مقام خیر امّت

عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری(گوونڈی ممبئی)
9224599910

ملک کے بگڑتے حالات پر مسلمانوں کا بڑا طبقہ فکر مند ہے۔وہ اپنے طور پر اس کا حل پیش بھی کرتے ہیں ۔ فکر مند بھی ہیں اور آس بھی لگاتے ہیں کہ کچھ مسیحائی ہو اور حالات بدل جائیں ۔

جلال آتش و برق و سحاب پیدا کر
اجل بھی کانپ اٹھے وہ شباب پیدا کر
تو انقلاب کی آمد کا انتظار نہ کر
جو ہو سکے تو ابھی انقلاب پیدا کر

(1) مسلمانوں کی ملّی قیادت ان حالات کا حل پیش کرے۔ملت کے خطیر چندوں سےصرف وکیل کردینا اور کورٹ میں کیس داخل کر دینے سے 25کروڑ لوگوں کی قیادت کا حق ادا نہیں ہوجاتا۔ ہماری اس قیادت نے تو جنگ ازادی میں بڑا فعال کردار ادا کیا تھا، بڑی قربانیاں پیش کیں تھیں۔
(2) ملت کے مشیر ایک پلیٹ فارم پر آنے کو اس کا حل بتاتے ہیں ۔لیکن کوشش نہ کے برابر ہوتی ہے۔اس تعلق سے ہر سطح پر کیا کوششیں ہوئیں کچھ نظر نہیں آتا۔بس ہر شخص کی زبان پر یہی جملہ نسخہ کیمیاءاور مسائل کا حل ہے۔
(3) ملت کہتی ہے کہ آر ایس ایس(RSS)کے طرز پر ہم میں اجتماعیت اور کڑا نظم ہونا چاہیئے تاکہ ہر محاذ پر ملّت کی مسیحائی کی جاسکے ۔
اس پر کچھ سوالوں کا اٹھنا واجبی ہے۔
(ا) کیا مسلمان اجتماعیت پسند کرتے ہیں؟؟ سنگٹھت رہنا چاہتے ہیں؟؟ جب کہ نماز، روزہ، قربانی، حج سب اجتماعی عبادات میں سے ہیں ۔
اجتماعیت کے اصول وآداب اپنانے اوران کے لیےقربانی دینے کے لیے تیار ہیں؟؟؟ ۔
(ب)نظم وتنظیم کے لیے امر و اطاعت اور بڑے مقصد کے لیے اپنے وقتی مفاد اور اپنی انا کو فنا کرکے ہم مشاورت سے کام کرنےتیارہیں ۔
(ج) ملت کے ہر تیسرے شخص میں کا ایک لیڈر اور قائد ہے اور اپنی رائے کو وحی کے درجے میں درست اور صحیح سمجھتا ہے۔پھر بھلا وہ دوسرے کی رائے کو اپنی رائےپر کیوں کرمقدم کرےگا؟ترجیح دےگا!!
(ج)اجتماعیت کے لیے وقت کی پابندی، نظم وضبط، مال کی قربانی، اپنی رائے کے خلاف فیصلہ ماننے کا جذبہ ضروری ہے۔کیا ہم میں یہ صفات ہیں؟؟؟ ۔
آج بھی ہم ہر اجتماعی کام کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ قیادت پر بے اعتمادی، شک کرنا اور عیب جوئی ہماری عادت ہے۔ بہتان لگانا، بے سر پیر کے الزام لگانا ہمارا وطیرہ بن گیا ہے۔ منفی سوچ اور نتیجہ نکالنا ہماری عادت ثانیه ہے۔
ہم خود خواہشات کی جنت میں رہتے اور امید کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ سماجی کام کریں ۔ ہم کنارے کھڑے رہ کر ان کے کاموں میں کیڑے نکالنے کا کام کرتے ہیں۔

میرے ہم سفیر بلبل، مرا تیرا ساتھ ہی کیا

میں ضمیر دشت دریا تو اسیر آشیانہ

(د)ملت کے بے شمار کاموں Rehablitation کے لیے کثیر سرمایہ کی ضرورت ہوگی ۔کیا ہم نے کبھی اجتماعی کاموں کے لیے اپنی ماہانہ آمدنی سے کچھ حصہ اس کام کے لیے تواتر سے دیا ہے یا بس دوسرے دیں گے اس پر اکتفاء کرتے ہیں ۔

ایک راجہ نے اعلان کیا کہ رات کے اندھیرے میں گاؤں کا ہر شخص اس حوض میں ایک لوٹا دودھ ڈالے گا۔سب لوگ لوٹا لے کر حوض پر گئے اور ڈالا بھی ۔صبح سارا حوض پانی سے بھرا پایا گیا۔دراصل ہر شخص یہ سوچ کر پانی ڈال رہا تھا کہ سب تو دودھ ڈالیں گے ہی! میرے اکیلے کےپانی ڈالنے سے کیا فرق پڑے گا۔
(ہ)اجتماعی کاموں میں دوسرے وقت لگائیں وہ تکلیف اٹھایں، محاذ پر ڈٹے رہیں، ہراول بنیں اور میرے بچّے اپنا وقت کیریر بنانے میں لگائیں تو پھر کیسے ممکن ہے کہ ہم(RSS) آر ایس ایس کی طرز پر ایک اجتماعیت کھڑی کردیں اور وہ بھی چند دنوں میں!!جبکہ انھوں نے اس مقصد کے لیے ایک صدی لگادی ہے ۔
یاد رکھیے!
زمینی حقائق اجتماعی کاموں کے لیے بہت توجہ چاہتے ہیں۔Social norm, Belif system, Social physicalogyاجتماعی نفسیات،
اخوت ومحبّت، قربانی ،بردباری Patience، برداشت ، تحمّل Passion, رابطہ Communicationایثار، dedication وقت، تنظیم، نظم، عزم و حوصلہ Enthusiasm, وسیع النظری Broad minding, trust, اطاعت اور ڈسیپلین,با ہمی مشاورت، ٹیم اسپرٹ، تواضع Humblenessانکساراو باقاعدگی چاہتے ہیں ۔

جھوٹےالزام، کبروغرور، تفاخر، خود پسندی، تعلّی، تکبر، ، نفسانیت، ریاکاری، نمائش، نیت کا کھوٹ، بغض و حسد، بدگمانی، انتہا پسندی،ناپختگی Immatuarity, بدسلیقگی Abusive, بدزبانی Foul Language بے اعتدالی، تنگ دلی، ضعف ارادہ،خود غرضی selfishness, غلطی کا تدارک Rectifiy faults, رازداری، حرکت وعمل میں سستی، حیلہ بہانے بنانا، بہتان لگانا ،انانیت individualusm, Egoاور دوسرے سے توقعات رکھنا بہت آسان کام ہے لیکن ہر شخص کا حوض میں خود دودھ ڈالنا بنیادی کام ہے ۔
شیر خونخوار ہے مگر غیروں کے لیے، سانپ زہریلا ہے مگر دوسروں کے لیے، چیتا درندہ ہے مگر اپنے سے کمتر جانوروں کے لیےلیکن انسان ۔۔۔۔۔۔
اجتماعی اوصاف کی کمی اور انسانی کمزوریوں کی وجہ سے ہماری اجتماعیت زیادہ دنوں تک قائم نہیں رہتی اور ہم خود اس کو جڑسے اکھاڑنے والے بن جاتے ہیں اس پر بھی تاریخ شاہد ہے

تو اس عروج کو حد درجہ معتبر نہ سمجھ
یہ آفتاب کسی وقت ڈھل بھی سکتا ہے

(ز)آر ایس ایس کی کم وبیش 108 ذیلی تنظیمیں Sister organisationsہیں ۔ کیا کبھی ایک دوسرے کے کام پر تنقید کرتے یا روڑے اٹکاتے نظر آتے ہیں؟؟؟ ان کی حکمت عملی Strategy آگے بڑھو کی ہے۔کیا ان کی یہاں ابہام Ambiguity ہے ؟؟ ساری تنظیموں کو قوم کا تعاون حاصل ہے ، مخالفت نہیں ۔۔۔
مثلاً
ہندو مہا سبھا، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد،ودیا بھارتی، بھارتی مزدور سنگھ، مکتی واہنی، رام سینا، وغیرہ

ہر شخص اپنے حصہ کا جلاتا رہے چراغ
تب کہیں جا کے زمانے میں اجالا ہوگا

"الله تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دےتو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو الله ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے "(آل عمران:16)