لفظ امی ابو بھی متنازعہ ہوگئے

ازقلم: محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ

ہمارے ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ بستے ہیں۔ مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔ مختلف تہذیب و ثقافت کا بہترین سنگم پایا جاتا ہے اور مختلف تمدن و معاشرت کے رنگ برنگ منظر دیکھنے کو ملتے ہیں اور یہی اس ملک کی اصل خوبصورتی کی وجہ ہے لیکن سماج کے کچھ شر پسند عناصر اور ایک مخصوص کلچر کے نام نہاد محافظوں کو اس ملک کی یہ خوبصورتی اور دلکشی اچھی نہیں لگتی اور اب تو یہ چبھنے بھی لگی ہے اسی لئے آئے دن وہ ایسے مسائل کو ڈھونڈتے رہتے ہیں جس سے ملک کا امن و سکون ، اتحاد و اتفاق اور پیار و محبت سب غارت ہو جائے پھر اسی مسئلہ کو ملک کا اصل مسئلہ بنا کر اور اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان و کلچر کو خطرے میں بتا کر رائی کو پہاڑ بنا دینے کا کام کرتے ہیں۔
راجستھان کے کوٹہ شہر میں ایک ایسا ہی معاملہ پیش آیا ہے جہاں شیو جیوتی کانوینٹ انگلش میڈیم اسکول کی کلاس دوم میں ” گل مہر ” نامی ایک کتاب جس میں مصنف کتاب نے والدین کے لئے لفظ ” امی ابو ” استعمال کیا ہے اور حاشیے میں اس لفظ کی وضاحت کی ہے اس مسئلہ کو لے کر بجرنگ دل اور وی ایچ پی کے لوگوں نے ایک تنازعہ کھڑا کر دیا گیا ہے کتنی حیرت کی بات ہے کہ محض لفظ امی ابو کے نام سے انہیں اپنا مذہب و شعار ، تہذیب و ثقافت اور زبان و کلچر خطرے میں محسوس ہو رہا ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے بچے ممی پاپا اور موم ڈیڈ کہنے پر پھولے نہیں سماتے پھر بڑے ہو کر یہی بچے انگریزوں کی بولی اور چینیوں کی تھالی دونوں ہی صاف کر جاتے ہیں اس وقت انہیں اپنی تہذیب و ثقافت اور زبان و کلچر خطرے میں نظر نہیں آتا لیکن اردو زبان کا ایک لفظ پڑھنے اور بولنے کی وجہ سے ان کے بچے ہندو تہذیب و کلچر سے دور اور ان کا مذہب خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ والدین اپنے بچوں کو یہ بتاتے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں اس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے اور مختلف زبان و کلچر کے لوگ یہاں بستے ہیں اور انہیں میں سے ایک مسلم قوم ہے جس کے بچے اپنے والدین کو امی ابو کہہ کر آواز دیتے ہیں ۔ ان کی ایک الگ تہذیب ہے اور الگ زبان بولتے ہیں اگر والدین اپنے بچوں کو یہ تعلیم اور یہ سبق پڑھاتے تو ان کے ذہنوں میں ایک بہتر تاثر قائم ہوتا اور نفرت و عداوت کا جو بازار گرم ہے وہ کسی قدر سرد پڑ جاتا اور آپس میں پیار و محبت ، امن و آشتی اور اتحاد و اتفاق کا رشتہ بھی قائم ہو جاتا۔