عیدالاضحی کے پر مسرت موقع پر جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے ناظم عمومی مولانا محمد خیر الدین مظاہری کا مسلمانوں کے نام اہم پیغام

نیپال: انوار الحق قاسمی

عید الاضحی کے پیش نظر جمعیت علماء روتہٹ نیپال کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد خیر الدین صاحب المظاہری نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ عید الاضحیٰ در اصل ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے،جسے ہم ہرسال بلاناغہ 10/ذی الحجہ کو بطور یادگار مناتے ہیں اور سنت ابراہیمی کو زندہ کرتے ہیں۔اور کل بھی 10/ذی الحجہ ہے ،تو ہم کل بھی عید الاضحیٰ مناکر سنت ابراہیمی کو زندہ کریں گے ۔
یوں تو ہر مذہب میں کسی نہ کسی درجے میں قربانی کا رواج رہا ہے؛مگر جو مقام و مرتبہ عند اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کو حاصل ہوا،وہ کسی کوبھی حاصل نہیں ہوا،یہی وجہ ہے کہ اسے رہتی دنیا تک کےلیے امت محمدیہ پر واجب قراردے دیاگیا،ارشاد باری ہے :اپنے رب کے لیے نماز پڑھیئے اور قربانی کیجیئے (کوثر).
قربانی ایک عظیم عبادت ہے ،جسے ہر صاحب استطاعت مسلمان کو بطیب خاطر کرنی چاہیے ،احادیث میں اس کی بے شمار فضیلتیں آئی ہیں۔
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہٴ کرام نے عرض کیا: ہمیں قربانی سے کیا فائدہ ہوگا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی ملے گی۔ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! اون کے بدلے میں کیا ملے گا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے میں (بھی) نیکی ملے گی۔ (سنن ابن ماجہ ۔ باب ثواب الاضحیہ)
ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی الحجہ کی 10/ تاریخ کو کوئی نیک عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا خون بہانے سے بڑھ کر محبوب اور پسندیدہ نہیں اور قیامت کے دن قربانی کرنے والا اپنے جانور کے بالوں ، سینگوں اور کھروں کو لے کر آئے گا (اور یہ چیزیں اجروثواب کا سبب بنیں گی) اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے نزدیک شرفِ قبولیت حاصل کرلیتا ہے ، لہٰذا تم خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔ (ترمذی ۔ باب ما جاء فی فضل الاضحیہ)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کام میں مال خرچ کیا جائے تو وہ عید الاضحی کے دن قربانی میں خرچ کیے جانے والے مال سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا۔ (سنن دار قطنی باب الذبائح، سنن کبری للبیہقی ج1ص 261)
قربانی کے ایام میں مسلمانوں کو چاہیے کہ خاص صفائی ستھرائی کا اہتمام کریں۔اس کی ایک صورت یہ ہے کہ قربانی کے جانوروں کے فضلات کو زیر زمین دفن کردیں ،تاکہ اس کی بدبو سے ہر شخص محفوظ رہے اور غیر مسلم بھائیوں بھی کا شکایت کا موقع نہ مل سکے۔
اللہ ہم تمام مسلمانوں کو خوش دلی سے سنت ابراہیمی کو زندہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب العالمین ۔