بچوں میں ویڈیو گیمنگ کا بڑھتا رجحان: ایک خطرناک نشہ

ازقلم: زید مشکور

آج ہم سب ترقی یافتہ زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں، یقیناً ہمارے دور نے خوب ترقی کی، جس کے نتیجے میں رسم و رواج بدلیں، انسانوں کے رہن سہن میں تبدیلیاں آئیں، اور انسانی عادات و اطوار میں بھی تغیر واقع ہوا، پھر زمانے کی برق رفتاری بڑھتے بڑھتے یہاں تک پہنچ گئی، کہ پچھلے زمانے میں جو بات محال بلکہ ناممکن سمجھی جاتی تھی، اب وہ اتنی نارمل ہو گئی، کہ ہماری عادتوں کے مختلف حصوں میں شمار ہونے لگی، گزشتہ صدیوں میں دنیا کو مٹھی میں کرنےکی بات بطور مثال پیش کی جاتی تھی، جس کا اس وقت کوئی تصور نہیں تھا، لیکن آج کے اسمارٹ فون والے دور میں پوری دنیا خود بخود انسان کی مٹھی میں سما گئی ہے۔
‌ترقی کے وسائل نے جہاں انسانی زندگی پر مفید اثرات چھوڑے، اور زندگی کی آرائشی و آلائش کی فراہمی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، تو وہیں دوسری طرف ان وسائل کے منفی و نقصان دہ اثرات سے بھی انسانی زندگی محفوظ نا رہ سکی، آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوجوانوں میں موبائل کے استعمال کی لت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے، اور اس سے بڑی خطرناک بات یہ ہے، کہ کم عمر بچوں میں ویڈیوگمینگ کی عادت رفتہ رفتہ نشہ میں بدلتی جا رہی ہے، جس کے خطرناک نتائج کا ہم آئے دن مشاہدہ کر رہے ہیں، اس منحوس لت نے کئی معصوم زندگیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔
ابھی کچھ ہی دن قبل یہیں لکھنؤ میں ایک سولہ سال کا لڑکا ویڈیو گیمنگ کا اتنا عادی ہو چکا تھا، کہ اس نے گھر پر رکھی ہوئی ریوالور کی گولیاں اپنی ماں کے سر میں اتار دیں، اس نے محض اس وجہ ماں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، کہ وہ اس کو ویڈیو گیمنگ میں وقت ضائع کرنے سے روکتی تھی، اس نے ویڈیو گیمنگ کی دلچسپی کو ماں کی بے لوث محبت پر ترجیح دی، یہاں پر اس چیز کو صرف دلچسپی کا نام نہیں دیا جا سکتا ہے، بلکہ یہ خطرناک قسم کا نشہ تھا، جس نے ایک بیٹے کے ہاتھوں ماں کا قتل کروا دیا، اور ابھی کچھ مہینے پہلے اسی طرح ایک لڑکے نے ویڈیو گیمنگ کے چلتے اپنے آپ کو موت کے حوالے کر دیا ہے، ایسے نا جانے کتنے دل سوز واقعات مسلسل رہنما ہو رہے ہیں، اور آئے دن اخبارات کی زینت بن رہے ہیں۔
جیساکہ آسٹریلائی نیشنل یونیورسٹی میں ویڈیو گیمنگ ریسرچ کے دوران یہ بات سامنے نکل کر آئی، کہ موبائل پر ویڈیو گیم کھیلنا دھیرے دھیرے ایک عادت بن جاتی ہے، پھر یہ عادت نشہ میں بدل جاتی ہے، اور پھر اس چیز کا عادی لڑکا چاہ کر بھی اپنے آپ کو روک نہیں پاتا ہے، اسی طرح دیگر تجربہ کاروں کا کہنا ہے، کہ لڑائی جھگڑوں سے بھرپور ان ویڈیو گیمز کھیلنے سے بچے سخت دل ہو جاتے ہیں، اور پھر یہ کسی جرم کی انجام دہی میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے، یہ بچے ایک خاص تناؤ کی حالت میں رہتے، جس سے آزادی پانے کے لئے یہ ویڈیو گیمز کا سہارا لیتے ہیں۔
ملک عزیز میں آۓ دن پیش ہونے والے واقعات نے والدین کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں، ابھی پچھلے سال کچھ فکر مند والدین نے اس سلسلے میں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال سے شکایت کی تھی، کہ آن لائن گیمنگ فلیٹ فارمس بچوں میں قمار بازی، سٹے بازی اور غلط اخلاقیات کا بڑھاوا دے رہے ہیں، چنانچہ اس پر کمیشن نے ایکشن بھی لیا تھا ، مگر گیمنگ سائٹس اور اس کو ڈیزائن کرنے والے ذمہ داروں پر اس کا کوئی خاص اثر نہیں پڑا، بات آئی گئی ہو گئی۔
آج موبائل کی اسکرین پر مختلف طرح کے آن لائن اور ایپس کی شکل میں گیمز موجود ہیں، جن میں فیٹینسی اسپورٹ، رمی، لوڈو، شیئر ٹریڈنگ سے متعلق گیمز بہت معروف ہیں، کرپٹو والی گیمز ریئل منی گیمز کہلاتی ہیں، جو مہارت اور چانس پر مبنی ہوتے ہیں، آج کل وسیع پیمانے پر ان کا دائرہ بڑھتا جا رہا ہے، اس میں کئی کمپنیاں بھی اپنے ایپس اور ویب سائٹ کے ذریعے شامل ہوچکی ہیں، ویسے جب سے ریئل منی گیمز کا وجود ہوا ہے، تب سے نوجوانوں کے قرض کے بوجھ تلے دب کر خودکشی کر لینے جیسے کئی حادثے سامنے آ چکے ہیں۔
ان گیمز میں فتح یابی کے امکانات تو بہت ہی کم ہوتے ہیں، مگر ان کی لت بہت خطرناک ہوتی ہے، ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں، کہ جیت کی لالچ میں قرض پر قرض لینے کی وجہ سیکڑوں نوجوان اپنے گھر و خاندان کو برباد کر چکے ہیں
‌ایسے پیش آنے والے واقعات کے سد باب کے لئے ان مضر و خطرناک ایپس کو بند کرنے کی ضرورت ہے، اس کے لئے وزارت خزانہ، وزارت صارفین امور، الکٹرانک، ٹیلی کام و آئی ٹی اور وزارت داخلہ وغیرہ کو عملی اقدام کرنے کی ضرورت ہے، اور ان ایپس کا اشتہار کر رہی مشہور شخصیات کو بھی باز آنے ضرورت ہے ، تاکہ ان کے اشتہاری عمل سے کسی کا گھر بار برباد نا ہو، اور اس کے ساتھ ساتھ والدین و سرپرستوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے، کیوں کہ اولاد ان کی ہے ، یہی لوگ اپنی اولاد کے تئیں اولین ذمہ دار ہیں، لہذا ان کو چاہیے کہ اپنے نونہالوں کی عمدہ تربیت اور مکمل نگہ داشت کی ساتھ موبائل فونز سے دور رکھیں، کیوں کہ نئی نسل جتنا ان خطرناک چیزوں سے دور رہے گی، اتنا ان کے حق بہتر رہے گا۔