خلاصۂ قرآن (سترہواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

سترہواں پارہ اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ سے شروع ہے،اس پارہ میں سورہ انبیاء اور سورہ حج ہے، اس کی ابتداء قیامت کے ذکر سے ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ قیامت کا وقوع اورحساب کا وقت بہت قریب آگیا ہے۔ اس کے باوجود لوگ غفلت میں پڑے ہیں ،یہ بھی بتایا گیا کہ جب قیامت بالکل قریب آئے گی تو یاجو ج اورماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہربلندی سے اتر رہے ہوں گے ، نیز مشرکین اور ان کے باطل معبود قیامت کے دن دوزخ کا ایندھن ہونگے ۔اس کے بعد رسالت کا ذکر ہے ،اس میں سترہ انبیائے کرام کا ذکر کیا گیا ہے۔ حضرت موسیٰ ،حضرت ہارون، ابراہیم، لوط، اسحاق، یعقوب، نوح، داود، سلیمان، ایوب ،اسمعیل ،ادریس ،ذی الکفل ،یونس ،زکریا ،یحیٰ ، اور عیسی علیہم السلام ،ان میں سے کچھ کے حالات تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں ، اورکچھ کے اجمالی طور پر بیان کئے گئے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کوبیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے ابراہیم علیہ السلام کی اعلیٰ قابلیت کی بنیاد پر رشد و ہدایت عطا کی تھی ،ان کی قوم بت پرست تھی ،خود ان کے والد بت بنا کر فروخت کیا کرتے تھے ،ان کی قوم کے لوگ جشن منانے چلے گئے ،حضرت ابراہیم علیہ السلاموقع پاکر بت خانہ میں چلے گئے اور تمام بتوں کو توڑدیا ،جب وہ لوگ آئے اور اپنے بتوں کی یہ حالت دیکھی تو آپس میں پوچھ گچھ کرنے لگے ، کہ کس نے ایسا کیا ؟ ،لوگوں نے بتایا کہ ایک نوجوان ہے ، جو بتوں کے بارے میں بُرا بھلا کہہ رہا تھا ، لوگوں نے یہ بھی کہا کہ اس کا نام ابراہیم ھے ، اس نے ایسا کیا ھوگا ،چنانچہ ان کو حاضر کیا گیا ،قوم کے لوگوں نے ان سے پوچھا ،کیا تم نے ایسا کیا ہے ؟ ،تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا ،نہیں ،بلکہ ان کے بڑے بت نے ایسا کیا ہے ،اگر ان میں بولنے کی صلاحیت ہے تو ان سے پوچھ لو،مگر ان کے بت بول نہیں سکے ،اور وہ عاجز رہ گئے ،اس طرح انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی ،اور بت پرستی سے منع کیا ،اسی میں حضرت سلیمان اور داؤد علیہ السلام کے فیصلہ کا بیان ہے ، پھر حضرت یونس علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ان کی قوم شرک میں مبتلا تھی ، انہوں نے ان کو سمجھایا ،مگر وہ لوگ نہیں مانے، تو یونس علیہ السلام نے کہا کہ اگر تم باز نہیں آئے تو تین دن بعد تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا، جب تین دن گذر گئے ،تو یونس علیہ السلام بستی چھوڑ کر باہر بھاگ گئے ،یونس علیہ السلام ایک دریا کے کنارے پہنچے ،ایک کشتی تیار تھی ، اس میں جگہ بھرچکی تھی ،مگر کشتی کے مالک نے کہنے سننے پر بیٹھا لیا ،یونس علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر روانہ ہوئے تھے اس لئے وہ اللہ کی گرفت میں آگئے ،کشتی بیچ میں پہنچی تو ڈگمگانے لگی ،لوگوں نے قرعہ نکالا کہ مجرم کون ھے ،جس کی وجہ سے کشتی ڈگمگا رہی ھے ؟ تو قرعہ میں یونس علیہ السلام کا نام نکل آیا ،چنانچہ اس زمانہ کے رواج کے مطابق ان کو لوگوں نے دریا میں پھینک دیا ، تو مچھلی نے نگل لیا ،پھر ایک مدت کے بعد مچھلی نے دریا کے ساحل پر ان کو پھینک دیا ، وہ نہایت ھی کمزور تھے ، اللہ تعالی نے ان کو قوت وطاقت عطا کرنے کے لئے اسباب فراہم کرانے ، یونس علیہ السلام اس عتاب میں اس لئے مبتلا ہوئے کہ اللہ کے حکم کے بغیر وہ بستی چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے، گذشتہ انبیائے کرام کے واقعات بیان کرنے کے بعد بتایا گیا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم سارے عالم کے لئے رحمت ہیں ۔انہوں نے اللہ کا پیغام سنا دیا ،مگر ہر قسم کے دلائل پیش کرنے کے بعد بھی لوگ نہیں سمجھے تو آپ نے اللہ سے دعا کی ، اس دعاء کا مفہوم یہ ہے ۔اے میرے رب! حق کا فیصلہ کردیجئے اور ہمارا رب بڑی رحمت والا ہے۔ اور جوباتیں تم بناتے ہو ان کے مقابلے میں اسی کی مدد درکار ہے۔ چنانچہ اللہ تعالی نے ہر طرح آپ کی مدد کی ، اس کے بعد توحید پردلائل پیش کرتے ہوئے اللہ نے بتایا کہ آسمان اورزمین دونوں ملے ہوئے تھے، ہم نے دونوں کو جدا جدا کردیا، ہم نے ہرجاندار کو پانی سے بنایا ،زمین میں پہاڑ بنائے تاکہ لوگوں کے بوجھ سے ہلنے نہ پائے، زمین میں کشادہ راستے بنائے تاکہ لوگ اس پر چلیں، آسمان کو مضبوط چھت بنایا، رات دن ،سورج اورچاند کا نظام قائم کیا، ہر ایک اپنے اپنے مدار پر گھوم رہے ہیں ،یہ ایک دوسرے سے ٹکراتے نہیں ہیں ، اس کے بعدسورہ حج شروع ہے، اس میں قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کیا گیا ہے،انسان کی تخلیق کے مراحل کو بیان کیا گیا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے بنایا، مٹی سے پیدا ہونے والی غذا سے منی بنایا، پھر خون کا لوتھڑا ،پھر بوٹی ،پھر جوان ،پھر بوڑھا بنایا، یہ ہیں تخلیق کے مراحل ،پھر انسانوں نے اپنے گروہ بنالئے ان میں سے بعض مسلمان ہیں بعض یہودی ہیں ،بعض صابی یعنی ستارہ پرست ،بعض عیسائی ہیں تو بعض مشرک ،اس کے بعد اس کا ذکر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی،بیت اللہ کی پہلی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام نے کی ،جب وہ منہدم ہو گیا تو اسی بنیاد پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیرکی،جب حضرت ابراہیم ابراہیم اور اسمٰعیل علیہما السلام نے تعمیر مکمل کر لی تو حج کا اعلان کیا اس اعلان کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے زمین وآسمان میں رہنے والوں تک پہنچادیا، تو لوگ حج کے لئے آنے لگے ،اور آج تک سلسلہ جاری ھے ، پھر مومنوں کی علامتیں بتائی گئی ہیں کہ وہ اللہ سے ڈرتے ہیں ،مصیبتوں پرصبر کرتے ہیں ،نماز کی پابندی کرتے ہیں، اچھے مصارف میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ پھر حج ،نماز ،زکوٰۃ ،قربانی اور جہاد وغیرہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں، اس کے بعد قربانی اور ایام قربانی کا ذکر ہے ،قربانی کا مقصد تقویٰ کا حاصل ک رنا ہے ،اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اللہ کے پاس قربانی کے جانور کا نہ گوشت پہنچتا ہے ،اور نہ خون ،بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔