خلاصۂ قرآن(اکیسواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

اکیسواں پارہ اُتْلُ مَآ اُوْحِیَ اِلَیْکَ مِنَ الْکِتٰبََ سے شروع ہے،اس کے پانچ حصے ہیں ، سورہ عنکبوت کا بقیہ حصہ ،سورہ روم مکمل ، سورہ لقمان مکمل ،سورہ سجدہ مکمل ،سورہ احزاب کا ابتدائی حصہ ،سورہ عنکبوت کے بقیہ حصہ میں نماز کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ یہ برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے، اس کے بعد معاندین ، ان کی ہٹ دھرمی اور دنیا کی بے ثباتی کا ذکر ہے، منکر ایسے گناہ کو کہتے ہیں جس کے حرام ہونے پر دلیل شرعی موجود ہو اور فحشاء اس گناہ کو کہتے ہیں جس کو ہر عقلمند شخص بُرا سمجھے ،پھر اس کے بعد مسلمانوں کو ہجرت کا حکم دیا گیا ہے، مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کے لئے دین پر چلنا دشوار تھا،اس لئے پہلے ان کو صبر کی تعلیم دی گئی ، پھر اس کے بعد حکم دیا گیا کہ اگر دین پر چلنا دشوار ہو تو اللہ کی زمین وسیع ہے ، ہجرت کر کے دوسری جگہ چلے جاؤ ،جہاں دین پر چلنا آسان ہو جائے ،پھر وحدانیت کی تعلیم دی گئی کہ جب مشرکین کشتی پر سوار ہو تے ہیں اور بھنور میں پھنس جاتے ہیں ، تو اس وقت اللہ کو یاد کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اس سے اللہ کے سوا کوئی نہیں نکال سکتا ہے ،مگر جب اللہ بھنور سے نجات دے دیتا ہے ، تو پھر شرک کرنے لگتے ہیں ، اس کے بعد سورہ روم شروع ہوتی ہے ،اس میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ نوسال کے درمیان روم کے اہل کتاب عیسائی ایران کے بت پرستوں کو شکست دے دینگے، اسی عرصے میں مسلما ن مشرکین قریش پرفتح کی جشن منارہے ہونگے ،یہ جشن کا معاملہ جنگ بدر میں مسلمانوں کی فتح کی صورت میں ظاہر ہوا ،اسکے بعد توحید کا ذکر ہے، اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں کا ذکر کیا ہے جس سے اس کی عظمت ظاہر ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت اورعظمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہرچیز کو اضداد سے پیدا کرتاہے یعنی زندہ کو مردے سے اورمردہ کو زندہ سے پیدا کرتا ہے ، اور اسی نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ہے، وہی جوڑے بناتا ھے ، بیوی کے دلوں میں محبت کو ڈالتاہے ، اسی نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے، اسی نے نیند ، رات اور دن کو پیدا کیا ہے، رات میں نیند کے ذریعہ تمہیں آرام اورسکون ملتا ہے، اوردن میں تم چاق وچوبند ہوکر روزی کی تلاش میں نکلتے ہو ،اسی نے بجلی کی چمک پیدا کیا، جس سے تم بارش کے برسنے کا اندازہ کرتے ہو ،پھر وہی بارش برساتا ہے جس سے غلہ پیدا ہوتا ہے، جس کو تم کھاتے ہو ،اسی نے زمین وآسمان کا مستحکم نظام بنادیا ہے کہ ہر ایک اپنے مدار میں گردش کرتے ہیں ،ایک دوسرے سے ٹکڑاتے نہیں ہیں، یہ سب نشانیاں ہیں جو اس کے خالق ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں، اوراس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان سب نظام کو چلانے میں وہ تنہا ہے، ورنہ یہ نظام درہم برہم ہوجاتے ،اس کے بعد سورہ لقمان شروع ہے،اس کے ابتداء میں توحید کے دلائل پیش کئے گئے ہیں کہ اللہ ہی نے آسمان کو بغیرستون کے بنایا،زمین پر پہاڑوں کا مستحکم نظام بھی بنایا، رینگنے والے کیڑے مکوڑے اور چوپائے پیدا کئے، اسی نے آسمان سے بارش برسایا ،پھر لقمان نے اپنے بیٹے کو جو نصیحت کی ہے اس کا بیان ہے، انہوں نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ شرک نہ کرنا ،کیونکہ شرک بڑا ظلم ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے بعد ہرچھوٹی بڑی چیز اوراس عمل کو سامنے لائے گا، نماز قائم کرنا اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کرتے رہنا ، جب کوئی آزمائش ہو تو اس پر صبر کرنا ،انہوں نے یہ بھی نصیحت کی کہ عاجزی اختیار کرو اور تکبر سے بچو ،چلنے میں معتدل رہو، زمین پر اکڑ کر نہ چلو، اس لئے کہ نہ تم زمین کو پھاڑ سکتے ہو اور نہ تم آسمان کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو ،جب کسی سے بات کرو تو مناسب آواز میں بات کرو ،اس کے بعد یہ بتایا گیا ہے کہ پانچ چیزوں کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ،بارش کب اورکتنی برسے گی ؟رحم مادر میں جو بچہ ہے وہ کن اوصاف کا حامل ہے؟ موت کب اورکہاں آئے گی؟ انسان کل کیا کرے گا ؟اس کے بعد سورہ سجدہ شروع ہے ،اس میں قرآن کی عظمت کو بیان کرنے کے بعد توحید کا بیان ہے کہ آسمان اورزمین کا خالق اللہ ہے، وہی ہرکام کی تدبیر کرتا ہے ،پانی کے ایک قطرہ کو کن کن مراحل سے گذار کر انسان کو پیدا کرتا ہے ،اور وہ انسان نہایت ہی حسین وخوبصورت اورمناسب قدوقامت والا ہوتا ہے، قیامت کے دن مجرم سر جھکائے اللہ کے سامنے کھڑے ہونگے ،ان پر ذلت چھائی ہوگی ،وہ دنیا میں واپس ہونے کی تمنا کرینگے ، مگر واپسی کا موقع نہیں ہو گا،مومن لوگ جو دنیا میں اللہ کے لئے اپنے عیش وآرام کو چھوڑا کرتے ہیں ،اللہ نے آخرت میں ان کے لئے ایسی نعمتیں تیار کررکھی ہیں جن کو کوئی نہیں جانتا ھے ،اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو توریت عطا کئے جانے کا ذکر ہے، پھر سورہ احزاب شروع ہے ،اس کے ابتدائی حصے میں زمانہ جاہلیت کے غلط خیالات کی تردید کی گئی ہے، لوگوں کا خیال تھا کہ بعض لوگوں کے سینے میں دودل ہوتے ہیں ،اللہ تعالیٰ نے کہا کہ دل تو ایک ہی ہوتا ہے، اس میں ایمان ہوگا یا کفر ہوگا ،ان لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ کوئی اپنی بیوی کو کہہ دے کہ تو میری ماں کی طرح ہے تو بیوی حرام ہوجاتی تھی ،اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اس سے بیوی حرا م نہیں ہوتی ہے ،بلکہ کفارہ دینے کی ِضرورت پڑتی ہے، ان کا یہ بھی غلط خیال تھا کہ منہ بولا بیٹا شرعی احکام میں حقیقی بیٹے کی طرح ہوتا ہے، قرآن نے ان کے اس خیال کی بھی تردید کی کہ وہ حقیقی بیٹا کی طرح نہیں ہوتا ہے، اس کے بعد دوغزوہ احزاب اورغزوہ بنی قریظہ کا ذکر ہے، مشرکین مکہ نے غزوہ بدر اور احد میں ناکامی کے بعد مدینہ منورہ پر حملہ کا ارادہ کیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر معلوم ہوئی تو آپ ؐنے صحابہ سے مش ورہ کیا ،حضرت سلمان فارسی نے مشورہ دیا کہ مدینہ کے باہر خندق کھود دیا جائے ،تاکہ دشمن اندر نہ آسکیں ،چنانچہ ایسا ہی کیا گیا ،اور دشمنوں کے حملہ کو روکا گیا ،اس کے بعد ازواج مطہرات کو نصیحت کی گئی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صبر وسکون سے رہیں ،اگر ان کو دنیا کی زیب وزینت چاہئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو جائیں ،مگر ازواج مطہرات نے دکھ تکلیف کی زندگی بسر کرنا پسند کیا ، مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑنا پسند نہیں کیا ۔