عیدالفطر اور ہماری ذمہ داری

ازقلم: محمد عادل معاذ (بہرائچ یوپی)
رابطہ! 6388175558

عید الفطر کے موقع پر ایک نئی بات بتادو جو دراصل نئی نہیں بلکہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات سے ماخوذ اور اور قرآن مجید پر مبنی ہے وہ یہ کہ ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی چاہئے کہ عید کا چاند دیکھنے اور عید کی نماز دوگانہ ادا کرلینے کے بعد روزہ ختم نہیں ہوگیا، ہم مکمل طور سے تمام شرعی بندشوں سے آزاد اور خودمختار نہیں ہوگئے، بلکہ آج عید کے روز ہم نے صرف اس روزے کو مکمل کرلیا ہے جسے تقوی کی صفت پیدا کرنے کے لئے اور ایک ٹرینینگ اور عملی مشق کے طور پر فرض کیا گیا تھا، ہمارا بڑا اور اصل روزہ تو وہ ہے جو بلوغت اور کلمہ پڑھ لینے کے بعد سے شروع ہوا تھا اور موت تک ہمیں یہ روزہ رکھنا ہے”حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندویؒ فرماتے ہیں” بڑا روزہ ہے اسلام کا روزہ، اسلام خود ایک روزہ ہے اور یہ سب روزے اور عیدین بھی بلکہ روزہ، نماز یہاں تک کہ جنت بھی جو اللہ تعالیٰ عطا فرمائے گا وہ سب اس کے طفیل ہی ہے،اصل بڑا روزہ اسلام کا روزہ ہے، رمضان کا روزہ اور نفلی روزہ تو غروب آفتاب پر ختم ہوجاتا ہے، مگر اسلام کا یہ روزہ تو آفتاب عمر کے غروب ہونے پر ختم ہوگا”(رمضان المبارک اور اس کے تقاضے ص١٠٧) اس میں تمام ممنوعات اور منکرات سے پرہیز کرنا ہے، اور کلی طور پر خدا کے تمام احکام بجالاتے ہوئے ہوئے اسکے سامنے سر تسلیم خم کر دینا ہے، اور اس بڑے روزے کا افطار اللہ تعالیٰ جنت میں بڑی شان و شوکت کے ساتھ عمدہ دسترخوان پر لذیذ ترین کھانوں اور عمدہ مشروبات سے کروائیں گے، ارشاد ہوگا”کلو واشربوا ھنیئا بما کنتم تعملون” خوشی کے ساتھ کھاؤ پئو ان اعمال کے بدلے جو تم دنیا میں کیا کرتے تھے، رمضان المبارک کا روزہ تو دراصل اسی بڑے روزے کے لئے انسان کو تیار کرنے اور عملی مشق و تمرین کے لئے آیا تھا جو کہ جاچکا، لہٰذا رمضان المبارک کے چلے جانے کے بعد ہمیں یہ نہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم آزاد ہوگئے۔
رمضان المبارک کے دوران ہم نے روزہ رکھا تراویح پڑھی، روزہ اور تراویح کی مشقتوں اور تکلیفوں کو برداشت کیا، بھوکے اور پیاسے رہے، شدید رغبت و خواہش کے باوجود صرف ایک خدا کی رضا جوئی کی خاطر نفس کو کنٹرول رکھا، اور تمام ان مرغوبات سے دست کش ہوگئے جن سے دور رہنے کا خدا نے حکم دیا، لہٰذا ان مشقتوں اور تکلیفوں کے برداشت کرنے کے عوض میں خدا نے عید الفطر کا تحفہ دیا، اس دن خوشیاں منانے کا حکم دیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے کہ ” ہر قوم میں ایک خوشی کا دن ہوتا ہے اور ہماری خوشی کا دن آج کا دن یعنی عید الفطر کا دن ہے” آج کے دن اچھا لباس زیب تن کرنے اور اچھی غذاؤں کا لطف لینے کا دن ہے، آج ہمارے جسموں پر نئے نئے پوشاک اور عمدہ ترین ملبوسات ہیں، کھانے کے لئے عمدہ اور لذیذ کھانے ہیں لیکن تصور کیجئے ان غریبوں، مسکینوں، یتیموں، بیواؤں اور بے سہارا لوگوں کی عید کے بارے میں، انکو آج کے دن کیا خوشی ہوگی جن کے پاس پہننے کے لئے نئے کپڑے نہیں ہیں، اور کھانے کے لئے اچھی غذائیں میسر نہیں ہیں، جو بوسیدہ کپڑوں میں عیدالفطر منانے پر مجبور ہیں، ہمارے اوپر یہ لازم ہے کہ اپنا مال خرچ کرکے صدقہ اور زکاۃ نکال کر انہیں انکی خوشی حاصل کرنے کا موقع دیں،اور انکی چہرے پر مسکراہٹ لائیں، کتنے بے کس و بے سہارا لوگ ہیں جن کے پاس تعلیمی اخراجات پورا کرنے کے لئے پیسے نہیں ہیں، ہم انکے تعلیمی اخراجات مہیا کرانے میں انکی مدد کریں اور انہیں اس بات کا احساس نہ ہونے دیں صرف پیسوں کی کمی کی وجہ سے انکی تعلیم ناقص رہ گئی اور صرف تعلیمی اخراجات پورا نہ کرپانے کی وجہ سے وہ تعلیم سے محروم رہ گئے، کیونکہ مالدار مسلمان ہی غریب مسلمانوں کا سہارا ہیں، اور زندگی میں جس طرح غریبوں کے کھانے کے انتظام کی ذمہ داری امیروں اور ذی حیثیت لوگوں پر عائد ہوتی ہے اسی طرح انکی تعلیم کے انتظام کی ذمہداری بھی عائد ہوتی ہے اور تعلیم کی اہمیت تو سب سے بڑھ چڑھ کر ہے کہ اگر ہمیں اپنے معاشرے میں ایسے افراد نہیں ملے جو ہمیں نماز پڑھا سکیں، ہمارا نکاح اور نماز جنازہ پڑھاسکیں اور ہمیں اچھے اور برے کی تمیز سکھلاسکیں جائز اور ناجائز اور حلال و حرام کا حکم بتلاسکیں ، ہمارا صحیح علاج و معالجہ کرسکیں اور خدا نا ترس ڈاکوؤں اور لٹیروں کے پاس جاجاکر اپنی دولت لٹانے سے بچا سکیں تو گویا ہم اپنی تباہی کا سامان آپ کررہے ہیں، اسکے ذمہ دار ہم خود ہیں نا کہ کوئی اور، لہٰذا تعلیم سب سے اہم اور سب سے بنادی چیز ہے اور اسکی فکر لازم ہے، اسکے لیے ہمیں خواہ کتنی ہی رقم خرچ کرنا پڑجائے۔