لازمی بنیادی تعلیم ایکٹ اور نئی تعلیم پالیسی کے سلسلہ میں چند ضروری باتیں: میرا مطالعہ

ازقلم: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی


مرکزی حکومت کی جانب سے لازمی بنیادی تعلیم ایکٹ نافذ کیا گیا ، جس کے مطابق سرکار کے گائڈ لائن کے مطابق بنیادی تعلیم کو لازم قرار دیا گیا تھا ، اس ایکٹ کے سامنے آنے کے بعد اہل مدارس کے درمیان بیچینی پیدا ہونا ایک فطری بات تھی ، چنانچہ ایسا ہی ھوا ، اس ایکٹ کے سامنے آتے ہی ہر طرف بیچینی پیدا ہوگئی ، یہ ایکٹ علماء کے درمیان بحث اور تشویش کا سبب بن گیا ، اس موقع پر حضرت مولانا ولی رحمانی رح جنرل سیکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بورڈ کے جنرل سیکریٹری ہونے کی حیثیت سے آگے بڑھ کر اہم رول ادا کیا ، ارباب مدارس میں بیداری پیدا کی ، مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مدارس کے پلیٹ فارم سے اس ایکٹ کے خلاف آواز بلند کی ، اور اس کی کمیوں اور خامیوں کی نشاندھی کی ، اس وقت کے مرکزی وزیر تعلیم سے ملاقات کی ، میمورنڈم دیا ، اور اس سلسلہ میں موثر کاروائی کی ، حکومت نے اس ایکٹ کی کمی کو محسوس کیا اور مدارس کی اہمیت اور اس کے تعلیمی نظام کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے مذکورہ ایکٹ سے مدارس کو مستثنی قرار دیا ، اور اس کے لئے باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ، نوٹیفیکیشن آج بھی موجود ھے اور وہ آج بھی نافذ ھے ، آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں ، مگر ان کے یہ اور دیگر کارنامے ہمیں ان کی یاد دلاتے رہیں گے
مرکزی حکومت کی جانب سے دوسرا قانون نئی تعلیمی پالیسی کے نام سے جاری کیا ھے ، اس نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہیں ھے ، اس کی وجہ یہ ھے کہ مرکزی حکومت نے لازمی بنیادی تعلیمی ایکٹ کو برقرار رکھتے ہوئے نئی تعلیمی پالیسی کو نافذ کیا ھے ، چونکہ لازمی بنیادی تعلیمی ایکٹ سے مدارس مستثنی ہیں ، اور یہ ایکٹ برقرار ہے ، اس لئے مدارس کے سلسلہ کوئی ضابطہ نافذ کرنا مشکل تھا ، اس لئے نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہیں ھے
مذکورہ بالا حقائق سے یہ بات واضح ھے کہ موجودہ وقت میں نہ تو لازمی تعلیمی ایکٹ سے مدارس کو کوئی خطرہ ھے اور نہ نئی تعلیمی پالیسی سے کوئی خطرہ کی بات ھے ، اس لئے موجودہ وقت میں ان خطرات سے اوپر اٹھ کر مدارس کے سلسلہ میں غور کرنے کی ضرورت ہے ،
غور و خوض کا میرے خیال سے اہم پہلو یہ ہے کہ مدارس کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کر نے کے لئے مدارس نظامیہ میں عربی درجات سے پہلے ابتدائی درجات میں باضابطہ 8/ سال کا اضافہ کیا جائے ، ابتدائی 8/ سال میں عصری مضامین اور دینی مضامین پر مشتمل نصاب نافذ کیا جائے ، عربی درجات کے عربی اول اور عربی دوم میں عربی کے ساتھ عصری مضامین بھی شامل کیا جائے ، تاکہ میٹرک تک کی تعلیم مکمل ہو جائے، اس طرح مدارس کا نصاب بھی 8+8=16ہوجائے گا ،اور عصری اداروں کے مساوی ہو جائے گا ، جہانتک بورڈ سے ملحق مدارس کی بات ھے ، تو ان میں معیاری تعلیم پر زور دیا جائے ، تاکہ فارغین مقابلہ جاتی امتحانات میں پیچھے نہ رہیں۔