خلاصۂ قرآن(انیسواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

انیسواں پارہ وَقَالَ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ سے شروع ہے،اس میں سورہ فرقان کا بقیہ حصہ ہے، اس کے ساتھ سورہ شعراء اور سورہ نمل بھی ہے ، سورہ فر قان کے بقیہ حصہ میں قیامت ،توحید اور رسالت کا ذکر ہے، اس کے ساتھ اللہ نے اپنے مخلص بندوں کی صفات کو بیان کیا ہے کہ وہ زمین پر عاجزی سے چلتے ہیں ، جاہلوں سے اعراض کرتے ہیں ، راتوں میں عبادت کرتے ہیں ،جہنم کے عذاب سے پناہ مانگتے ہیں ،خرچ میں اعتدال سے کام لیتے ہیں ،فضول خرچی نہیں کرتے ہیں ،شرک سے بچتے ہیں ،ناحق کسی کو قتل نہیں کرتے ہیں، بدکاری سے بچتے ہیں ،جھوٹی گواہی سے پرہیز کرتے ہیں، بری مجلسوں میں شریک نہیں ہوتے ہیں، کتاب اللہ کی تلاوت سے ان کے دل پسیج جاتے ہیں ،اس کے بعدسورہ شعراء شروع ھوتی ہے، اس میں سات انبیائے کرام یعنی حضرت موسیٰ ،ابراہیم ،نوح ،ہود ،صالح ،لوط اورشعیبؑ علیہم السلام اورا ن کی قوموں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ،قرآن کی حقانیت کو ثابت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اللہ نے اس کو روح الامین یعنی جبرئیل علیہ السلام کے واسطہ سے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کے دل پر نازل کیا ہے ،جو لوگوں کے لئے بشیر اورنذیر ہیں ، اور یہ قرآن واضح فصیح عربی زبان میں ہے، اس میں شعراء کی مذمت بھی کی گئی ہے کہ ان کی پیروی تو گمراہ لوگ کرتے ہیں ،یہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں، یہ ایسی باتیں کہتے ہیں کہ جو خود کرتے نہیں ہیں ،البتہ وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو ایمان لائے اور نیک اعمال اختیار کئے ہیں ،اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں ،اس کے بعد سورہ نمل شروع ہوتی ہے ،اس میں قرآن کی عظمت کا بیان ہے ،پانچ انبیائے کرام حضرت موسیٰ علیہ ا لسلام ،حضرت دائود علیہ السلام ،حضرت سلیمان علیہ السلام ،حضرت صالح علیہ السلام ،حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی قوموں کا بیان ہے ،اس میں ملکہ سبا اور نمل یعنی چیونٹی اور ہد ہد کا واقعہ بھی مذکور ہے،اس سورہ میں موسیٰ علیہ السلام کے مدین سے واپسی کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ مدین سے واپس لوٹ رہے تھے ، تو آپ کی اہلیہ بھی ساتھ تھیں ،سردی تھی ،اسلئے حضرت موسی ٰ علیہ السلام کو آگ کی ضرورت محسوس ہوئی ،قریب میں آگ نہیں تھی ، دور کوہ طور پر آگ جلتی ہوئی محسوس ہوئی ، جو حقیقت میں آگ نہیں تھی بلکہ نور تھا ،وہاں گئے ،تاکہ آگ لے آئیں یا راستہ معلوم کریں ،وہاں پہنچ کر یہ آواز سنی کہ اے موسیٰؑ ! میں اللہ ہوں ،میں غالب اور حکمت والا ہوں ،اسی مقام پر اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت عطا کی ،اور معجزہ دے کر فرعون کے پاس بھیجا ،پھر حضرت داؤد ؑاور سلیمان علیہ السلام کاواقعہ بیان کیا گیا ہے ، حضرت سلیمان علیہ السلام کے والد کا نام داؤد تھا ،اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کوحضرت داؤد علیہ السلام کا وارث بنایا ،ان کو نبوت بھی عطا کی اور سلطنت بھی دی ،اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو پرندوں اور جانوروں کی بولیوں کے سمجھنے کا علم عطا کیا ،ساتھ ہی انہیں بادشاہت عطا کی ، جنوں اور انسانوں پر بھی ان کی حکومت تھی ، سب ان کے تابع تھے ، جنات مکانوں کی تعمیر کرتے ،اور بڑے بڑے کاموں کو انجام دیتے تھے ، اسی سورت میں پرندوں کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن وہ پرندوں کی حاضری لے رہے تھے تو ہد ہد کو نہیں پایا ،انہوں نے کہا کہ اس کو غیر حاضری کی وجہ بتانی ہو گی ،نہیں تو میں اس کوذبح کر دوں گا ،اسی درمیان ہد ہد حاضر ہو گیا ،اور اس نے بتایا کہ میں ایک ایسے بادشاہ کی خبر لایا ہوں ،جس کے بارے میں آپ کو علم نہیں ہے ،چنانچہ اس نے بتایا کہ میں سبا سے ایک خبر لے کر آیا ہوں ،وہاں ایک عورت بادشاہت کرتی ہے ،وہاں کے لوگ سورج کی پوجا کرتے ہیں ،چنانچہ سلیمان علیہ السلام نے اس سے کہا کہ میرا خط لے کر اس کے پاس جاؤ ،اور اس کے پاس پھینک کر انتظار کرو کہ وہ کیا کرتی ہے ،چنانچہ ہدہد سلیمان علیہ السلام کا خط لے کر گیا ،اور اس کے سامنے پھینک کر انتظار کیا ،ملکہ سبا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا نام بلقیس تھا ،اس نے اپنے درباریوں سے مشورہ کیا کہ اس خط میں لکھا ہے کہ تم اطاعت قبول کر کے میرے پاس آجاؤ ،اس نے درباریوں سے یہ بھی بتایا کہ بادشاہوں کا یہ بھی طریقہ ہے کہ اگر اس کی بات نہیں مانی جائے تو وہ حملہ کر دیتے ہیں ،پھر انجام سب کو معلوم ہے ، سبہوں نے کہا کہ معاملات کو آپ بہتر جانتی ہیں ، چنانچہ اس نے مشورہ کرنے کے بعد حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں حاضری کا پروگرام بنالیا ،اور روانہ ہوگئی ،سلیمان علیہ السلام نے اپنے دربار کے انسانوں اور جنوں کو بلایا ،اور ملکہ سبا بلقیس کے آنے کی خبردی ، ساتھ ھی انہوں نے کہا کہ کون ھے جو اس کے تخت کو اس کے آنے سے پہلے لے آئے ؟، ایک نہایت ھی قوی اور مضبوط جن اٹھا اور اس نے کہا کہ میں پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤنگا ،چنانچہ اس کو ملکہ بلقیس کے تخت کو لانے کا حکم دے دیا ،اور وہ تخت لے آیا ، ملکہ بلقیس حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آگئی ،جب وہ محل میں داخل ہوئی تو اس کو پانی معلوم ھوا ، تو وہ اپنے کپڑے کو سمیٹنے لگی ،سلیمان علیہ السلام نے کہا کہ یہ پانی نہیں ہے بلکہ یہ شیش محل ھے ،یہ شیشہ سے بنا ہوا محل ہے ، اس سے وہ بہت متاثر ھوئی ، پھر وہ ایمان لے آئی،اس میں چیونٹی کا واقعہ بھی ہے ،سلیمان علیہ السلام ایک وادی سے گذرے تو چیونٹیوں کو بات کرتے سنا کہ تم سب اپنے بل میں داخل ہو جاؤ ،سلیمان کی فوج گذر رہی ہے کہیں ایسا نہ ھو کہ سلیمان کی فوج تم کو روند دے ،چیونٹیوں کی بات سن کر وہ مسکرا پڑے ،اللہ تعالیٰ کی جانب سے سلیمان علیہ السلام کو یہ سب معجزے عطا کئے گئے تھے۔