قرآنی تعارف: سورۂ شعراء

ازقلم(مولانا) عبدالحفیظ اسلامی
سینئر کالم نگار و آزاد صحافی، حیدرآباد

یہ پوری سورت مکی ہے سوائے آخری آیت کے ، اس لئے کہ یہ آیت مدینہ منورہ میں نازل ہوئی، اس سورت میں دو سو ستائیس آیات ایک ہزار دو سو سڑسٹھ کلمات اور پانچ ہزار پانچ سو حروف ہیں۔ (تفسیر ابن عباسؓ)
مکی سورتوں کا محور جس طرح عقیدہ اور ایمان کے اصول ہوتے ہیں اسی طرح اس سورت میں بھی توحید ، رسالت اور بعث بعد الموت وغیرہ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شروع میں قرآن کریم کا ذکر ہے جسے مخلوق کی ہدایت اور انسانی امراض کے علاج کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ پھر مشرکین کے موقف کا ذکر ہے کہ وہ کس طرح اس کے واضح ہونے کے باوجود اسے جھٹلاتے ہیں اور گھمنڈ کے مارے قرآن کے علاوہ کوئی دوسرا معجزہ طلب کرتے ہیں۔ پھر متعدد انبیائے کرام کا ذکر ہے جنھیںانسانوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا۔
سب سے پہلے سرکش فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں دونوں میں کیا بحث ہوئی اور کس طرح حضرت موسیٰ ںنے اسے مسکت جوابات دیئے۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ہے جس میں بت پرستی کے سلسلے میں ان کا واضح موقف بیان کیا گیا ہے جس میں بت پرستی کے سلسلے میں ان کا واضح موقف بیان کیا گیا ہے۔ پھر پرہیزگاری اور گمراہی اور نیک بختوں کے انجام کا ذکر ہے۔ اس کے بعد حضرات نوحؑ ، ہودؑ ، صالحؑ ، لوطؑ اور شعیبؑ کے واقعات بیان کرتے ہوئے آخر میں مشرکین کی اس افترا پردازی کا رد کیا گیاہے کہ قرآن شیاطین نازل کرتے ہیں۔
اس سورۃ کا نام ’’الشعراء‘‘ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اس میں مشرکین کے اس گمان کا رد ہے کہ حضرت محمد ا شاعر تھے۔ (ترجمان القرآن)
اس سورۃ کے آخری رکوع میں اس کا نچوڑ پیش کردیا گیا اور تنبیہ کے طور پر ان مشرکین سے سوالات کئے گئے کہ تم لوگ اگر نشانیاں ہی دیکھنا چاہتے ہو تو آخر وہ خوفناک نشانیاں دیکھنے پر کیوں مصر ہورہے ہو ، جس کا مشاہدہ گزشتہ تباہ شدہ قوموں نے کیا ہے۔ تمہارے دیکھنے کے لئے بہترین نشانی قرآن حکیم ہے جو خود تمہاری اپنی زبان میں نازل کیا گیا۔
حضرت محمد اکی متبرک ذاتِ گرامی کو دیکھو اور صحابہ کرامؓ کو دیکھو ، غور کرو (عقل سے کام لو) کہ یہ جو کلام محمد اپیش فرمارہے ہیں یہ کوئی شیطان یا جن کا کلام ہوسکتا ہے ؟ ہرگز نہیں۔
محمد ااور آپ کے صحابہ کرامؓ کی زندگی ، اور شعراء اور ان کے ساتھیوں کے کے شب و روز میں تم فرق محسوس نہیں کرتے ؟
حقیقت یہ ہے کہ حضرت محمد ااور آپ اجو کچھ پیش فرمارہے ہیں اس کا تعلق ، کہانت اور شاعری سے ہرگز نہیں ہوسکتا اور اس کا دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ اب تم لوگوں کو جان لینا چاہئے کہ جو کچھ تم کررہے ہو یہ سراسر ظلم ہے یاد رکھو کہ ظالموں کا جو انجام ہوگا تم دیکھ کر رہو گے۔ (مرتب)