شمشیر بے نیام: کیا یہی اسلامک اسکولس ہیں

از قلم: مدثر احمد، شیموگہ 9986437327

ریاست(کرناٹک) میں اس وقت مسلمانوں کے یہاں کئی ایسے تعلیمی ادارے شروع ہوچکے ہیں جنکا دعویٰ ہے کہ وہ اسلامک طرز پر اسکول چلارہے ہیں ،کئی اسکول کے نام اسلامی ہیںاور کئی ایسے اسکول و کالج بھی ہیں جنہیں چلانے والے اسلامک مفکر ، مدبّر اور دانشوران ہیں ۔ اسلامک اسکول کا مطلب یہ سمجھا گیاہےکہ بچوں کے سرپر ٹوپی، استانیاں برقعہ پوش ، بچیاں کلاس روم میں بھی باحجاب اور بابرقعہ ہوں ، ان بچوں کو اسلامی تعلیم کے نام پر قیمتی کتابوں کا درس دینا ہے ۔ اسلامک تعلیمی اداروں کا بھی آج کل خوب کاروبار چل رہاہے اور لوگ اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانے کے لئے ان اسکولوں میں داخلے بھی دلوارہے ہیں ۔ لیکن کیا مندرجہ بالاذکر کردہ باتوں سے اسلامک تعلیمات کے اُصول پورے ہوجاتے ہیں ؟۔ جن نام نہاد اسلامک اسکولس میں اسلامی تعلیمات کا تصوّر کیا جاناہے آج کل وہ ایک نئے نہج پر کام کرنے لگے ہیں۔ انکے یہاں اب بچوں کے لئے موٹیویشن، رہنمائی اور ہمت افزائی کے نمونے اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ، علماء ، سائنسدان ، انجنیئرز ، ڈاکٹرز یا پھر اعلیٰ سرکاری عہدیداران نہیں بلکہ ناچنے والے، مسخرے، یوٹیوبرز، فلم ایکٹرز موٹیویشن دینے والی شخصیات بنتے جارہے ہیں، ممکن ہےکہ اسکول انتظامیہ کی نظر وں میں انہیں لوگوں کی تقلید کرنے کے لئے بچوں کو تیار کیا جارہاہے ۔حال ہی میں کرناٹک کی ہی ایک اسکول میں ایک یوٹیوبراور مسخرے کو بطور موٹیویشن اسپیکر کے طورپر بلایا گیا تھا اور یہ اسکول ایسے افراد کے ذریعے سے چلائی جارہی ہے جنکی ذمہ داری دعوت حق کو عام کرنا ، نیکی کی طرف بلانا ، برائی سے امّت کو بچاناہے اور تعارفی کلمات میں بتایا گیا کہ اس یوٹیوبر کی ہر ویڈیو سے اچھا پیغام ملتاہے اور انکے لاکھوں فالورز ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیااسلام اور دین کے نام پر قائم شدہ تعلیمی ادارے اپنے بچوں کا رول ماڈل ایک مسخرہ اور فلم ایکٹر بناسکتاہے ؟۔ اگر ایسا ہی ہے تو "امیتابھ بچن” کو بھی بلالیں کیونکہ انہوں نے خداگواہ اور کولی فلم میں مسلمان کا کردار ادا کرتے ہوئے دینداری کی باتیں کی ہیں اور اس نے حج بدل بھی کروا کر قربانی دینے کا پیغام دیا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ دینداری کے نام پر کئی ایسے تعلیمی ادارے قائم ہوچکے ہیں جنہوں نے صرف مشنریوں اسکولوں کا نظام اورنصاب اپنایا ہے بس برانڈ چھینج کر رکھاہے اور اپنا کاروبار چلارہے ہیں ۔ سال بھرکئی اسکولوں میں دینداری کی باتیں ہوتی ہیں آخر میں جب سالانہ جلسوں کا موقع آتاہے تو اسلامی اسکول کا پردہ فاش ہوجاتا ہے ۔ اسلامی اسکولس میں کرتا پائجامہ ، حجاب و برقعہ اور مارل کا سبجکٹ رکھنے سے دینداری نہیں آتی بلکہ دینداری کردار اور عمل کے ذریعے سے آتی ہے ۔ جو اسکول اپنے ہی اسکول کے بچوں کو یونیفارم دینے کا کاروبار کرتے ہوں، کتابوں کی اصل قیمت ہٹا کر جھوٹی قیمتیں درج کرتے ہوں ، جن اسکولوں میں فیس کے نام لوٹ مچائی جاتی ہو، داخلوں کے وقت والدین کو گمراہ کیاجاتاہو، اساتذہ کو انکی محنت کے برابر تنخواہ نہ دی جاتی ہو، اساتذہ کا استحصال کیا جاتاہو ، اساتذہ کو استاد نہیں بلکہ غلاموں کی طرح استعمال کیا جاتاہو، انکے علم و ہنر کی عزت نہ کی جاتی ہو، کیا وہ اسکول واقعی میں اسلامی اسکول کہلانے کے لائق ہیں ؟۔ہم نے کئی ایسے اسکول بھی دیکھے ہیں کہ وہاں پر سوائے اسکول ڈریس کے اور کوئی خاص بات اسلامی تعلیمات سے ملتی جلتی نہیں ہے، خاص کرمینجمنٹ کے لوگ اسلامی اسکولوں کا تعلیم کا شعبہ کم کاروبار کا مرکز ذیادہ بنائے ہوئے ہیں اور انہیں اسکول کے طلباء کے مستقبل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے بلکہ انکی فیس اور ڈونیشن سے ہی مطلب ہوتاہے ۔ یقیناََ ہر چیز کی قیمت ہوتی ہے لیکن قیمت جب اصول کی جاتی ہے تو اسکے برابر کا رزلٹ بھی دینا ہوتاہے لیکن افسوس ایسا کم ہورہاہے۔اگرواقعی میں مسلم تعلیمی ادارے اپنے یہاں کے اسٹوڈینٹس کو دین و دنیا میں کامیاب بنانا چاہتے ہیں تو اسکے لئے فلم ایکٹرز، مسخرے ، کامیڈین یا پھر یوٹیوبرز کو اپنا نمونہ نہ بنائیں بلکہ ان لوگوں کو نمونے کے طورپر پیش کریں جنہوںنے واقعی میں قوم و ملت کے لئے کچھ کیا ہو۔ کتنے ایسے اسکول ہیں جہاں پر انتظامیہ نے کسی پولیس آفیسر ، کسی ڈاکٹر، انجنیئر، تحصیلدار یا پھر جرنلسٹ کو لاکر بچوں کے سامنے روبرو کروایا ہواور یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہوکہ اچھا منصب اور اچھی شخصیت کیسے بن سکتے ہیں ؟۔ بہت کم ایسے ادارے ہیں جو ایسا کرتے ہیں ۔اور حقیقت میں ایسا اس لئے بھی نہیں ہوتا کیونکہ خود تعلیمی اداروں کے لوگوں کو ان عہدیداروں اور پیشوں سے وابستہ افراد کی اہمیت نہیں ہوتی۔ اس لئے ان باتوں کو غورکرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم سماج کے وہ لوگ جو مسلم تعلیمی اداروں کے دعویداروں کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ اپنے آپ میں اسلام سے بھلے ہی دور رہتے ہوں لیکن بات اسلامی تعلیمات کی ہوتی ہے۔ کیا واقعی میں اسلام اتنا سستا ہوگیا ہے کہ اسلام کے نام پر فحاشی ، بے حیائی کو عام کیا جائے ؟۔ اسلامی اسکول کا کانسیپٹ اسی وقت کامیاب ہوسکتاہے جب تعلیمات کے علاوہ اعمال کو بھی بہتر بنایا جائے ورنہ مشنریوں اسکولس اور اسلامی اسکول میں کوئی فرق نہیں رہے گا ۔ اگر دین کے معاملے میں غلطی کسی جاہل یا لاعلم سے ہوتو اسے قبول کیاجاسکتاہے لیکن یہاں دین کی دعوت دینے والے لوگ ہی راہ حق سے بھٹک گئے ہیں۔