ہم جمہوریت زدہ لوگ

ازقلم: اظفر منصور، معاون مدیر مجلہ سراغ زندگی لکھنؤ
8738916854

چند دن قبل ایک بہت ہی بہترین ہندی پوسٹ نظر سے گذری تھی، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم لوگ یعنی مسلمان جمہوریت کے لالی پاپ میں اس قدر نیچے گر جاتے ہیں یا گھٹیا حرکت کر گذرتے ہیں جو ایک خاتم الانبیاءﷺ کے پیروکار کو ہرگز زیب نہیں دیتا، آقائے نامدار ﷺ نے فرمایا تھا ‘المسلم اخوالمسلم’ یعنی مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، اور آپس میں ایک جسم ایک قالب کی طرح ہیں کہ جسم میں کہیں چوٹ لگے تو سارا جسم درد محسوس کرے ایسے ہی کہیں کسی مسلمان پر جبر و تشدد کی وارداتیں ہوں تو پوری قوم بلک اور کراہ اٹھے،
لیکن آج کے دور میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو بھائی تو کجا مسلمان کہنے تک کے لیے تیار نہیں، تو درد محسوس کرنا اور مدد کرنا دور کی بات ہے، آج کا مسلمان جمہوریت پر ایسا فدا ہے کہ اس کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے، ہاں "کچھ بھی ” مطلب جمہوریت کی حفاظت کے لیے یا گنگا جمنی تہذیب یا پھر بھائی چارہ دکھانے کے لیے اگر اس سر کو جو آستانہ نبوت کا عاشق ہو خالق کائنات کی چوکھٹ کا پجاری ہو تو یہ جمہوریت زدہ لوگ جھکا دیں گے، اگر ان سے کہا جائے برادران وطن نے شرط لگائی ہے کہ ہم مواخات کا رشتہ اس وقت قائم کریں گے جب مسجدوں سے بلند آواز میں اذان کو بند وندے ماترم جئے شری رام اور دیگر حکموں پر عمل کریں گے تو بیچارے جمہوریت زدہ لوگ اس پر بھی سرتسلیم خم کر دیں گے بلکہ اکثر موقعوں پر کرتے بھی ہیں۔ اسی طرح آپ نے ہمیشہ دیکھا ہوگا کہ محرم میں شیعہ حضرات، ربیع الاول میں اہل سنت والجماعت کے فرقے جلوس نکالتے ہیں، جاں گسل گرمی اور سخت سردی میں تبلیغی احباب کو بھی لبِ سڑک کندھے پر سامان ِضرورت اٹھائے ہوئے دیکھا ہوگا، اور رمضان المبارک میں مدارس کے سفراء کو قوم کے بچوں کے لیے محنت و مشقت اور در در کی ٹھوکریں کھا کر چندہ جمع کرتے ہوئے بھی دیکھا ہوگا مگر کبھی یہ نہیں دیکھا ہوگا کہ کوئی شیعی جلوس میں پانی و شربت لیکر کھڑا ہو، کوئی جلوس مدح صحابہ یا عید میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں شرکاء کی خدمت کے لیے شربت پانی کا انتظام کرتا ہو، تبلیغی احباب اور سفراء کو اپنے گھر میں سایہ دیتا ہو، حالانکہ یہ حقیقی اسلامی بھائی ہیں اللہ کے نبی ﷺ نے ان سے ہمارا رشتہ مواخات کا کرایا ہے لیکن ہم مسلک کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے لوگ ہیں کہ ان رشتوں کو کبھی حرف زنی کے ذریعے سے تو کبھی سیف زنی کے ذریعے یا باہم دست و گریباں ہوکر پامال کرتے ہیں، اور باہر غیروں سے اخوت کا مساوات کا مواخات کا رشتہ قائم کرتے ہیں، تو سوچئے آخر کیسے نبی ﷺ کی بنائی اخوت و بھائی چارے عمارت کو مسمار کرکے اپنی عمارت تعمیر کریں گے تو نتیجہ کیا نکلے گا، آج جو ہر چہار جانب ہاہا کار مچا ہوا ہے اس میں غلطی و نادانی اور سازش دشمنوں کی نہیں بلکہ خود ہماری بے توجہی، جمہوریت کو اسلام پر فوقیت دینے کا منحوس عمل، غیروں کے ساتھ تعلقات استوار رکھنے کے لیے اپنے معیار کے ساتھ کھلواڑ ہے، اور بس! امریکہ کے ابراہم نے جمہوریت کا جو نقشہ پیش کیا تھا اس سے اس کا مقصد صرف اور صرف مشرق کو زیر اور مغرب کو زبر کرنا تھا، لامذہبیت کو نافذ کرنا تھا، اسلام کی آفاقیت پر روک لگانا تھا، آزادی کے نام پر ایک ایسا نظام حکومت شروع کرنا تھا جس سے کہ اسلام محض چند مزاجوں تک سمٹ کر رہ جائے، اسلام کی نشر و اشاعت پر قدغن لگایا جا سکے، اور وہ اس میں بالکل کامیاب نظر آرہا ہے، ہر طرف آزادی کے نام پر فحاشی عریانیت، قتل و غارت گری کو فروغ دیا جا رہا ہے، مملکت اسلامیہ پر جمہوریت نے حملہ کیا ہوا ہے، یقیناً اس جمہوریت نے مسلمانوں کو تخت سے تختۂ دار پر لٹکانے میں بہترین کردار ادا کیا، جمہوریت کی تعریف تو یہی تھی کہ ”عوام کی حکومت عوام کے ذریعے عوام پر“ مگر یہ کسی فلم کا مضحکہ خیز ڈائلاگ ثابت ہوا، اس کی زندہ مثال ہندَوستان ہے، آٹھ سو سال تک مسلمانوں نے بغیر جمہوریت کے حکمرانی کی مگر اس لمبے وقفے میں کوئی دقت معاشی و اقتصادی اعتبار سے ملک کی ترقی میں حائل ہوسکی، مگر اس جمہوریت اور اس کے پجاری جمہوریت زدہ لوگوں نے ملک کی جو ابتری حالت کی ہے وہ جگ ظاہر ہے، آج کل جس طرح دہلی حکومتی اعتبار سے مرکز ہے اسی طرح ظلم و تشدد جبراً گھروں کے انہدام کرنے، اور جمہوریت کے چہرے پر تیزاب ڈالنے کے اعتبار سے بھی مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، امیروں نے جمہوریت کا چولہ پہن کر غریبوں کا بس استحصال کیا ہے، ووٹ کی شکل میں بچوں کی طرح لالی پاپ پکڑایا ہے، ورنہ کب کس کی سرکار بنے گی یہ سب طئے شدہ تماشا ہوتا ہے،
لہذا اب بھی کچھ کچھ وقت بچا ہے کہ ازسرنو قائدین مل بیٹھ کر کچھ سوچیں، یتیم امت مسلمہ کے سر پر شفقت بھرا ہاتھ پھیریں، اور انہیں صحیح رخ دکھانے کی کوشش کریں، ورنہ بہت دیر ہو جائے گی، اور نفرت کی وہ آگ جو اتر پردیش مدھیہ پردیش راجستھان گجرات سے نکل کر دہلی بہار تک جا پہنچی ہے آپ کے گھر بھی آدھمکے، کیونکہ راحت اندوری نے کہا ہے ؎

لگے گی آگ تو گھر آئیں گے کئی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے،