عید ملن تقریب یا قومی یکجہتی پروگرام زمینی سطح کے لوگوں کے درمیان کرنے کی ضرورت

ازقلم: (مولانا ڈاکٹر ) ابوالکلام قاسمی شمسی


ہمارا ملک آپسی پیار و محبت اور قومی یکجہتی کے لئے مثالی رہا ھے ، ہندو ،مسلم ،سکھ ،عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ ہمیشہ مل جل کر رھتے آئے ہیں ، مگر کچھ فرقہ پرست عناصر نے گزشتہ دو دہائیوں سے ملک میں اقلیت اور اکثریت کے تنازعہ کو کھڑا کردیا اور نفرت کا ماحول بنادیا ،اور اس کو ہوا دی ، جس کی وجہ سے موجودہ وقت میں پورے ملک میں نفرت کی فضا قائم ہوگئی ھے ، اس کے لئے جس زہر کا استعمال کیا گیا ، وہ نہایت ھی خطرناک ھے ،وہ یہ ھے کہ اکثریت کے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ فرقہ وارانہ ماحول پیدا کرو اور فساد کراؤ ، اور اس کو اتنا بڑھاؤ کہ مسلم سماج کے لوگ محلہ اور گاؤں چھوڑنے پر مجبور ھو جائیں اور پھر جب یہ لوگ بھاگ جائیں گے تو ان کے گھر ،زمین جائیداد تمہارے ہوجائین گے ، ٹھیک وہی فکر ذہن میں ڈالنے کی کوشش کی گئی اور کی جارہی ھے ، جس کو ملک کی آزادی کے وقت استعمال کیا گیا تھا ،جس کی وجہ سے مسلمان گاؤں اور محلہ چھوڑنے پر مجبور ہوگئے تھے اور لوگوں نے ان کے مکانات ،اور زمین و جائیداد سب کو اپنے قبضہ میں لے لیا ،یہی ماحول موجودہ وقت میں پیدا کیا گیا ھے اور اس کو بڑھایا جارہا ھے ، آزادی کے موقع پر فرقہ وارانہ فساد کے لئے بھی برادران وطن کے نچلے طبقہ کو استعمال کیا گیا تھا ،اور اس مرتبہ بھی ان ھی کو استعمال کیا جارہا ھے ، اس لئے موجودہ وقت میں زیادہ نفرت کا ماحول برادران وطن کے پسماندہ طبقات اور برادریوں میں پایا جاتا ھے ،اور ان ھی کو زیادہ غلط کاموں کے لئے استعمال کیا جاتا ھے اور یہ آسانی سے استعمال بھی ھو جاتے ہیں ،چونکہ ان میں تعلیم اور فکر کی کمی ھے
عید ملن اور قومی یکجہتی کے پروگرام کی اھمیت مسلم ھے ، اس طرح کی تقریبات سے ایک دوسرے سے محبت بڑھتی ھے ، اور دوری کم ھوتی ھے ، اس کے لئے ضروری ھے کہ اس کا انعقاد صحیح جگہ پر ھو اور اس میں ایسے لوگوں کو زیادہ بلایا جائے جن کو غلط کام کے لئے استعمال کیا جاتا ھے ،اور جو آسانی سے استعمال ھو جاتے ہیں ، مگر موجودہ وقت میں اس طرح کی تقریبات کو بھی سیاسی بنادیا گیا ، اور ان کے لئے ایسے ہی مقامات اور افراد منتخب کئے جانے لگے ، جس کی وجہ سے عید ملن ھو یا قومی یکجہتی پروگرام سب بے اثر ھو گئے ، ہو سکتا ھے کہ ایسی تقریبات کو منعقد کرانے والے اپنے مقصد میں کامیاب ھو جائیں ،مگر اس سے سماج کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ھے ، اس کی وجہ یہ ھے کہ ان بڑے بڑے لوگوں کا کوئی رابطہ ان پسماندہ طبقات تک نہیں ھے ،جو استعمال ھوتے ہیں ، ان لوگوں تک ان ھی لوگوں کی پہنچ ھے جو ان کے درمیان چھوٹے چھوٹے ورکر کام کرتے ہیں ، اس لئے عید ملن یا اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کرتے وقت ہمیں اس پر غور کرنا چاہئے ، اور اب یہ کوشش کی جائے کہ گاوں گاوں ،محلہ محلہ عید ملن اور قومی یکجہتی کے پروگرام کئے جائیں ، اور یہ پروگرام ان مقامات پر کئے جائیں جہاں برادران وطن کی پسماندہ برادریاں رھتی ہیں ، اور اس طرح کے پروگرام میں بیچ کے ورکر اور نیچے سطح پر کام کرنے والوں کو شامل کیا جائے ،
موجودہ وقت میں ہمیں فکر کو بھی بدلنے کی ضرورت ھے ،ہر کام کے لئے ہم انتظار کرتے ہیں کہ کوئی بڑی تنظیم اس کام کو کرے ، جبکہ ان کا کام ان کی حیثیت کے مطابق ھوتا ھے ، چونکہ ان کے مدعوئین بڑے بڑے حضرات ھوتے ہیں ،جن کے لئے پانچ ستارہ ھوٹل ھی مناسب ھوتا ھے ، اس لئے پانچ ستارہ ھوٹل کا استعمال کیا جاتا ھے ، یہ تو ھے بڑے لوگوں کی بات ، رہی ھم لوگوں کی بات ، تو چھوٹے پیمانہ پر ھم بھی تو اپنے گاؤں / محلہ میں چھوٹے اور نیچے طبقہ کے درمیان ایسے پروگرام کا انعقاد کر سکتے ہیں ، گاوں / محلہ کے نوجوان اس کے لئے کھڑے ھوں تو یہ کام مشکل نہیں ھے ،اس طرح کا پروگرام ہر محلہ اور گاؤں میں کیا جائے ،اس میں برادران وطن کے اچھے لوگوں کو ، سماجی کارکنوں کو اور زیادہ سے زیادہ پسماندہ برادریوں کے لوگوں کو شامل کیا جائے ،اور ان کو اپنے سے قریب کیا جائے ، تو بڑا فائدہ حاصل ھوگا ، اس کام کے لئے ہر محلہ اور ہر گاوں میں کمیٹی بنائی جائے ، اس کام کو کمیٹی انجام دے ، اخراجات مقامی تعاون سے پورے کئے جائیں ، اس طرح کی تقریبات کا انعقاد کر کے نفرت کے ماحول کو کم ھی نہیں بلکہ ختم کیا جاسکتا ھے ، ضرورت اس بات کی ھے کہ ھم دوسروں کی طرف دیکھنے کے بجائے ھم خود اس کے لئے اٹھ کھڑے ھوں ،اللہ تعالی ہمیں توفیق عطا فرمائے۔