ماہِ شوال میں نکاح منحوس نہیں!

ازقلم: احمد حسین مظاہری، پرولیا

یقیناً یہ بات ہرکس و ناکس پر اظہر من الشمس ہے کہ ماہِ شوال کی پہلی تاریخ کو عید الفطر منائی جاتی ہے،جو اسلام کا ایک عظیم الشان تہوار ہے اورمسلمانوں کے لیے بڑی مسرت اورخوشی کا دن ہے۔
ماہِ شوال اسلامی سال کا دسواں قمری مہینہ ہے۔
ماہِ شوال کا لغوی معنی اور وجہ تسمیہ:
۱۔‘‘شوال‘‘ عربی مصدر ’’شول‘‘ سے مشتق ہے ،اور’’شول‘‘ کے معنی’’اوپراٹھنا اوراوپر اٹھانا، بلند ہو نا اوربلند کرنا‘‘کے آتے ہیں ۔عربی میں کہاجاتا ہے’’ شالت الإبل بأذنابها للطراق‘‘یعنی نر اونٹ نے جفتی کرنے لیے اپنی دم اوپر اٹھالی۔(قاموس الوحید)
ہمارے معاشرے و سوسائٹی میں ماہِ شوال میں نکاح کرنے کو معیوب اور غلط سمجھا جاتا ہےاور ایسے بے بنیاد نظریات وتوہمات میں عمومًا خواتین زیادہ مبتلا ہوتی ہیں۔قارئین! شوال میں نکاح کو منحوس سمجھنے کی وجہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں عربوں کا خیال تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب کہتے کہ ’’شوال ‘‘ كا نام’’شوال ‘‘ اس ليے ركھا گيا كہ اس مہینے میں اوٹنى كا دودھ كم اور ختم ہو جاتا تھا،اور اونٹنی اونٹ سے دور ہوجاتی تھی، اس وجہ سے عرب اس ماہ ميں عقد نكاح کو منحوس سمجھتے تھے، اورکہتے کہ منكوحہ عورت بالكل اسى طرح خاوند سےدور اور رك جاتى ہے،جس طرح اونٹنى اونٹ سے دور رہتى اور اپنى دم مارتى ہے۔۔
صد افسوس! کہ آج کا مسلمان دینِ اسلام کی تعلیمات سے کس قدر بے خبر ہے!! اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس سے متعلق شریعت کی تعلیمات کو سمجھے، تاکہ معاشرے میں رائج یہ غلط فہمیاں دورہوسکیں علماء کرام سے معلوم کرے تاکہ اغلاط کا ازالہ ہوسکے۔
قارئین!واضح رہے کہ شریعت میں سال کے بارہ مہینوں اور دنوں میں کوئی مہینہ یا دن ایسا نہیں ،جس میں نکاح کی تقریب مکروہ اور ناپسندیدہ ہو یا اس میں نکاح منحوس اور شادی ناکام ہوجاتی ہو۔ شادی بیاہ کے لئے اسلام نے کسی مہینہ یا دن کو منحوس نہیں بتایا ہے اس لئے کسی دن یا مہینہ میں نکاح کو منحوس سمجھنا اسلامی عقیدہ نہیں ہے یہ عقیدہ باطل اور قابلِ ترک ہے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں شوال کے مہینہ میں نکاح کو منحوس سمجھا جاتا تھا، لیکن میرا نکاح شوال کے مہینہ ہی میں ہوا اور رخصتی بھی شوال کے مہینہ ہی میں ہوئی۔ مگر کتنی افسوس کی بات ہے کہ آج بھی بہت سے مسلمان دور جاہلیت کے اس عقیدہ میں مبتلا ہیں اور اس ماہ میں شادی بیاہ کو برا اور منحوس سمجھتے ہیں ، جو سراسر باطل ہے ، اور رسول اللہ ﷺ نے خود اس ماہ میں حضرت عائشہ سے نکاح کرکے اس عقیدہ کے فساد اور بطلان کو واضح کیاہے۔۔۔۔
اسلام میں کسی دن،کسی مہینے، کسی سال یا کسی چیز کی نحوست کا کوئی تصور ہی نہیں ہے، البتہ نحوست صرف گناہ میں ہے، ساری نحوستیں اللہ کی نافرمانی کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں، افسوس کہ آج کا مسلمان دنوں اور مہینوں کو نحوست زدہ قرار دے کر ان میں شادی سے تو گریز کرلیتا ہے، لیکن شادیوں میں اللہ کی نافرمانی نہیں چھوڑتا۔۔!!
باری تعالیٰ ہمیں ایسے بے بنیاد نظریات وتوہمات سے مامون رکھے اور زندگی اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔