خلاصۂ قرآن(پچیسواں پارہ)

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

پچیسواں پارہ اِلَیْہِ یُرَدُّ عِلْمُ السَّاعَۃِْ سے شروع ہے،اس پارہ میں سوری حم السجدہ کا بقیہ ھے ، اس میں سوری شوری مکمل ، سورہ زخرف مکمل ، سورہ الدخان مکمل ،سورہ الجاثیہ مکمل ھے ، اس کی ابتداء میں توحید کا بیان ہے ، اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے، اورکوئی پھل اپنے شگوفہ سے اللہ ہی کے حکم سے نکلتا ہے، کوئی مادہ حاملہ ہوتی ہے تو اسی کے حکم سے ہوتی ہے، اور وہ بچہ بھی اسی کے حکم سے جنتی ہے ،پھرانسان کی کمزوریوں کو اللہ نے بیان کیا ہے کہ وہ ہروقت خیرکی دعا مانگتا رہتا ہے، مگر جب اس کو ذراسی کوئی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ مایوس ہوکر ناامید ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اگر کوئی تکلیف پہنچنے کے بعد جب ہم اس کو اپنی رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں تو وہ کہنے لگتا ہے کہ میں اس کا مستحق تھا، تب ہی تو اللہ نے ہم کو دیا ہے، ہرانسان کو یہ سمجھنا چاہئے کہ قیامت آنے والی ہے اس کے مطابق اس کو تیاری کرنی چاہئے، پھر مزید انسان کی کمزوریوں کو بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ جب ہم انسان کو انعام سے نوازتے ہیں تو وہ منہ موڑ لیتا ہے،اور ناشکری کرتا ہے، اورجب اسے تھوڑی سی تکلیف پہنچ جاتی ہے تو وہ لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے، اس کے بعدسورہ شوریٰ شروع ہے، اس کی ابتداء میں وحی اور رسالت کا اثبات ہے، پھر مومنین کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ توکل کرتے ہیں ،گناہوں سے بچتے ہیں ،فیصلے میں درگذر کرتے ہیں ،اپنے رب کی فرمانبرداری کرتے ہیں ،نماز کی پابندی کرتے ہیں،ہر کام مشورہ سے کرتے ہیں ،سخاوت کرتے ہیں ،ظلم کا فیصلہ مناسب طریقہ سے کرتے ہیں ،اس کے بعد سورہ زخرف شروع ہے، اس میں قرآن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کو عربی زبان میں نازل کیا ہے ،تاکہ تم اسے سمجھ سکو،اس کے بعد کفار ومشرکین سے کہا گیا ہے کہ کیا ہم تم سے بیز ار ہوکر نصیحت کی کتاب کو نازل کرنا بند کردیں ایسا نہیں ہوگا ،پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیوں کو بیان کرکے انسانوں کو سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا اوراس میں تمہارے لئے راستے بنائے ،تاکہ تم منزل تک پہنچ سکو ،ہم نے آسمان سے پانی برسایا ، اس کے ذریعہ ہم نے مردہ علاقوں کو زندگی بخشی ،پھر ہم نے تم کو جوڑے جوڑے بنائے ،یہ ہماری قدرت ہے، اور یہ ہماری وحدانیت پردلیل ہے، کفارومشرکین کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ تم لوگوں نے ہمارے بندوں میں سے بعض کو ہمارا شریک بنالیا ہے، یہ انسان کی احسان فراموشی ہے ،تم نے اپنے لئے بیٹوں کو منتخب کرلیا ہے اورہمارے لے بیٹیوں کو چھوڑدیا ہے، یہ عجیب تقسیم ہے، پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کو بیان کیا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے والد اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ میرا اس سے کوئی تعلق نہیں جن کی تم پوجا کرتے ہو ،پھر کچھ نصیحتوں کا ذکر ہے، اس کے بعد مشرکین کے غلط فکر اور اس کی تردید کی گئی ہے ،وہ کہتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ نے اتارا ہے تو مکہ یا طائف کے کسی بڑے آدمی پر اتارا جاتا ،مگر اس نے اس قرآن کو مکہ کے ایسے آدمی پر اتارا دیاجس کے پاس کچھ نہیں ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں کہا کہ تم نبوت کی تقسیم کرتے ہو کہ نبوت فلاں کو ملنی چاہئے اور قرآن فلاں پر اترنا چاہئے ،جبکہ یہ اللہ کا فضل ہے ،وہ جسے چاہتا ہے ،اپنے فضل سے نوازتا ہے ،اس کے بعد سورہ دخان شروع ہے، اس میں لیلۃ القدر کے فضائل بیان کئے گئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے کہا کہ ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا ہے ، وہ رات ایسی ہے کہ اس میں ہرطرح کے حکیمانہ فیصلے کئے جاتے ہیں ،ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا ہے،یہ ھماری رحمت ہے ،اس کے بعد قیامت کا ذکر ہے کہ اللہ ہی ہے جو موت و حیات کا مالک ہے، وہی سب کا رب ہے، جوگذرگئے ان کا بھی اور جو موجود اور آنے والے ہیں، ان سب کا بھی رب وہی ہے۔ پھر اس کے بعدفرعون کا ذکر ہے، اور ان نعمتوں کا جن سے اللہ نے اس کو نوازا تھا، مگر اللہ کی ناشکری کی اور موسیٰ علیہ السلام کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں سے محروم کردیا ،وہ سب رہ گئے اوراس کو غرق کردیا گیا ،اس کے بعدسورہ جاثیہ شروع ہے ،اس کی ابتداء میں توحید کا ذکر ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اوربڑائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے زمین اورآسمان کو پیدا کیا اورخود تم کو پیدا کیا اورتمام چوپایوں کو پیدا کیا ،رات اوردن کو پیدا کیا، یہ سب ہماری نشانیاں ہیں ،پھراس کے بعدقیامت کا بیان ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر جواحسانات کئے ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اورحکومت اورنبوت عطا کی ،اور ان کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ، اور تمام عالم پر فضیلت عطا کی ،مگر اس کے باوجود انہوں نے سرکشی کی تو ان پر ہمارا عذاب نازل ہوا ، اوروہ طرح طرح کی مصیبتوں میں مبتلا ہوئے،اس سورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ تعالیٰ نے کہا کہ اے نبی !ہم نے آپ کو ایک خاص شریعت پر رکھا ہے ،لہٰذا اسی کی پیروی کیجئے،اور ان لوگوں کے خواہشات کی پیروی نہیں کیجئے جو حقیقت کا علم نہیں رکھتے ہیں۔