دامادِ رسول حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

ازقلم: محمد طاہر ندوی
امام و خطیب مسجد بلال ہلدی پوکھر جھارکھنڈ

اسلام کا ماضی حال اور مستقبل ہر زمانہ صحابہ کرام کے دامن سے وابستہ ہے اور تاریخ کے ہر دور میں اہل اسلام پر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان عظیم رہا ہے جس کے بار گراں سے ملت اسلامیہ قیامت تک سبک دوش نہیں ہو سکتی آج اگر پوری دنیا میں اسلام ہی اسلام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سے آج تک دنیا کے گوشے گوشے میں قرناً بعد قرنٍ کروڑوں مسلمان آباد رہے ہیں اور عرب و عجم کا چپہ چپہ نور اسلام سے روشن و درخشاں رہا ہے تو یہ ساری درخشندگی و تابندگی اور رعنائیاں اصحاب رسولﷺ ہی کے دم قدم سے ہے اور باغ عالم کی بہاریں بھی ان ہی کے پاک وجود سے قائم ہیں ، انہیں پاک ہستیوں ، دین کے سپہ سالاروں ، شریعت محمدی کے پاسبانوں اور نبی بر حق کے جاں نثاروں میں سے ایک حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ ہیں۔
پیدائش
آپ رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے چھٹے سال یعنی ہجرت نبوی سے ٤٧ سال قبل پیدا ہوئے ، بچپن اور سن بلاغت کے حالات پردہ خفا میں ہیں البتہ آپ نے عام اہل عرب کے خلاف اسی زمانے میں لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا اور ایام آغاز شباب میں ہی تجارتی کاروبار میں مشغول ہوگئے تھے اور اپنی صداقت شعاری ، دیانت داری اور راست بازی کے باعث غیر معمولی ترقی حاصل کر لی تھی ۔
نام و نسب
آپ کا نام عثمان تھا ۔ ابو عبد اللہ اور ابو عمر آپ کی کنیت تھی ۔ اور ذوالنورین آپ کا لقب ۔ والد کا نام عفان اور والدہ کا نام ارویٰ تھا ۔ آپ کا سلسلہ نسب پانچویں پشت میں عبد مناف پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مل جاتا ہے ۔ آپ کی والدہ حضور ﷺ کی پھوپھی تھیں ۔ آپ کی نانی بیضا ام الحکیم ، حضرت عبد اللہ بن عبد المطلب کی سگی بہن تھیں ۔ اس لئے والدہ کی طرف سے آپ حضور ﷺ کے قریشی رشتہ دار ہیں ۔
قبول اسلام
آپ رضی اللہ عنہ اپنی عمر کے ٣٤ویں سال میں تھے کہ مکہ میں توحید کی صدا بلند ہوئی اور آپ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعوت تحریک سے اتنے متاثر ہوئے کہ بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کرنے پر آمادہ ہو گئے ۔ ابھی آپ دونوں بارگاہ نبوت میں حاضری کا ارادہ ہی کر رہے تھے کہ خود حضور ﷺ تشریف لے آئے اور آپ کو دیکھ کر فرمایا ” عثمان خدا کی جنت قبول کر ، میں تیری اور تمام مخلوقات کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوا ہوں ” آپ فرماتے ہیں کہ خدا جانے زبان نبوت کے ان سادہ و صاف جملوں میں کیا تاثیر بھری تھی کہ میں بے اختیار کلمہ شہادت پڑھنے لگا اور دست مبارک میں ہاتھ دے کر حلقہ بگوش اسلام ہو گیا ۔
ازدواجی زندگی
آپ رضی اللہ عنہ کا پہلا عقد نکاح ، دختر رسول ، ہمشیرۂ بتول ، حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا ۔ جب آپ فوت ہو گئیں تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کا یہ حکم ہے حضرت رقیہ کی بہن حضرت ام کلثوم سے حضرت عثمان کا نکاح کر دیں ۔ جب ان کا بھی انتقال ہو گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو اس کا نکاح حضرت عثمان کے ساتھ کر دیتا ۔ یہ آپ کی خوش نصیبی تھی کہ یکے بعد دیگرے نبی کی دو صاحب زادیاں آپ کے نکاح میں آئیں اور جس کی وجہ سے آپ کو ” ذو النورین ” کے لقب سے یاد کیا گیا ۔ تاریخ الخلفاء میں علامہ جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ آپ کے بارے لکھتے ہیں کہ حضرت عثمان کے سوا دنیا میں کوئی شخص ایسا نہیں ہوا جس کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں آئیں ہوں ۔
ہجرت
جس طرح آپ کو نبی کا داماد بننا دو بار آپ کے حصے میں آیا اسی طرح ہجرت کا شرف بھی دوبار نصیب ہوا۔ پہلی ہجرت جو کہ حبشہ کی طرف ہوئی جس میں حضرت رقیہ آپ کے ساتھ تھیں اور اس موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا تھا حضرت ابراہیم اور حضرت لوط علیہما السلام کے بعد عثمان پہلے شخص ہیں جنہوں نے مع اپنے اہل بیت کے ہجرت کی ۔ دوسری ہجرت مدینہ کی طرف ہوئی اور ذوالنورین کی طرح آپ ذو الھجرتین بھی کہلانے لگے ۔
جہاد میں شرکت
آپ رضی اللہ عنہ تقریباً ہر غزوے میں رسول ﷺ کے ساتھ شریک رہے ۔ غزوہ خیبر میں آپ کو امیر لشکر بننے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ جس طرح آپ بدنی و جسمانی طور پر جہاد میں شرکت کرتے تھے اسی طرح مالی طور پر بھی آپ کی جہاد میں شرکت پورے صحابہ کی جماعت میں نہیں ملتی ۔ کئی موقعوں پر لاکھوں روپے اسلام اور اہل اسلام کی مدد و نصرت پر خرچ کر دئیے اور ایسے ہی موقعوں پر آپ کو جنت کی بشارت دی گئی ۔ آپ حدیبیہ کے موقع پر” سفارت رسول ” تھے جو کسی صحابی کو نصیب نہ ہو سکا۔ آپ رسول اللہ کے رسول تھے ۔ امام ترمذی نے بروایت انس رضی اللہ عنہ ایک روایت نقل کی ہے کہ ” کان عثمان رسول رسول الله” کہ حضرت عثمان رسول کے رسول تھے۔
خلافت
آپ خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد خلیفہ منتخب ہوئے ۔ آپ ایک بڑے اور کام یاب خلیفہ تھے ۔ مشرق و مغرب میں ہزاروں میل مربع رقبہ آپ کے عہد خلافت میں دائرہ اسلام میں داخل ہوا۔ سندھ سے لے کر جبرالٹر تک اسلام کا جھنڈا آپ کے عہد میں لہرایا ۔ آپ رضی اللہ عنہ بارہ دن کم بارہ سال تخت خلافت پر فائز رہے۔
شہادت
جس دن شہادت ہونے والی تھی آپ روزے سے تھے جمعہ کا دن تھا خواب میں حضور ﷺ اور حضرت ابو بکر و عمر کو دیکھا کہ وہ کہہ رہے ہیں کہ عثمان جلدی کرو تمہارے افطار کے ہم منتظر ہیں ۔ بیدار ہوئے تو اہلیہ محترمہ سے فرمایا کہ آج میری شہادت کا دن ہے ۔ آپ کی شہادت باغیوں کے ہاتھوں ہوئی تھی جو بظاہر اسلام کے قائل تھے ۔ اور یہ اسی قسم کا گھناؤنا جرم ہے جو بنی اسرائیل قتل انبیاء کی صورت میں کرتے رہے ہیں۔ سو قاتلین عثمان کی تاریخ ، تاریخ یہود سے رنگین ہے۔ نبی کے قتلِ بے جا پر زمین ستر ہزار انسانوں کا خون مانگتی ہے اور خلیفہ ر اشد کی اس شہادت پر ایسی خون ریزیاں ہوئیں کہ ٣٥ ہزار انسانوں کا خون گرا پھر بھی مسلمانوں کو وہ وحدت نصیب نہ ہوئی ۔ ان باغیوں نے انتہائی بے دردی و مظلومیت سے آپ کو اپنے ہی گھر کے اندر شہید کر ڈالا تھا ۔ شہادت کے وقت آپ رضی اللہ عنہ تلاوت کر رہے تھے ۔ قرآن مجید سامنے کھلا تھا ۔ اس خونِ ناحق نے جس آیت کو خون آلود کیا وہ یہ ہے ” فسيكفيكهم الله وهو السميع العليم”۔ اور اس طرح ١٨ ذوالحجۃ سن ٣٥ھ کو باغیوں نے انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ذوالنورین رضی اللہ عنہ کی شمع حیات بجھا دی۔