خلاصۂ قرآن(تیئیسواں پارہ)

تحریر: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

تئیسواں پارہ وَمَالِیَ لَآ اَعْبُدُ الَّذِیْ فَطَرَنِیْ سے شروع ہے،اس میں سورہ یٰسین کا بقیہ حصہ ہے، پھر سورہ صافات مکمل ،سورہ ص مکمل اورسورہ زمر کا ابتدائی حصہ ہے، سورہ یٰسین کے بقیہ میں ایک نیک آدمی کا ذکر ہے ، جس کے بارے میں کہا جاتاہے کہ اس کا نام حبیب نجارتھا، ایک بستی کے لوگوں نے اپنے تین نبیوں کوجھٹلادیا ،ان کی قوم میں ایک شخص جس کا نام حبیب نجار تھا ،اس نے ان لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کی ، تو ان لوگوں نے اس کوشہید کردیا، جنت میں جاکر اس نے تمنا کی کہ کاش!میری قوم کے لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ مجھے کیسی نعمتیں ملی ہیں ! تب وہ سمجھ پاتے کہ شہید کا درجہ کیا ھے ، اللہ تعالیٰ نے نہ تو تین نبیوں کے نام بتائے اور نہ جگہ کی وضاحت کی ، بلکہ صرف واقعہ کو بیان کردیا ھے ، اس سے اس بات کی طرف اشارہ ھے کہ جو ضروری بات ھو اسی کو بیان کرنا چاہئے ، پھر یہ بیان کیا گیا ھے کہ جب اس قوم کے لوگوں کی سرکشی میں مزید اضافہ ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہلاکت کا فیصلہ کر دیا ،اور کہا کہ ہمیں کسی قوم کو ہلاک کرنے کے لئے آسمان سے فرشتوں کو نازل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے ،بس ایک چنگھاڑ ہی کافی ہوتی ہے،چنانچہ فرشتے نے چیخ ماری اور وہ سب ہلاک ہو گئے ،پھر یہ بتایا گیا کہ قیامت کے دن لوگوں کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے ہاتھ اور پاؤں بولیں گے اور مجرموں کے خلاف گواہی دیں گے ،پھر اللہ تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر وشاعری نہیں سکھائی اور نہ یہ آپ ؐ کے شایان شان ہے ،یہ قرآن تو ذکر ہے ، جس سے لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرتے ہو ئے کہا کہ جس طرح مردہ زمین جسے بارش کے ذریعہ زندہ کردیا جاتاہے ، اسی طرح مردے زندہ کئے جائیں گے، رات اوردن ، سورج وچاند کا نظام ،کشتیاں اور جہاز جو سمند میں چلتے ہیں ، یہ سب اللہ کے وجود اور اس کی وحدانیت پر دلیل ہیں، اس کے بعد محشر کو ہولناکیوں کا ذکر ہے ،صور پھونکے جانے کا تذکرہ ہے، اللہ تعالی نے کہا کہ اس دن مجرموں کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور ان کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دیںگے، ا س کے بعد سورہ صافات شروع ہے ،اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ اہل جنت کو کھانے کے لئے میوے دیئے جائیں گے اور اہل جہنم کو زقوم کھانے کے لئے دیا جائے گا ،اس کے بعد حضرت نوحؑ ،حضرت ابراہیمؑ کی دعوت توحید کا ذکر ہے، حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم اور ان دونوں کا اللہ کے حکم کے سامنے اپنے سرکو جھکادینے کا بیان ہے، حضرت ابراہیم ؑکی دعا ء سے اللہ تعالیٰ نے ان کو اسماعیل عطا کیا ،پھر جب وہ دوڑ دھوپ کے قابل ہو گئے تو حضرت ابرہیم ع نے خواب دیکھا کہ وہ ؑ ان کو ذبح کر رہے ہیں ، چونکہ نبی کا خواب سچا ھوتا ھے ، اس لئے انہوں نے ذبح کرنے کا ارادہ کرلیا ، ذبح کرنے سے پہلے انہوں نے اپنے بیٹے سے رائے لی ،انہوں نے اپنے والد سے کہا کہ جو اللہ کا حکم ہے ،آپ اس کو بجا لائیے ،آپ ان شاء اللہ مجھے صبر کرنے والا پائیںگے ،چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دیا،اور اپنے خواب کو پورا کرنے کے لئے تیار ہو گئے ،اللہ تعالیٰ کو امتحان لینا مقصود تھا ،اس میں ابراہیم علیہ السلام پورے اتر گئے ،تو اللہ تعالیٰ نے مینڈھا بھیج دیا ،وہ ذبح کر دیا گیا ،اس طرح اللہ نے اسما عیل علیہ السلام کو بچا لیا ،پھر اس کے بعد نوح علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے ، پھر مشرکین مکہ کی تردید کی گئی ہے ،وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ،اور اپنے لئے لڑکے کو پسند کرتے تھے ، اللہ تعالیٰ نے کہاکہ وہ ان سب باتوں سے پاک ہے، پھر اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور ہارون علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا ہے ،اس کے بعد حضرت الیاس علیہ السلام کا واقعہ بھی بیان کیا گیا ھے ، جن کو شام میں ایک ایسی قوم کی طرف نبی بناکر بھیجا گیا تھا جو بعل نامی بت کی عبادت کرتی تھی ، اس میں حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے لوگوں کے شہوت پرستی کا واقعہ بھی بیان کیا ہے، حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں زندہ رکھا ،پھر ان کو مچھلی نے سمندر کے ساحل پراگل دیا، اس کا بھی ذکر ہے، اس کے بعد سورہ ص شروع ہے، اس میں اللہ کی وحدانیت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں اور موت وحیات کو پیدا کیا اور وہی اس کے لئے کافی ہے،پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دی گئی ہے اور تسلی کے لئے حضرت دائود علیہ السلام کے شکر کا واقعہ ،حضرت ایوب علیہ السلام کے صبر کا تذکرہ اور دیگر انبیائے کرام کے واقعات بیان کئے گئے ہیں ، پھر اس کے بعدسورہ زمرشروع ہے ،اس کے ابتدائی حصے میں قرآن کی عظمت اوراللہ کی توحید کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ماں کے پیٹ میں تین تاریکیوں میں رکھ کر پیدا کرتا ہے ، اس کے بعد کفار ومشرکین کے فرق کو بیان کرتے ہوئے بیان کیا گیا ہے کہ اس کی مثال اس غلام کی طرح ہے جس کے کئی آقا ہوں اور موحد کی مثال اس غلام کی سی ہے جس کا صرف ایک آقا ہو، ایک آقا والاکم پریشان ہوتا ہے اور کئی آقا والے ہر وقت پریشان رہتے ہیں ،اس لئے ایک اللہ کو مانو اور اسی کی عبادت کرو ،اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ، اس لئے کہ شرک بڑا ظلم ہے ۔