غزل: سرحدوں پراس کی پھر اپنے جیالے جاٸیں گے

جب نشاناتِ شجاعت ہی نہ پاۓ جاٸیں گے
رستم وسہراب کیوں کرہم پکارے جاٸیں گے؟

جب ضرورت ہوگی اپنے ملک پرجاں دینےکی
سرحدوں پراس کی پھر اپنے جیالے جاٸیں گے

موت ہے برحق یقیناً آۓ گی اک دن ضرور
چندکاندھوں پرہی کل ہم بھی سنبھالےجاٸیں گے

پتھروں کی قیمتیں کچھ خاص گرچہ ہیں نہیں
قیمتی ہو جاٸیں گے جب وہ تراشے جاٸیں گے

علم وحسن ِ خلق جب خودہی نہیں استاذ میں
قوم کےبچےبھلاکیسے سنوارے جاٸیں گے

کامیابی بھی قدم ان کے ہی چومےگی جناب!
اس کےآگے گیندبڑھ کرجو اٹھالےجاٸیں گے

عقل کےکوروں کی گرحالت نہ بدلی تو میاں!
”پھرہوا کے رخ پہ انگارے اچھالےجاٸیں گے“

دوستوں کی عارضی ناراضگی ہوتی ہےبس
ہم انہیں عاجز بہت جلدی منالےجاٸیں گے

ازقلم: سید عزیزالرحمٰن عاجزؔ دیوری کلاں پوسٹ ارجی سدھارتھ نگر