مذہب اسلام اور شدت پسندی؛ مختصر تجزیہ

ازقلم: اظفر منصور، معاون مدیر ماہنامہ سراغ زندگی لکھنؤ
8738916854

آج کل عالَم خصوصاً ہندَوستان میں مذہب کی بڑی ریل پیل ہے۔ ہر ہر محکمے میں مذہب کا ایشُو بڑے پیمانے پر اٹھایا جا رہا ہے۔ جس کی ایک بڑی وجہ کچھ سیاستدانوں کے اقوال و افعال اور مذہبی نعروں سے نوجوانوں کے قلوب کو گرمانا بھی ہے۔ لیکن مذہب کی شدت میں آکر لوگ انسانیت کو کیوں تہہ و تاراج و شرمسار کرنے پر اتر آتے ہیں یہ ایک اہم سوال ہے۔ جس کا جواب مذہب میں تو نہیں لیکن مذہب کی بنیاد پر بیجا کٹّرتا اور شدت پسندی میں موجود ہے۔ اس لئےاس سوال کو زیر بحث لانے سے صاحب عقل و خرد اور اہل مذاہب کو احتراز کرنا چاہئے۔ اچھا جب مذہب کی بنیاد پر کسی شخص یا گروہ میں شدت پسندی آتی ہے تو کیا ہوتا ہے اس کا مفصل مشاہدہ آپ حالات ِحاضرہ سے کر رہے ہونگے۔ لیکن میں قرن اول کے ایک واقعے سے اس کا مختصر تجزیہ رقم کرنا چاہوں گا۔
اس سے پہلے ذرا آپ سوچیں کہ کیا ماں کی ممتا کو مذہب کی بیڑیوں میں جکڑا جا جا سکتا ہے؟
کیا کبھی ماں جو کہ اپنے بچے کی پرورش و پرداخت میں مصیبتوں کے کیسے کیسے کوہِ گراں سے نبرد آزما ہوتی ہے؟ وہ اپنے نوجوان حسین وجمیل لڑکے کو فقط مذہبی حمیت و خاندانی راہ رسم سے بغاوت کی وجہ سے سینے سے الگ اور آنکھوں سے قطع کرسکتی ہے؟ شاید ایسا ممکن نہیں ہے، لیکن آج سے چودہ سو سال قبل جب حرا کی غار میں شرح محمدی پر نور ایمانی کا انشراح ہوا۔ فاران کی چوٹی نے لا الہ الا الله محمد رسول اللہ کی نغمہ سنجی کی۔ توحیدی مشن کے کارکنان دو سے تین تین سے چار ہوتے جا رہے تھے۔ لیکن بت پرستی اور ظلم و استبداد کی اس بھیڑ میں اس مختصر سی نبوی جماعت کی ترقی کے روح پرور مناظر دیکھنے کی سکت قریش کی آنکھوں میں کہاں؟ ان حالات جو کچھ ہوا مؤرخین نے بڑی عرق ریزی سے تنکا تنکا تلاش کر اپنے قلم کے حافظے میں محفوظ کیا۔ چنانچہ حق و باطل کی زبردست کشمکش کے درمیان ہی ایک پچیس سالہ سلیم الطبع نوجوان شامیانۂ ِاسلام میں داخل اور دامن مصطفوی سے وابستہ ہوتا ہے۔ پھر کیا تھا خاندانی روایتی مذہب سے بغاوت کی پاداش میں عزیزوں رشتہ داروں کا طیش و تنفرانہ کردار اس خوبرو شخص پر ٹوٹ پڑا۔ دوستوں نے اظہار لاتعلقی کردیا۔ اب بچی تھی "ماں” ماں نے جب سنا کہ میرا جگر مجھ ہی سے بغاوت پر اتر آیا ہے تو ماں نے اولاً انکار کی طبلیاں بجائیں۔ لیکن جب دہقاں آشنائے طوفان ہوا تو جذبات میں بڑبڑاتے ہوئے بولی: کیا میرا نازوں میں پالا ہوا بیٹا۔ کیا میری آنکھوں کا تارا بیٹا۔ کیا میرا شہزادہ بیٹا۔ ممتا سے بغاوت کر بیٹھا؟ کیا پچیس سالہ لاڈ و پیار سے بغاوت کر بیٹھا؟ کیا اس نے آباؤاجداد کی روایات کو قدموں تلے دبا کر دین محمدی کا گرویدہ ہوگیا۔ نہیں نہیں!!! یہ نہیں ہوسکتا
لیکن ادھر تو نور ربانی مصعب بن عمیر کے قلب و دماغ کو جلوہ ایمانی سے شاداں و فرحاں کر چکا تھا۔ اب ان کے منجمد قدموں میں ڈگمگا ہٹ پیدا کرنے کی طاقت ماں کے نازک احساسات میں تھی نہ انکی کربناک و خوفناک آنکھوں میں۔ لہذا پیہم ماں واپس اپنے تصوراتی مذہب میں آنے کے لیے کوششیں کرتی رہی کبھی زد و کوب کر کے تو کبھی آنچل میں چھپا کر کے۔ لیکن جب مصعب بن عمیر نے سرعام بغاوت اور دین برحق پر برملا قائم و دائم رہنے کا اعلان کردیا تو ماں جو کہ ایک پل کے لیے بھی اولاد کی دوری برداشت نہیں کر سکتی آج گھر بدر کرنے کا فیصلہ کر رہی تھی۔ اپنی ممتا کو للکار رہی تھی کہ مذہب ہی اصل اولاد ہے مذہب ہی حقیقی دامن حیات ہے۔ چنانچہ جو دل منور ہو چکا تھا۔ اور اپنے من میں ڈوب کر سراغ زندگی پا چکا تھا وہ کیونکر ان وقتی آزمائش و ابتلاء سے ہار کر کاشانہ رسالت ﷺ سے رشتہ توڑ کر عارضی الفت و محبت کے دامن پر فریب میں گرفتار ہوتے۔ وہ مکہ سے ماں کے سامنے وفا اور محبت کی تیر چلاتے ہوئے یثرب کی طرف آخری ہجرت کرتے ہیں اور دائمی نجات کی جانب منتقل ہوجاتے ہیں۔ چنانچہ یہ بات واضح ہوگئی کہ مذہب میں کٹرتا اور شدت پسندی آتی ہے تو وہ قوت احساس و فکر کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ سوچنے سمجھنے اور فیصلہ کرنے کا موقع چھین لیتی ہے۔ اس لیے لوگوں کو چاہیے کہ وہ متشدد نظریات سے دوری بنائے رکھیں۔ مذہب کے بنیادی اصولوں پر سختی سے عمل کریں لیکن اس معاملے میں دوسروں کو مجبور نہ کریں۔ جیسا کہ آج کل ہندوستان میں چل رہا ہے۔ پوری ہندتوادی تنظیمیں تمام تر اقلیتوں پر اپنے قوانین و مذہبی امور کو تھوپنا چاہتی ہے لیکن ایسا ان شاءاللہ تا دم آخر نہیں ہونے والا ہے۔

احساس عنایت کر آثار مصیبت کا
امروز کی سورش میں اندیشہ فردا دے