ سانڈی قصبہ کے قاضی ٹولہ میں واقع امام باڑہ کی سوسائٹی ہے نہ کہ بلگرام کی بتایا جاتا ہے کہ بڑے امام باڑہ کی بنیا 1800عیسوی میں ہوئ جس کے حساب سے یہ امام باڑہ 222سال قدیم عمارتوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں نزاکت فاطمہ کا کوئ ق حاصل نہیں ہے امام باڑہ میں بیش قیمتی سونے چاندی کے عالم و چاندی کا تعزیہ اج بھی موجود ہیں جس کی دیکھ بھال موجودہ صدر اطہر عباس رضوی برسوں سے کرتے چلے ارہے ہیں اطہر عباس رضوی نے بتایا کہ ان سے وہ لوگ جبرن چابی لینے کا دباو بنارہے ہیں حالانہ نزاکت فاطمہ کا وقف بورڈ میں درج اندراج نمبر 888جس نمر کا کوئ تعلق حکیم مہندی علی خان کے زریعہ بنواے گے سید واڑہ بلگرام کے امام باڑہ سے نہیں ہے امامباڑہ 222سال پرانہ ہے اور ابادی بندوبست نمبر 186566کے مطابق امام باڑہ کا نمبر 3052/2594ہےاور اس نمبر پر امام باڑہ وبختہ مسجد درج ہے