سیرت محمد مصطفیٰﷺ ہرموڑ پررہنمائی کرتی ہے

ازقلم: سیِّد عزیزالرّحمٰن

آج ہمارے ملک کی صورتِ حال بدل چکی ہے ، مسلمانوں کو جگہ جگہ ہراساں کیاجارہا ہے ، ان کی ماب لنچنگ کی جارہی ہے، ان کے کھانے پینے کی چیزوں پر نظررکھی جارہی ہے ، ان کے پرسنل لا میں دخل اندازی کی جارہی ہے ، داڑھیرکھنے ٹوپی پہننے پرپابندی لگانے کی کوشش کی جارہی ہے ،حجاب پرپابندی عاٸد کرنےکی سعی کی جارہی ہے ،عبادات سے روکاجانے لگاہے ، عیدگاہ میں عیدین کی نمازیں پڑھے جانے سے بھی روکنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے ، ماٸک پراذان جو محض ایک اعلان اور دعوتِ نماز ہے اس پر بھی تقریباً پورے ملک میں پابندی عاٸد کی جاچکی ہے، آخر ایسا کیوں کیاجارہا ہے ؟ کیوں مسلمانوں کا اس ملک میں جینا دشوار کیاجارہا ہے ؟ کیوں انہیں دوٸم درجے کا شہری بنانے کی مسلسل جدوجہد جاری ہے ؟ کیا اس لیے کہ مسلمانوں کی تعداد ہندٶوں سے کم ہے اس لیے ایسا ہورہا ہے ؟ تو اس وقت جب اسی ملک میں مسلمان چار سے پانچ فیصد تھا لیکن ملک کا حکمران مسلمان ہوا کرتا تھا مسلمانوں پرمظالم کیوں نہیں ڈھاۓ جاتے تھے؟ کیا مسلمانوں کا ایمان واخلاق اور عقاٸد و اعمال بگڑ چکے ہیں ؟ اس لیے ان کو طرح طرح کی اذیتیں دی جارہی ہیں اور ان کا گھیرا تنگ کیاجارہا ہے ؟ تو نبی محمد صلى الله عليه واله وسلم اور آپ کے اصحاب کو مکے میں کیوں ستایاجارہا تھا ؟ نعوذ باللہ ثم نعوذباللہ کیا ان کے اعمال واخلاق خراب تھے ؟ ہرگز نہیں یقیناً ہرگز نہیں وہاں تو ایمان، اخلاق ، عقیدہ ، عمل و کردار سب کمال پرتھا پھربھی ستایا جارہا تھا گرم پتھروں اور ریت پرلٹایا جارہا تھا راستے میں کانٹے بچھاۓ جارہے تھے عین حالت نماز میں گردن پر اونٹ کی اوجھ ڈالی جارہی تھی ، طاٸف میں محمد مصطفےٰ صلى الله عليه وآله وسلم پر سنگ باری کی جارہی تھی ، آخر ایسا کیوں کرہورہاتھا؟ کیا یہی صورتِ حال مدینے میں نبی صلى الله عليه واله وسلم کی سرکار بننے کی بعد بھی باقی رہی تھی؟ کیانبی کی مدنی زندگی میں کسی خاتون کی جرات تھی کہ وہ نبی صلى الله عليه واله وسلم کے جسمِ اطہر پرکوڑا پھینکے؟ کیافتح مکہ کےبعد کسی کی جرات تھی کہ وہ مسلمانوں کوستاۓ ؟ کیامکہ فتح ہوجانے کے بعد کسی کی ہمت تھی کہ وہ اپنی بچی کو زندہ درگور کردے یاسودی کاروبار کرلیوے؟ نہیں ہرگز نہیں کیوں کہ مدینے میں نبی محض نبی ورسول نہیں بلکہ ایک حاکم بھی بن چکےتھے، قوت امر آپ کو حاصل ہوچکی تھی.
بھارت کا مسلمان آج حکمران نہیں رہا نہ ہی حکمرانی میں شامل ہے اور نہ ہی وہ حصول اقتدار کےلیے جوجہد اور سنگھرش کررہا ہے ،سیاست جو حصول اقتدار کا ذریعہ ہے اس سے اس نے دوری بنالی ہے تھوڑی بہت جو سیاست اس میں پاٸی جاتی ہے اس سیاست کا حقیقت سے کوٸی تعلق نہیں ہے ، اس لیے کہ مسلمان بغیرقیادت کی سیاست سے تو آزادی سے پہلے سے ہی وابستہ ہے۔
آزادی اور تقسیم ِ وطن کےبعد بھی مسلمان کانگریس کےساتھ رہا صرف ساتھ ہی نہیں بلکہ اتناوفادار رہا گویا اس کی حریف پارٹی جن سنگھ یعنی بی جے پی کا فقط یہی مسلمان مدمقابل کےطور پر جاناجانےلگا لیکن کانگریس نے مسلمانوں سے عہدشکنی پرعہدشکنی کی بےوفاٸی پربےوفاٸی کی، ان کی بابری مسجد ان سےچھین لی، میرٹھ ملیانہ کا واقعہ اسی کے عہدِ حکومت میں پیش آیا ، یوم آزادی کی تقریب سے دوروز قبل 13 اگست 1980کومرادآباد کی عیدگاہ کو میدان کربلا میں تبدیل کردیا گیا پھربھی مسلمان ”کانگریس زندہ آباد “ کے نعرے لگاتا رہا۔

دلِ ناداں تجھے ہوا کیا ہے ؟
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
یاالٰہی یہ ماجرا کیا ہے ؟
جان ان پر نثار کرتے ہیں
جونہیں جانتے وفا کیا ہے ؟

مسلمانوں کی سیاست فقط تماشہ بن کررہ گٸی یا یوں کہا جاۓ کہ سیاست میں مسلمان محض تماش بیں بن کررہ گیاہے کیوں کہ وہ آزادی کے بعد سے ایک بے مقصد، لغو کام میں لگاہوا ہے اس لیے کہ اس نے اپنی سیاست کو اسی میں محدود کرلیا کہ ” کسی پارٹی کو ہرانا ہے کسی پارٹی کو جتانا ہے “ جو نہ شرعا درست ہے نہ عقلا درست ہے کیوں کہ اسی نظریے اور سوچ کی وجہ سے مسلمانوں کی اپنی سیاسی طاقت و قوت مفقود ہوگٸی ، مسلمانوں کی یہ سوچ کہ کانگریس ، سپا بسپا کو جتانا ہے بی جے پی کو ہرانا ہے فکری انحطاط اور فکری زوال کا ہی نتیجہ ہے بلکہ سیاسی بصیرت کے فقدان کا نتیجہ ہے یہی وہ سوچ ہے جس نے مسلمانوں کو آگے بڑھنے اور حکومت میں حصہ داری سے روک رکھا ہے جب کہ اس ملک کا کوٸی بھی طبقہ اور برادری ایسی نہیں ہے جس نے اپنی قوم کا ووٹ کسی پارٹی کو دینے پر کوٸی معاہدہ نہ کرتی ہو بلکہ اب تو تقریبا ہرطبقے نے اپنی پارٹی بناکر الیکشن میں حصہ لینا یا بڑی پارٹی سے الاٸنس کرنا شروع کردیا ہے لیکن مسلمان اپنی پرانی ڈگر پر کھڑا نظرآتا ہے بلکہ ایسے دوراہے تراہے پر کھڑا ہے جہاں اسے نظرنہیں آرہا ہے کس سمت چلنا ہے؟۔ حالاںکہ اسلام اور سیرت مصطفےٰ میں ہرموڑ پر رہنماٸی موجود ہے لیکن مسلمان علمآ ء اور دانشوران سیرتِ مصطفےٰ سے رہنماٸی لینا پسند نہیں کرتے ہیں یہی وجہ ہے وہ آۓ دن ذلت کی گہری کھاٸی میں گرتے جارہے ہیں ۔

کی محمد سے وفا تونے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح وقلم تیرے ہیں

بمصطفےٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر باو نہ رسیدی تمام بولہبی ست

مسلمان اگر اس ملک میں عزت ووقار کے ساتھ اپنے عقاٸد وعبادات اور تشخصات و شراٸع اسلام کےساتھ رہنا چاہتا ہے اور اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اس ملک میں برابر درجے کا شہری بنا رہے اور اس کے وجود کو کوٸی خطرہ لاحق نہ ہو تو اسے روایتی فکر(ہمارا سیاست سے کوٸی تعلق نہیں ) اور روایتی طرزِ سیاست کو چھوڑ کر قوموں کی امامت کے لیے پیش قدمی کرنی ہوگی ۔
ایسے لوگ جو وفا جانتے ہی نہیں ان سے دوستی اور وفاداری کادم بھرنا چھوڑنا پڑے گا اور اپنی سیاسی پارٹی ”پیس پارٹی “ کو مضبوط کرکے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔