خلاصۂ قرآن(پندرہواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

پندرہواں پارہ سبحان الذی اسری سے شروع ہے، اس میں دوسورہ ہے ایک سورہ بنی اسرائیل ہے اوردوسرا سورہ سورہ کہف ہے ۔ سورہ بنی اسرائیل واقعہ اسری سے شروع ہے ،یعنی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کومعراج کی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک پہنچایا اورپھر وہاں سے معراج کے لئے بلایا ،یہ جسمانی طور پر جاگنے کی حالت میں ہوا ،مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک کے سفر کو اسراء کہتے ہیں ، اور وہاں سے جنت وغیرہ کے سیر کو معراج کہتے ہیں ۔اس سورت میں بنی اسرائیل کو یہ بتایا گیا کہ تم دومرتبہ زمین میں فساد مچائوگے ،چنانچہ جب ان لوگوں نے حضرت شعیب علیہ السلام کو تکلیف پہنچائی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر بخت نصر کو مسلط کردیا، دوسری مرتبہ حضرت یحیٰ اورحضرت زکریا علیہما السلام کو شہید کردیا تو بابل کے بادشاہ کو ان پرمسلط کردیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی آداب واخلاق بیان کئے گئے ہیں ،وہ یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو، رشتہ داروں ،مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو، فضول خرچی سے بچو ،بخل نہ کرو، ہاتھ اتنا کشادہ نہ کرو کہ سارا مال ختم ہوجائے اورکل تمہیں پچتانا پڑے۔ اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے قتل نہ کرو، کسی جاندار کو ناحق قتل نہ کرو ،یتیم کے مال کو ناحق نہ کھائو ،عہد کرو تو اس کو پورا کرو ،ناپ تول میںکمی نہ کرو جس بات کے بارے میں تحقیق نہ ہو، اس کے پیچھے نہ پڑو ،زمین پراکڑ کر نہ چلو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اس کے بعد قرآن کی عظمت کا ذکر ہے۔ اس کے نزول کے مقاصد اوراس کو معجزہ قراردیا گیا ہے۔ پھر انسان کی تکریم کا ذکر ہے کہ اللہ نے انسان کو مکرم فرمایا ،اس کو روح اورزندگی جیسی عظمت عطا کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تہجد کا حکم دیا گیا، اس کے بعد فرعون اورموسیٰ علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہم نے موسیٰ کو نو (9) واضح نشانیاں عطا کیں ،وہ معجزات یہ ہیں ،عصاء, ید بیضا، زبان کی لکنت دور کردی اور بچپن میں بات کرایا ،سمندر کے دوحصے کردیئے ، موسی اور ان کے ماننے والوں کو بچایا اور فرعونیوں کو غرق کردیا، ٹڈی کا عذاب ،طوفان کا عذاب ، جوئیں اور گھن کا عذاب ،مینڈک کا عذاب ،اور خون کا عذاب ، پھر اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ آپ نمازمیں قرآن کی تلاوت کریں تو اعتدال اختیار کریں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں بلندآواز سے نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے ،تو مشرکین مکہ قرآن کریم کو سن کر مذاق اڑاتے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ ؐ کو حکم دیا کہ نماز میں قرآن کریم کو نہ تو بہت زور سے پڑھئے اورنہ بہت آہستہ ، بلکہ میانہ روی اختیار کیجئے۔
اسی سورت کی میں روح کی حقیقت سے گفتگو ہے یہود یا مشرکین مکہ نے رسول اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ روح کیاہے ؟ اصحاب کہف کون تھے؟ اور ذوالقرنین کا قصہ کیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ کل بتاونگا ،اور ان شاء اللہ کہنا بھول گئے ، اس لئے اللہ تعالی نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سب کی حقیقت نہیں بتائی ، پھر وہ لوگ دوسرے دن آئے ۔پھر آپ ص نے فرمایا ،کل بتاونگا ، اس طرح کچھ دن تک وحی بند رہی،اس لئے آپ بتا نہیں سکے، پھر پندرہ دنوں کے بعد یہ آیت اور سورہ کہف نازل ہوئی ،اس میں ہر ایک کی وضاحت بیان کی گئی ہے ،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دی گئی کہ جب بھی آپ کچھ کہیں تو ان شاء اللہ کہا کریں ، روح کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ان سے کہئے کہ یہ اللہ کا امر ہے ، اور بس ، یہ لوگ اس کی حقیقت کو سمجھ نہیں پائینگے ، کیونکہ روح کے بارے میں انسان کو بہت کم علم دیا گیا ھے ، البتہ آخری دوسوالوں کے جوابات سورہ کہف میں اللہ تعالیٰ نے تفصیل سے ذکر کئے ہیں ۔ اس میں اصحاب کہف کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے کہ وہ چند صاحب ایمان نوجوان تھے، جنہیں اس زمانہ کے بادشاہ نے بت پرستی پرمجبور کیا تھا۔ وہ ہراس شخص کو قتل کردیتا تھا جو اس کی بات نہیں مانتا تھا۔ ان نوجوانوں کو مال ودولت اور اونچے عہدوں کی لالچ دی گئی، دوسری طرف جان سے ماردینے کی دھمکی دی گئی، وہ نوجوانوں دین وایمان کی حفاظت کے لئے شہر سے نکل پڑے ،یہاں تک کہ شہر سے باہر ایک غار تک پہنچ گئے ،ایک کتا بھی ان کے ساتھ لگ گیا ، وہ بادشاہ کے ڈرسے غار میں چھپ گئے ۔غار میں اللہ نے ان کوسلادیا یہاں تک کہ وہ تین سونوسال تک سوتے رہے ، اللہ تعالی نے اس کے جسم کی حفاظت کا انتظام کیا ، وہاں سورج کی روشنی اور دھوپ پہنچتی تھی ،اور ان کے جسم میں حرکت بھی ھوتی تھی ، پھر جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو کھانے کی فکر ہوئی۔ تو ایک آدمی کو کھانا لانے کے لئے شہر بھیجا ، وہ جو سکہ لے کر گئے تھے وہ بہت پرانا تھا ،اس کی وجہ سے وہ پہچان لئے گئے ۔اس ظالم بادشاہ کا دورختم ہوچکا تھا، لوگوں نے ان نوجوانوں کو پہچان لیا ،چونکہ ان کا قصہ بہت مشہور ھو کا تھا ، وہاں کے لوگوں نے ان نوجوان کی خوب قدرومنزلت کی ،پھر ان کا انتقال ہوگیا ، تو لوگ آپس میں جھگڑنے لگے ،کسی نے کہا کہ ہم اس جگہ مسجد بنائیں گے وغیرہ ،اس کی تفصیل اس واقعہ میں مذکور ہے۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر کا واقعہ ہے ،ان کا واقعہ اگلے پارہ میں بیان کیا جائے گا۔ اس پارہ میں دومثالیں بھی پیش کی گئی ہیں، پہلی مثال یہ ہے کہ دوشخص تھے ،ایک مالدار تھا ، اس کے پاس باغ تھا ،اوردوسرا غریب تھا ،باغ والا گھمنڈ اورتکبر کرتا تھا ، غریب آدمی نے اس سے کہا کہ تم گھمنڈ اورتکبر نہ کرو ،باغ اللہ نے دیا ہے ،اس کا شکریہ ادا کرو اور ماشاء اللہ کہو ،مگر وہ نہ مانا ،تو اللہ کا عذاب آگیا، اوراس کا باغ جل کر خاک ہوگیا۔ پھر وہ شرمندہ ہوکر رہ گیا دوسری مثال دنیاوی زندگی کی ہے ،کہ دنیاوی زندگی کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے پانی برسا ،زمین سرسبز ہوگئی ، کچھ عرصہ کے بعد سب سوکھ کر ختم ہوگیا، اس طرح دنیا کی زندگی ہے اس میں پائیداری نہیں ہے ،جلد ختم ہوجانے والی ہے ،البتہ آخرت کی زندگی ھمیشہ رہنے والی ہے۔