فارغین مدارس کے لئے مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری وقت کی اہم ضرورت

تحریر: ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی


سماج وہی اچھا سمجھا جاتا ھے ،جس میں ہر فن کے ماہرین پائے جاتے ہیں ، اس میں علماء و مفتی بھی ہوں ، ڈاکٹر اور انجینئر بھی ھوں ، ٹیچر اور پروفیسر بھی ہوں ، آفیسر اور لیڈر بھی ھوں ، غرض سماج میں ہر فن میں ماہرین کی ضرورت ھے، اس کے حصول کے لئے تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں ، مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے تیاری کی ضرورت پڑتی ھے ، اس لئے ملک میں مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری کے بے شمار ادارے کھل گئے ہیں ، کوئی ادارہ ڈاکٹر بنانے کے لئے کوچنگ کراتا ھے تو کوئی انجینیر بنانے کے لئے ، کوئی آئی اے ایس کی تیاری کراتا ھے تو کوئی ایس ایس سی کی تیاری کرانے پر زور دیتا ھے ، یہ سلسلہ بڑی تیزی سے بڑھ رہا ھے ، اور یہ ملک و ملت کے لئے خوش آئند بھی ھے ، یہ سب کام ایسے لوگوں کی جانب سے کئے جارہے ہیں ہیں ، جو مسلمانوں میں تعلیم پھیلانا چاہتے ہیں ، ان سب کے بیچ جائزہ لیا جائے تو اس تحریک میں علمائے کرام کا بہت کم حصہ نظر آتا ھے ، جبکہ مسلمانوں میں تعلیم کو عام کرنے میں ان کا اور ان کے مدارس کا اہم رول رہا ھے اور آج بھی ھے ، موجودہ وقت میں اس کی سخت ضرورت محسوس کی جارہی ھے کہ مدارس کے طلبہ و فارغین کو مقابلہ جاتی امتحانات سے جوڑا جائے ،
میرا تجربہ ہے کہ مدارس کے طلبہ اور فارغین میں اعلی تعلیم کی بڑی صلاحیت پائی جاتی ہے ، ان کو صرف وسائل کی کمی ھے ، اگر انہیں وسائل فراہم کرانے جائیں ، تو یہ ہر میدان میں اچھا کو سکتے ہیں
مدارس کے طلبہ و فارغین دو طرح کے ہیں ، ایک وہ ہیں جو کسی بورڈ کی سرٹیفیکیٹ اور اس کی بنیاد پر حاصل کردہ اعلی ڈگری رکھتے ہیں ، اور دوسرے وہ ہیں جو مدارس نظامیہ کی سند رکھتے ہیں ، بورڈ اور اس کی بنیاد پر ڈگری حاصل کرنے والے فارغین جو گریجویشن سطح کی ڈگری رکھتے ہیں ، ہر مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کی اہلیت رکھتے ہیں ، جہانتک نظامیہ مدارس کے فارغین کی بات ھے تو موجودہ وقت میں ایسے طلبہ و فارغین کی بڑی تعداد ھے جو کسی بورڈ یا کالج و یونیورسٹی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں ، اس طرح اب اہل مدارس میں ڈگری رکھنے والے کی کمی نہیں ھے
ھمارے ملک میں جو مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے کوچنگ قائم کئے گئے ہیں ، ان میں داخلہ ٹسٹ لیا جاتا ھے ، اور اس میں کامیاب ہونے کے بعد کوچنگ میں داخلہ لیا جاتا ھے ، داخلہ ٹسٹ کے سوالات اسکول / کالج کے معیار کے ھوتے ہیں ، مدارس کے طلبہ و فارغین عصری مضامین میں کچھ کمزور ھوتے ہیں ، اس لئے وہ داخلہ ٹسٹ میں کامیاب نہیں ہوپاتے ہیں ، جس کی وجہ سے وہ کوچنگ میں داخلہ لینے سے محروم رہ جاتے ہیں ،
مذکورہ بالا حقائق سے یہ بات واضح ہوئی کہ اس بات کی ضرورت ھے کہ مقابلہ جاتی امتحانات کے لئے مدارس کے طلبہ و فارغین کے لئے الگ سے کوچنگ کا انتظام کیا جائے ، تاکہ ان میں پختہ صلاحیت پیدا ھو اور وہ مقابلہ جاتی امتحانات نکال سکیں
مدارس کے طلبہ و فارغین کے لئے الگ سے کوچنگ کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے میں کئی مرتبہ حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رح سے درخواست کی کہ آپ رحمانی 30 چلاتے ہیں ، اس سے مدارس کے فارغین استفادہ نہیں کر پاتے ، اس لئے مدارس کے فارغین کے لئے الگ سے کوچنگ سنٹر قائم کردیں تو مدارس کے فارغین بھی آئی اے ایس اور بی پی ایس سی کے امتحانات میں کامیابی حاصل کرلیں گے ، جواب میں انہوں نے کہا کہ میں ایک کام کر رہا ھوں ، کسی دوسرے ادارے سے بات کیجئے ، بات رک گئی ، مگر ضرورت باقی ھے ، اس ضرورت کی تکمیل کے لئے کام کرنے کی ضرورت ھے ، مجھے امید ھے کہ اہل مدارس میں سے جن کے پاس وسائل ہیں ،وہ اس جانب بڑھ کر کام کریں ، تو ایک بڑی کمی پوری ہوگی ، اللہ تعالی کوشش کو کامیاب کرے۔