عید الفطر کا پیغام

ازقلم: مجیب الرحمٰن، جھارکھنڈ

دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں جسے خوشی اور غم کی حقیقتوں سے دوچار نہ ہونا پڑتا ہو، ہر آدمی کی زندگی خوشی اور غم کی بہاروں اور خزاؤں سے معمور ہوتی ہے، زندگی کے صحن میں غم کی دھوپ بھی پڑتی ہے اور خوشی کی چھاؤں بھی ، آزمائش خوشی اور غم کا روپ دھار کر آتی ہے غم کے موقعوں پر صبر کا مظاہرہ کرکے رب کی خوشنودی حاصل کرنا اور خوشی کے پر مسرت موقعوں پر اللہ کا شکر بجا لانا انسان کا ایک اہم فریضہ ہے،
بشر کا فرض ہے ہر حال میں شکر خدا کرنا،
مصیبت ہو کہ راحت ہو نہیں اچھا گلہ کرنا،

عید الفطر مسرت کا ایک اہم دن ہے جو اپنے دامن میں بے پناہ خوشیوں کی سوغات لاتا ہے، مگر یہ مسرت کا دن ان لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے پورے اہتمام کے ساتھ روزے رکھے اور خدا کی عبادت کی، اور جن لوگوں نے رمضان بھر نفس کے مطابق من چاہی زندگی بسر کی واہیات اور بیہودگی میں وقت بسر کیا، نماز روزہ اور دوسرے نیک کاموں سے بیگانہ رہے ان کیلئے آج کا دن تازیانہ عبرت اور بڑی شرو ندامت کا دن ہے، آج ایسے آدمی ضرور عمدہ لباس اور پوشاک زیب تن کئے ہوں گے، مگر اندر سے ان کا دل رورہا ہوگا، اور شرمندہ و اداس ہونگے، محلے اور شہر کے لوگ خاندان کے لوگ حسرت بھری نگاہوں سے دیکھیں گے خدا کی ناراضگی اور پھٹکار، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا ان پر پڑ رہی ہوگی، اور فرشتے ان پر لعنت کررہے ہوں گے، ۔۔ ایسے افراد اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں،

عید الفطر دراصل رمضان المبارک کے مہینہ کی سخت آزمائش عبادت و ریاضت کے صلہ میں ملنے والے انعام کا شکریہ ادا کرنے کیلئے خوشی میں منعقد کی جاتی ہے، رمضان شریف میں ایک ایک ایماندار آدمی صبح سے لیکر شام تک ذمہ دارانہ زندگی بسر کرتا ہے، نہ وہ حلق کے نیچے کچھ اتارتا ہے نہ وہ دوسری چیزوں سے لطف اندوز ہو سکتا ہے، وہ ساری خواہشوں سے منہ موڑے رکھتا ہے، اسی طرح وہ ایک ماہ تک مسلسل پر مشقت کورس سے گزرتا ہے ایک ماہ کے بعد جب بندگی کی انتہائی بلندی پر پہنچ جاتا ہے، صبر و استقامت، خوف خدا اور عزم کی کسوٹی پر کھرا اترتا ہے تو خدا اپنی رحمتوں اور بخششوں سے نوازتا ہے، جس کا ادنیٰ سا بدلہ دنیا میں عید الفطر کی خوشیوں کی شکل میں عطا کرتا ہے، اور اس خوشی میں بندہ اپنے مالک کے حضور دورکعت نماز اس انعام پر بطور شکرانہ ادا کرتا ہے،
عید کا یہ تہوار وسیع پیمانے پر اخوت، بھائی چارے کا درس دیتا ہے خیر خواہی کا یہ عالم ہے کہ عید کی نماز سے پہلے گھر کے سبھی افراد کی طرف خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا صدقہِ الفطر ادا کرتا تاکہ وہ بھی اپنی ضروریات زندگی پوری کرکے عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکے، کیوں کہ حقیقی خوشی کا حاصل دوسروں کی غمزدہ زندگیوں کو آباد کرنا ہے، اس کو خوشیوں سے مالا مال کرنا ہے،
اس سے محبت، بھائی چارہ، اتحاد و اتفاق اور میل ملاپ کے جذبات جنم لیتے ہیں، یہ اجتماعی خوشی ایک ایسا نادر موقع ہے جس سے ایک دوسرے کے مسائل سے آگاہ ہونے اور انہیں سلجھانے کا کوئی واضح لائحہ عمل مرتب کرنے اور ترقی کیلئے نئے وسائل اور صحیح راہ کے تعین میں بڑی مدد ملتی ہے،
حدیث شریف میں ہے کہ جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام آبادیوں میں بھیج دیتے ہیں وہ تمام گلیوں اور راستوں کے سروں پر کھڑے ہوکر پکارتے ہیں۔۔ اے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم۔۔۔ اس مہربان رب کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا کرنے والا اور معاف کرنے والا ہے، پھر جب لوگ عید گاہ کی طرف چلتے ہیں تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں سے فرماتے ہیں۔۔ اے فرشتو۔۔ تم گواہ رہو میں ان کو رمضان کے روزوں اور تراویح کے عوض اپنی خوشی سے جہنم سے خلاصی کا پروانہ عطا کرتا ہوں،
عید در اصل کردار سازی کی دعوت دیتی ہے، حقوق انسانی کے ادائیگی کا سبق سکھلاتی ہے، اگر عید کی مسرتوں میں ہمسایہ اور بچوں کی فریادیں ہمارے دل و دماغ کو متاثر نہ کرسکیں تو ہماری یہ خوشیاں ہمارے ضمیر پر بوجھ ہونگی،
ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ عید کی نماز کیلئے نکلے راستہ میں دیکھا کہ چند بچے زرق برق لباس زیب تن کئے ہیں اور اپنے کھیل میں مشغول میں مگر ایک بچہ جو میلے اور گندے کپڑے میں ملبوس ایک کونے میں بیٹھا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بچہ کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اس پر غم کے آثار ہیں چہرہ فک پڑا ہوا ہے، اور آنکھوں سے آنسوں کی لڑیا جھڑرہی ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے سے پوچھا کہ ۔۔ بتاؤ تم کون ہو اور اداس کیوں ہو آج عید ہے تمہیں تو خوش ہونا چاہیے، ۔۔ اس بچہ نے جواب دیا ۔۔ حضور ۔۔ عید ہے مگر میرا کوئی سہارا نہیں میرے والد شہید ہو چکے ہیں میری والدہ کا کوئی پتہ نہیں، بغیر سہارے کے میں کیسے خوشی مناؤں، نہ میرے پاس مال ہے نہ میرا کوئی گھربار ہے میرا اس دنیا میں کوئی غمخوار نہیں کس پر ناز کروں پھر کیسے عید کی خوشیاں مناؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل یہ سن کر پارہ پارہ ہوگیا، آپ بے چین ہوگئے بچہ کا ہاتھ پکڑا اور گھر لے گئے، حضرت عائشہ سے فرمایا اسے نہلاؤ نئے کپڑے پہنا کر عطر لگا دو اور ارشاد فرمایا پیارے۔۔
اج سے محمد تیرا باپ ہے عائشہ تیری امی فاطمہ تیری بہن اور حسنین تمہارے بھائی ہیں، یہ سننا تھا کہ بچہ باغ باغ ہوگیا اور خوشی سے جھوم اٹھا،
صحیح ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یتیموں کی غمخوار ی اور بیواؤں کی داد رسی نہ فرمائے ہوۓ ہوتے تو آج ان کا کوئی پرسان حال نہ ہوتا،
وہ لوگ جو عید کو محض مسرت کے طور پر مناتے ہیں اس حقیقت کی طرف توجہ کریں کہ کیا ان کے اعمال سچے بندوں کی طرح ہیں یا پھر نہیں،
درحقیقت روزہ اور عید ہماری موجودہ اور موت کے بعد آنے والی زندگی کی طرف اہم اشارہ کرتے ہیں، روزہ بتاتا ہے کہ نیک لوگوں کیلئے دنیا پابندی کی جگہ اور امتحان کا موقع ہے، اور عید اس امتحان کا رزلٹ ہے اور پابندی سے چھٹکارے کا دن ہے جو اس میں کامیاب ہوگا اسکو آخرت میں راحت ہی راحت ملیگی جہاں کبھی کسی قسم کی کوئی بندش نہ ہوگی،
عید کا دن ایک ریفریشر کورس کے بعد اس عزم و اعتماد کا اعادہ ہے کہ ہم دامن عفت و پاکیزگی کے اجلے کپڑوں پر پھر کبھی داغ معصیت و گناہ لگنے نہیں دیں گے جس طرح ایک ماہ عبادت و فرمانبرداری کے ساتھ اوقات گزارے ہیں سال کے بقیہ دن بھی اسی تقدس و عظمت سے گزارنے کی عہد کی تجدید کرتے ہیں، یہی عید الفطر کی روح ہے، اور یہی اس کا پیغام ہے،