غزل: یاد اے جانِ تمنا ترا گیسو آئے

مسکراتے ہوے جب جب بھی وہ گل رو آئے
مشک وعنبر بھی کریں رشک وہ خوشبو آئے

جب بھی لہراتی اٹھےکالی گھٹا ساون کی
یاد اے جانِ تمنا ترا گیسو آئے

اس طرح میرے رگ وپے میں سرایت ہے تو
”کوٸی خوشبو میں لگاٶں تری خوشبو آئے“

وقت نازک پہ بہت کام میں آیا جن کے
وہ ضرورت پہ مرے کام نہ بازو آئے

عدل وانصاف سبھی لوگوں کو دنیامیں ملے
یوں ہی خاصانِ خدا لےکےترازو آئے

اس کی آمد کا جواحساس نہیں ہوتا ہے
ایسے آتا ہے وہ جیسے کوٸی آہو آئے

مجھ سے بیمار کےدل کو نہ سکوں کیوں پہنچے
اس کی آواز جو کوٸل کی سی کوکو آئے

ایسی ظلمت سے ہے مغلوب فضاۓ گلشن
دور تک آج نظر کوئی نہ جگنو آئے

ازقلم: سید عزیزالرحمٰن عاجزؔ