غزل: چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح

نبھا رہا تھا تعلق جودوستی کی طرح
سلوک آج اسی کا ہے اجنبی کی طرح

وجود اس کا مِری سانس ہے نہیں ہرگز
مگروہ مجھ میں ہے شامل بھی زندگی کی طرح

صلہ ملے گا تجھے کیسے رب کی جانب سے
جوبندگی ہی نہیں تیری بندگی کی طرح

قیامِ امن بھی ممکن ہے اس جہاں میں مگر
یہ آدمی توبنے پہلے آدمی کی طرح

غرور ،ظلم وستم سب کو مٹتے دیکھا ہے
نہیں کسی میں بھلاٸی ہے عاجزی کی طرح

جلاٶ علم کی شمعیں کہ روشنی پھیلے
فسادِفکرونظر ہے یہ تیرگی کی طرح

ہے نیک بختی ہماری وہ گھر میں آۓ ہیں
”چمک اٹھے ہیں اندھیرے بھی روشنی کی طرح“

بہت فنون ہیں عاجز جہان میں لیکن
لطیف کوٸی نہیں ان میں شاعری کی طرح

ازقلم: سیِّد عزیزالرّحمٰن عاجزؔ، دیوری کلاں ارجی سدھارتھ نگر
9598345841