مولوی انعام الحق نیپالی شریک درجہ عربی ہفتم دارالعلوم دیوبند نے سالانہ امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی


انوار الحق قاسمی
(ناظم نشر و اشاعت جمعیت علماء ضلع روتہٹ نیپال)
ملک نیپال کی عظیم شخصیت ،جمعیت علماء نیپال کے مرکزی رکن ،معہد ام حبیبہ للبنات گروڈا نگر پالیکا جینگڑیا روتہٹ نیپال کے بانی و ناظم ،مدرسہ اسلامیہ گئور کے صدر اعلی مولانا محمد عزرائیل مظاہریحفظہ اللہ کے فرزند ارجمند اور راقم(انوار الحق قاسمی) کے سگے بھائی عزیزم حافظ و مولوی انعام الحق شریک درجہ عربی ہفتم دارالعلوم/دیوبند نے ششماہی امتحان کی طرح سالانہ امتحان میں بھی 89/اوسط 1/نمبر کم 90/اوسط سے ایک بڑی اور نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔
عزیزم مولوی انعام الحق انتہائی ذہین اور اخاذ ذہن کے مالک ہیں، موصوف انتہائی کم سنی :یعنی 9/سال کی عمر میں اور وہ بھی صرف ایک سال کی مدت میں ملک نیپال کے شہرت یافتہ استاذ حفظ حضرت قاری محمد مہرالدین صاحب عرفانی_ دامت برکاتہم العالیہ_کے پاس حفظ قرآن مکمل کرکے حافظ قرآن بن گئے۔
پھر "دور” کے لیے بہار کے قدیم دینی درسگاہ "جامعہ اسلامیہ قرآنیہ سمرا” گئے اور وہاں کے نایاب قاری،قاری محمد بشیر الدین صاحب مظاہری کے پاس ایک ماہ” دور”کیا،انہوں نے وہاں بھی ایک زبردست کامیابی حاصل کی۔
اور پھر عالمیت کی تعلیم کے لیے صوبہ بہار کے دارالعلوم” الجامعة العربية اشرف العلوم کنھواں سیتامڑھی” کا رخ کیا اور یہاں ان کا داخلہ ” فارسی اول "میں ہوا اور اشرف العلوم میں انہوں نے مسلسل سات سال :یعنی درجہ عربی پنجم تک مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے بڑے بڑے علماء کرام سے کسب فیض کیا اور پھر علوم عالیہ کی تحصیل کے لیے دارالعلوم دیوبندپہنچے اور وہاں ان کا داخلہ ” درجہ عربی عربی ششم” میں ہوا ، مولوی انعام الحق دارالعلوم میں ابھی دو سال :یعنی "درجہ عربی ششم” اور” درجہ عربی ہفتم” کی تعلیم ہی ، علم و فضل میں اپنی مثال آپ رکھنے والے،چیدہ اساتذہ کرام سے حاصل کی ہے ،واضح رہے کہ انہوں نے فارسی اول سے درجہ عربی ہفتم تک ممتاز ہی نمبرات سے کامیابی حاصل کی ہے۔
عزیزم مولوی انعام الحق کے ساتھ میری،جملہ اہل خانہ اور جملہ محبین کی دعا ہے کہ باری تعالیٰ انہیں ہر امتحان اور خاص طور سے ” دورہ حدیث شریف” میں بھی مثالی کامیابی عطا فرمائے،قادر مطلق ہماری دعاؤں کو شرف قبولیت سے نوازے آمین یارب العالمین۔