حسن اخلاق کامیابی کی شاہ کلید!

ازقلم: احمد حسین مظاہری پرولیا

فی الوقت نہ صرف ہندوستان کے مسلمان بلکہ پوری دنیا میں مسلمانوں کے خلاف جبرو استبداد،جوروستم،ظلم وبربریت اور عداوت و منافرت کا برتاؤ ہورہا اور دن بدن مسلمانوں کے نجی قوانین پر بھی قدغن عائد کی جارہی ہے!کیا ہمیں معلوم ہے ان سب کی وجوہات کیا ہے؟ تلخ حقیقت یہ ہی ہے کہ وجہ ہماری سوسائٹی! جی قارئین! مسلم قوم کے ہرشعبۂ حیات میں اخلاقیات کا بحران ہے۔۔۔۔!اور ہنوز مسلمان جن کٹھن اور صبر آزما حالات سے گزر رہا ہے وہ مُکافاتِ عمل ہے؛ آج ہمارے اندر سے خیر خواہی،احساس،غمخواری، ہمدردی اور انسانیّت ختم ہوچکی ہے؛جس کی پاداش میں ہم لوگوں پر باطل قوم مسلط ہے؛اخلاقِ رزیلہ و سیئہ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے اور ہمیں احسان تک نہیں ہے۔تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مہذب انسانی معاشروں کی تخلیق میں اخلاقیات نے بنیادی کردار ادا کیا۔
اخلاق کیا ہے؟ مخلوقِ خدا کیساتھ نرم خوئی،لطف و مہربانی،سہولت و آسانی اور کلفت و مشقت کو دور کرنا حسن اخلاق کہلاتا ہے۔۔۔
کیا یہ ساری صفتیں ہمارے اندر ہے؟
حیف! کہ آج کےہمارے اس خزاں رسیدہ معاشرے میں اخلاقیات،تہذیب و تمدن اور تربیت و تادیب کے آثار تک نہیں پائےجاتے۔۔
یہی وجہ ہے کہ ہم رسواء اور زوال پذیر ہو رہے ہیں اور بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھا رہا ہےاور ہمیں کوئی فکر ہی نہیں۔
یادرکھیں! جب تک ایک مسلمان حُسنِ اخلاق جیسی صفت سے متصف نہ ہوجائے اس کی زندگی دوسروں کے لیے نمونۂ عمل نہیں بن سکتی؛آج ہم اپنے ارد گرد اور معاشرے پر نظر ڈاليں تو يہ بات سمجھ میں آئے گی کہ حسن اخلاق والی صفت ہمارے اندر سے مفقود ہو رہى ہے اور حسن اخلاق كى جگہ بد خلقى معاشرے ميں جنم لے رہی ہے؛جبکہ اسلام کے زرّیں اصولوں میں اخلاق کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔حق جل مجدہ نے قرآن کریم میں برملا ارشاد فرمایا :اے نبی ؐ اگرکوئی آپ کو مجنون کہہ رہا ہے تو آپ دل گرفتہ نہ ہوں.ان کے کہنے سے آپ مجنون نہیں ہوجائیں گے. آپ کے اخلاق تو خود منہ بولتا ثبوت ہیں کہ آپ کی شخصیت نہایت متوازن ہے.آپؐ کے اخلاق توانتہائی اعلیٰ ہیں: وَ اِنَّکَ لَعَلٰی خُلُقٍ عَظِیۡمٍ۔اورایسا کیوں نہ ہو آپ مکارم اخلاق کے اعلیٰ معارج کی تعلیم و تربیت اور درستگی کے لیے مبعوث فرمائے گئے۔۔
قارئین! اسلام نے اچھے اخلاق کو ایمان کی نشانی بتایا ہے اور مسلمانوں کو یہ درس دیا ہے کہ برے اخلاق کسی بھی مومن کے شایان شان نہیں۔ایک صحابیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم جہاں کہیں بھی رہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو، برائی کے پیچھے نیکی کرلیا کرو؛بے شک نیکی برائی کو مٹادے گی اور لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آؤ۔ (ترمذی)
ایک دوسری حدیث میں ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قیامت کے دن اعمال کے ترازو میں سب سے زیادہ وزن اچھے اخلاق کا ہوگا۔(ترمذی)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمہ وقت کشادہ رو، اور انبساط و بشاشت کے ہمراہ رہتے تھے۔
اللہ کے نبی نے فرمایا:الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ (صحیح مسلم و سنن الترمذی)
اچھا اخلاق سب سے بہترین نیکی ہے۔
اچھے اخلاق سے متصف انسان روزہ دار اور تہجد گزار کے درجہ کو پہنچ جاتاہے۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ کا اخلاق تو قرآن ہی تھا۔
قارئین!معاشرے میں امن وامان پھیلتا ہے؛حسن خلق سے محبت بڑھتی ہےاور اختلافات کا قلع قمع ہوتاہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخلاق حسنہ کی دولت سے تڑپتی انسانیت کی غمخواری کی، اپنے ازلی وابدی دشمنوں کو پتھر کے جواب میں پھولوں کا گلدستہ پیش کیا جو کے واقعات کتابوں میں موجود ہیں۔۔۔لہذا ہر انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ اخلاقی رویہ بہتر رکھنا چاہئے تاکہ بہتر معاشرہ قائم اور حضور اکرم کی تعلیمات عام ہوں۔
قارئین! اگر ہمارے اخلاق اچھے ہوگئے تو ہمیں کوئی طاقت کسک نہیں پہنچا سکتی؛ ہمیں کرنا کیا ہے؟ کہ اللہ کے واسطے کسی پر طنز کے تیر نہ ماریں،کسی کی غیبت نہ کریں ،کسی سے جھوٹ نہ بولیں، جب بھی بولیں سچ…… کسی پر ظلم نہ کریں،کسی کا حق نہ ماریں ، کسی پر رعب نہ جھاڑیں، لوگوں سے خندہ پیشانی سے ملیں،خلق خدا کی بہتری کا سوچا جائے تو جب یہ اخلاقیات ہمارے قلوب میں جاگزیں ہوجائیں گے تو ہمارے لیے زندگی گزارنا سہل ہوجائے گا؛اور کوئی قوم ہمیں تکلیف نہیں دے سکتی۔۔۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اخلاق نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اپنانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)