آزادئ نسواں کا سراب

تحریر: شفیق احمد ابن عبداللطیف آئمی

یورپ میں صنعتی انقلاب آنے کے بعد مرد کو پیسے کمانے کے لئے لمبے عرصے تک گھر سے باہر رہنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنی بیوی سے دُور رہتا تھا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہوا کہ زندگی گراں ہوگئی اور مرد کو یہ بات ناگوار لگنے لگی کہ عورت کا خرچہ وہ اٹھائے۔ ان دو مسئلوں کا حل مغرب نے یہ تلاش کیا کہ عورت سے کہا گیا کہ تمہیں گھروں میں قید رکھا گیا ہے، لہذا باہر نکلو اور اپنی زندگی خود اپنی مرضی سے جیئو۔ یوں ‘آزادیِ نسواں’ کی خوشنما اصطلاح استعمال کرتے ہوئے عورت کو گھر سے باہر نکالا۔ یعنی عورت کے اخراجات اٹھانے سے مرد آزاد بھی ہوا اور اس کی جنسی تسکین کے لئے ہر جگہ عورت بھی دستیاب ہوگئی۔

عورت پر اس بڑے ظلم کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغرب میں چالیس سال کی عمر کے بعد عورت اپنا سرمایۂ حسن کھوتی جاتی ہے اور معاشرے سے اس کا وجود مٹتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک امریکی عورت نے انٹرنیٹ بلاگ (Blog) لکھا کہ ہم عورتیں چالیس سال کے بعد مردوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتی ہیں۔ جس معاشرے میں امیر مرد کو "روزگار” کی تلاش کرتی نوجوان لڑکیاں ملتی رہتی ہوں، وہاں کیسے عورت کو ماں اور بیوی کا درجہ مل سکتا ہے اور کیسے وہ باعزت مقام حاصل کرسکتی ہیں۔

✾ مغرب میں 35 سے 50 سال عمر کی عورتیں مردوں کی نسبت زیادہ ناخوش اور ڈپریشن کا شکار رہتی ہیں۔

✾ مغربی عورتوں کو مرد اوسطاً 41 سال کی عمر میں طلاق دے کر جوان عورتوں سے معاشقہ کرنے لگ جاتے ہیں اور چالیس پچاس سال کی عورتیں اکیلی پڑ جاتی ہیں۔

✾ پچاس سال کی 10 میں سے 8 مغربی عورتوں کو شکایت ہے کہ وہ مَردوں کی نظروں سے اوجھل ہو چکی ہیں۔ (مطلب مرد ان کی طرف اب "اُس” نظر سے دیکھنا چھوڑ چکے ہیں)۔

✾ جوان دکھنے کے چکر میں طرح طرح کی کریمز anti aging creams کا استعمال کرتی ہیں، چہرے کی سرجری کرواتی ہیں۔ جس سے کاسمیٹکس انڈسٹری سالانہ 200 ارب ڈالر کماتی ہیں۔

جس چیز کو مغربی عورت آزادی اور برابر کے حقوق سمجھتی ہے، وہ دراصل اس کا استحصال ہوتا ہے۔ اس بات کا ادراک اس کو چالیس سال کی عمر میں ہوتا ہے، جب مرد اس کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کرتے کیونکہ ان کا حسن اور جوانی ماند پڑنا شروع ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر وہ دفتر میں، ہوٹل میں اور ڈیٹنگ ویب سائٹس پر ایسے مرد تلاش کرتی پھرتی ہے جو اس کو حقیقی عزت سے نوازے، اس سے شادی کرے اور اس کے ساتھ گھر بسائے۔

یہی وجہ ہے کہ مغرب میں مرد کے مقابلے میں تین چار گنا زیادہ عورت ڈپریشن کا شکار ہوتی ہے۔ پھر اس اضطرابی کیفیت سے نمٹنے کے لیے اس کی کمائی کے لاکھوں روپے ماہر نفسیات، ڈاکٹرز اور ادویات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ مغربی تہذیب نے پہلے عورت کو جوانی میں اُس کی چار دیواری سے نکالا اور اس کا خوب استعمال و استحصال کر لینے بعد پھر اِس تہذیب نے اسے اپنی ترجیحات اور نظروں سے بھی نکال باہر کردیا۔

آزادئ نسواں یا فحاشی کا فروغ:

"آزادیِ نسواں” اور عورتوں کے برابر حقوق کے نام پر صرف بے حیائی اور فحاشی ہی کو فروغ دینا مقصود ہوتا ہے۔ جب کوئی عورت میڈیکل، انجینئرنگ، سائنس یا اقتصادی میدان میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرتی ہے تو اس کو میڈیا ایک تو نہ کے برابر داد دیتا ہے اور دوسرا ایسی خواتین کی ہمت و حوصلہ افزائی بھی نہیں کی جاتی۔ جبکہ فیشن، فلم اور ماڈلنگ میں بے حیائی کا مظاہرہ کرنے والی عورتوں کو میڈیا ‘رول ماڈل’ اور قومی ہیرو کے طور پر پیش کرتا ہے۔

عورت کو ‘آزادیِ نسواں’ کے دھوکے میں ڈال کر اس کو دور حاضر میں ایک ایسی گری پڑی مخلوق بلکہ ایک commodity ایک ‘بیچنے کی چیز’ بنا کر رکھ دیا ہے، جو صرف تجارتی اشیاء کی خرید و فروخت اور مردوں کی تسکین کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ اشتہاری کمپنیوں نے اس کے کپڑے تک اتروا دیے اور اس کے جسم کو تجارتی اشیاء کی فروخت کے لیے فخریہ استعمال کیا۔ ایسی عورت کی حیثیت ایک مال ہے، سودا ہے یا بازاری جنس کی سی ہے۔ اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کیا جاتا ہے جیسا زائد المعیاد اشیا کے ساتھ ہوتا ہے۔ یعنی ‘ضرورت’ کے بعد expire ہوکر سرمایہ داروں اور میڈیا کے ڈسٹ بن کا حصہ بن جاتی ہیں۔