ماہانہ جہیز

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

بڑی مدت میں، سیکھا ہے ہنر یہ کامیابی کا

لگا لیتے ہیں ہوتا ہے جہاں درکار جو چہرہ

شادی میں جہیز کی رقم، اور قیمتی سامان دینے کی قبیح رسم ہندوانہ رسم ورواج اور اس کے تہذیبی اثرات ہیں ۔۔ہر شادی میں اپنی خوشی سے یا دباؤ اور مانگے سے لڑکی کے ماں باپ، رشتہ دار شادی میں اپنی حیثیت کے مطابق اور حیثیت سے بڑھ کر سامان جہیز دیتے ہیں ۔جن کے پاس مال نہیں وہ سودی قرض لے کر طوعاً وکرہاً( چار وناچار) انجام دے رہے ہیں۔
سماج کا جائزہ لیجیے تو لڑکیوں کو رشتوں کی کمی کا سامنا ہے ۔ انٹر فیتھ ،انٹر کاسٹ کے لوگ بغیر جہیز، بغیر تلک کے مسلم لڑکیوں کی مانگ میں سیندور بھر رہے ہیں ۔اس کے بہت سارے اسباب و وجوہات ہیں ۔ شادی کی عمریں نکلتی چلی جارہی ہے۔رشتے آتے ہیں تو اپنے ساتھ ڈیمانڈ، شرطیں لے کے آتے ہیں ۔۔ Selaction of LIFE partner

شادی کے انتخاب میں جہاں بہت ساری چیزیں ڈھونڈی جاتی ہے ان میں سے مال دار گھرانہ، خوبصورت لڑکی ،عصری تعلیم اور ملازمت پر لگی ہوئی لڑکیوں کو چُنا جاتا ہے۔
دین داری، دین پسندی، اخلاقیات کو ثانوی درجہ حاصل ہے۔
فیملی کاؤنسلنگ سینٹر یا شادی رشتہ سینٹر
marriage bureau &
matri mony center
کے تحت ہونے والے رشتوں میں ایک تفصیلی ایگریمنٹ ہوتا ہے۔ بر سرملازمت لڑکی اور اس کے والدین اس کی تنخواہ کا ایک مختصر حصہ لیے گئے قرضوں کی ادائیگی یا چھوٹے بھائی بہن کی پڑھائی کے لیے ایک طے شدہ مدت تک ملنے پر اکتفاء کرلیتے ہیں ۔ عملاً شاذ ہی طے شدہ مدت تک کسی کو ملے ہوں اکثر اسے شوہر کی ملکیت اور بیوی کے تصرف میں اور اس کے حق پر سسرال میں ڈاکہ سمجھا جاتا ہے اور اس موضوع کو لے کر سسرال میں کھنچا تانی، شکررنجی اور بد مزگی پیدا ہوتی اور لوگ کاؤنسلنگ سینڑ پر رجوع ہوتے ہیں ۔
دراصل عورت کے مالیاتی اختیارات کو اس قدر محدود کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ شادی کے بعد بیوی اپنے والدین ،بھائیوں سے غیر متعلق اور ایک غیر واسطہ شخصیت بنا دی جاتی ہے۔ وہ وپنی کمائی سے پوچھے بغیر پوچھے ون کی مدد نہیں کرسکتی حالانکہ جس نوکری پر وہ لگی ہے اس کے والدین نے بڑی دشواریوں اور گھر بھر نے ہر طرح کی قربانی دے کر فراہم کی ہے۔شوہر اور سسرال والے نہ صرف بیوی /بہو کو اپنے والدین سے ملے جہیز کے سامان اور زیورات کو اپنی ملکیت سمجھ کر کھلے ہاتھوں تصرف کرتے ہیں۔اس کے زیورات نندوں کی شادی میں جبراً دینے کی بھی اطلاعات ہمیں ملتی ہے۔ ( کمانے والا ہاتھ)Earning member ہونے کے باوجود، گھر میں اس کی حیثیت ایک بے دام غلام کی بنا دی جاتی ہے۔رسمی جہیز اور زیورات تو سامان کی شکل میں اسے ایک ہی بار ملتا ہے۔البتہ برسرملازمت بیوی کی شکل میں ماہانہ جہیز کی وصولی کو وہ اپنا بینک بیلینس سمجھتے اور صد فیصد اس پر حق وتصرف رواں رکھتے ہیں ۔

لمبے قد میں بونے لوگ

اف! یہ آدھے پونے لوگ

اس کی کمائ ہوئ ماہانہ سیلری، جہیز بھی ایک گھر کی فضا کو مکدر اور مفضّل رکھنا بھی ایک خاندانی مسئلہ ہے۔

انسان کے لہو کو پیو اذن عام سے

انگور کی شراب کا پینا حرام ہے

اسلام نے مرد کو قوام اور معاشی ضروریات کی فراہمی کا ذمہ دار بنایا ہے۔ بیوی کا نان نفقہ اس کی ذمہ داری ہے ۔سماج کے تلخ تجربات سے اب برسر ملازمت لڑکیاں شادی کرنے سے پلا جھاڑنے لگی ہے ۔وہ اپنی کمائی کو پورے آزادانہ اختیار اور ملکیتی حق کے ساتھ تصرف کرنے ہی میں اپنی جیت سمجھنے لگی ہیں۔خیالات اور سوج کی آزادی، فیصلوں کی ازادی، پہنے اوڑھنے، جانے آنے، گھومنے پھرنے کی آزادی، جوابدہی سے آزادی ۔۔۔۔۔۔اور غلامی سے آزادی۔ حفاظتی حصار توڑ کر کڑوے کسیلے تجربے کرنے کی آزادی۔میرا جسم میری مرضی۔۔۔۔

اب اکے لگ رہے ہیں پروں پر ہوا کے تیر

پرواز اپنی روک لوں ٹھر جاؤں کیا کروں

کیا حکم آپ کا ہے میرے واسطے حضور

جاری رکھوں سفر کہ ٹھر جاؤں کیا کروں

میں کیا کروں کہ تیری انا کو سکوں ملے

گرجاؤں ،ٹوٹ جاؤں، بکھر جاؤں کیا کروں

برسر ملازمت مسلم لڑکیوں کی اپنے ہم وطن غیر مسلم ساتھی colleague سے انٹر کاسٹ کورٹ میریج کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے۔
live in relationship
کے قوانین نے ایسے خیالات اور اقدامات کو بڑھاوا دیا ہےاور تحفظ فراہم کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے