دارالعلوم دیوبند میں منعقد رابطہ مدارس کے اجلاس کے سلسلہ میں چند باتیں


دارالعلوم دیوبند دین و شریعت کا محافظ اور ملک و ملت کا وقار ہے ، اس عظیم ادارہ نے نہ صرف ہندوستان کے مسلمانوں کی دینی رہنمائی اور قیادت کی ہے ، بلکہ اس کے علماء و فضلاء کے علمی رسوخ سے تقریبا پوری دنیا متاثر ہے ، یہ ہم سب کے لئے ہی نہیں بلکہ ملک کے لئے بھی قابل فخر ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مسلمان ہندوستان کو فخر کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ جب کبھی دین و شریعت پر بحرانی حالت آئی یا آتی ھے ،تو سب کی نظر دارالعلوم دیوبند کی طرف ہوتی رہی ھے اور آج بھی ہے ،
یوپی حکومت کی جانب سے جب سروے کا اعلان ہوا ، تو ذمہ داران مدارس دارالعلوم دیوبند اور اکابر علماء کی طرف دیکھ رہے تھے ، جمعیت علماء ہند کا اجلاس ہوا ، پھر دارالعلوم دیوبند میں اجلاس طلب کیا گیا ، ایک نہج سے دونوں اجلاس ایک دوسرے کا تتمہ تھے ، اور وہ تھا سروے کی تائید ، جواز کے لئے حکومت کو تائید کی ضرورت تھی ، وہ پوری ہوئی ، ورنہ ویسے بھی حکومت چاہتی کہ سروے ھو تو کوئی روک بھی نہیں سکتا تھا ، اور نہ ایسا کرنا مفید تھا ، اب تو اجلاس بھی ختم ہوگیا اور سروے بھی شروع ہوگیا ، البتہ باقی رہ گیا ہے محاسبہ ۔ جو کسی وقت بھی کیا جا سکتا ہے ، اس سلسلہ میں چند باتیں تحریر ہیں
(1) مدارس کے سروے کا اعلان حکومت کی جانب سے کیا گیا تھا ، حکومت کی جانب سے اکثر سروے کروائے جاتے ہیں ، تاکہ آئندہ کی پلاننگ میں سہولت ہو ، یہ کوئی نئی بات نہیں ھے ، البتہ ہر وقت اپنا اپنا انداز ھوتا ھے
(2) ہندوستان ایک جمہوری ملک ھے ، اس میں آئین کو بالادستی حاصل ھے ، ملک کے آئین کے مطابق ملک چلتا ہے ، ملک کے آئین کے خلاف کرنے کا اختیار کسی کو نہیں ھے ،
(3) ملک کے آئین نے ہر شہری کو مذہبی آزادی دی ہے ، اپنا تعلیمی ادارہ قائم کرنے اور چلانے کا حق دیا ہے ، یہی وجہ ہے کہ ملک میں بسنے والے ہر ایک مذہب کے ماننے والوں کے اپنے اپنے عبادت خانے ہیں ، تعلیمی ادارے ہیں ، جو حکومت سے آزاد رہ کر کام کرتے ہیں، عیسائی ، بودھ ،جین کے مذہبی تعلیمی ادارے ہیں جو ملک کے آئین کے مطابق حکومت سے آزاد رہ کر چلتے ہیں ، ان میں مذہبی تعلیم دی جائی ھے ، جن سے مذہبی پیشوا تعلیم حاصل کر کے نکلتے ہیں ، خود برادران وطن میں سے سناتن ہندو دھرم کے ماننے والوں کے سنسکرت پاٹھ شالے ہیں ، بڑے بڑے مذہبی ادارے ہیں ،جن میں مذہب کی تعلیم دی جاتی ھے ، ان سے ان کے دھرم گرو اور پنڈت نکلتے ہیں ، ملک کے آئین نے اس کی اجازت دی ھے ، اس لئے یہ قانونا جرم نہیں ھے ، بلکہ ملک کے آئین کے مطابق ہیں ، اسی طرح مسلمان اپنی مذہبی تعلیم کے لئے تعلیمی ادارے قائم کرتے ہیں ، وہی مدارس کہلاتے ہیں
(4) آزادی کے بعد ملک میں تعلیم کے سلسلہ میں دو قانون بنائے گئے ہیں ، ایک لازمی مفت تعلیمی ایکٹ اور دوسرا نئی تعلیمی پالیسی ، یہ دونوں تعلیمی قانون پورے ملک کے لئے وضع کئے گئے ہیں ،
(5) جب مرکزی حکومت کی جانب سے مفت لازمی تعلیم ایکٹ کا نفاذ کیا گیا ،تو اس کے قوانین اسکول کے لئے تھے ، اس میں مدارس کا تذکرہ واضح نہیں تھا ، پھر بھی اس کا خطرہ تھا کہ یہ قوانین مدارس پر بھی لاگو کئے جاسکتے ہیں ، تو ذمہ داران مدارس اور اکابر علماء نے اس پر غور و فکر کیا ، جلسے بلائے ، میٹنگیں کیں ، مرکزی وزیر تعلیم سے مل کر میمورنڈم دیا ، بڑی مشکلوں سے حکومت نے مدارس کی تعلیم کو مستقل تعلیم مان کر رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ سے مستثنی قرار دیا ، ترمیمی نوٹیفیکیشن کی کاپی کتابوں میں موجود ھے ، جہانتک نئی تعلیمی پالیسی کی بات ہے تو میں نے بھی اس کا مطالعہ کیا ھے ، اور دیگر دانشوران نے بھی تجزیہ کیا ھے ، اس میں روایتی ادارے مدارس ، گروکل ، پاٹھ شالے وغیرہ کا ذکر نہیں ھے ، اس طرح یہ قانونی مسئلہ ھے ، اس پر وکلاء سے قانونی مشورہ کے بعد کسی نتیجہ پر پہنچنا بہتر ہوگا
(6) دینی معاملات ، مساجد ، مدارس ،اوقاف وغیرہ میں حکومت کی جانب سے مداخلت کوئی نئی بات نہیں ھے ، ہر زمانہ میں مداخلت کی گئی ، شاہ بانو کیس میں نفقہ کا معاملہ ، متبنی بل ، مرکزی مدرسہ بورڈ ، بابری مسجد کا قضیہ ، طلاق کا مسئلہ ، رائٹ ٹو ایجوکیشن کا معاملہ ، یہ سبھی معاملے حساس تھے ، مگر اکابر و قائدین ملت نے حکومت کے سامنے ملک کے آئین کی روشنی اپنے موقف کو رکھا ، حکومت نے غور کیا ، اور بہت سی باتوں کو قبول کیا ، اس طرح حکومت کے سامنے موقف رکھنے سے افہام و تفہیم کا راستہ کھلتا ھے اور مسائل حل ھوتے ہیں ،
(7)جہانتک دارالعلوم دیوبند میں رابطہ مدارس کے اجلاس کی بات ھے ،تو دارالعلوم دیوبند کی عظمت کو سلام ! اس اجلاس کا تو مقصد سروے پر غور و فکر کرنا تھا ، جب مدارس میں سروے شروع ہوگیا تو پھر سروے پر اجلاس کی کوئی ضرورت نہیں تھی ، اگر اجلاس بھی کیا تو اس کے دائرہ کو سروے تک ہی محدود رکھنا تھا ، اس میں بہت سی غیر ضروری باتیں آگئیں ، جو آئندہ نقصاندہ ہوسکتی ہیں
(8) جہانتک نصاب تعلیم کی بات ہے ، تو اس سلسلہ یہ ضروری ہے کہ باضابطہ نصاب تعلیم پر غور کیا جائے ، عجلت میں نہیں ، بعض حضرات تحریر کر رہے ہیں کہ نئی تعلیمی پالیسی کی وجہ سے ایسا اعلان کیا گیا ھے ، تاکہ آئندہ تمام مدارس میں میٹرک تک کی تعلیم کا اہتمام کیا جائے ، اس سلسلہ میں عرض ھے کہ نئی تعلیمی پالیسی پر ماہرین قانون و ماہرین تعلیم سے مشورہ کی ضرورت ھے کہ اس میں مدارس داخل ہیں کہ نہیں ؟ چونکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن میں مدارس مستثنی کر دیئے گئے ہیں ، نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس کا ذکر نہیں ہے ، اس سے یہ ایسا لگتا ھے کہ اس میں بھی مدارس شامل نہیں ہیں ، اس پر قانونی مشورہ کی ضرورت ھے
(9) اس طرح بغیر تحقیق کے نئی تعلیمی پالیسی م یں مدارس کو شامل کرنا زیادہ خطرناک ھے ، اس لئے کہ اس میں مدارس اور دیگر مذاہبِ کے روایتی ادارے کا ذکر نہیں ھے ، اس میں اسکول استعمال کیا گیا ھے ، اگر اسکول کو عام لفظ مان کر تعلیمی ادارہ مانا جائے اور پھر مدارس کے نصاب کو اس کے مطابق بنانے کی کوشش کی جائے ، تو صرف نصاب ہی کا معاملہ نہیں ہے ، بلکہ رائٹ ٹو ایجوکیشن اور نئی تعلیمی پالیسی میں جتنے قوانین ہیں ، سب مدارس پر لاگو ہو جائیں گے ، مرکزی اور صوبائی حکومت کے جملہ قوانین جو اسکول کے بارے میں نافذ کئے جائیں گے ، وہ سب مدارس پر بھی لاگو ہوں گے ، بعض اسٹیٹ نے سرکلر جاری کردیا ھے کہ پرارتھنا میں وندے ماترم گایا جائے ، سوریہ نمسکار سے شروعات کی جائے ، دیو مالائی تعلیم ھو ،یہ سب مدارس پر لاگو ہوں گے ، نیز ایک کلاس میں زیادہ سے زیادہ 40/ بچے رہیں گے ، بچوں کے حساب سے کلاس ہوں گے ، کھیل کا میدان ھوگا ، اتنے رقبے میں اسکول ہوگا ، اسکول میں اتنے کمرے ہوں گے ، کمرہ کی اتنی لمبائی چوڑائی ہوگی ، عمارت زلزلہ پروف ہو غیرہ وغیرہ ، یہ سب قوانین مدارس پر لاگو ہونگے اور چند مدارس کو چھوڑ کر دیگر مدارس شرائط پر نہیں اتر سکیں گے ، اس لئے اس کی سخت ضرورت ھے کہ ہم رائٹ ٹو ایجوکیشن کی ترمیم اور نئی تعلیمی پالیسی کا خود بھی مطالعہ کریں اور قانونی مشیر سے بھی مشورہ طلب کریں
(10) قانونی مشیر کے مطابق ، اگر نئی تعلیمی پالیسی میں مدارس شامل ہیں ، تو مرکزی حکومت کے وزیر تعلیم کو میمورنڈم دے کر مدارس کو مستثنی قرار دینے کی اپیل کی ضرورت ھے ، اور ہر ممکن کوشش ہونی چاہئے کہ مدارس مستثنی قرار دیئے جائیں ، ورنہ مدارس کا وجود خطرہ میں پڑجائے گا
(12) جب مدارس سے خطرات ٹل جائیں تو پھر نصاب پر غور کرنے کی ضرورت ھے ، اس کے لئے نصاب ساز کمیٹی بنائی جائے ، کمیٹی میں علماء ، دانشوران ، ماہرین تعلیم اور ماہرین قانون کو شامل کیا جائے ، اور نصاب سازی کا کام مکمل کیا جائے ،
(12) کمیٹی سے درخواست کی جائے کہ ایسا نصاب تعلیم بنائے ،جس میں مدارس کی روح باقی رہے اور اس سے حسب سابق جید علماء ،فضلاء ، مفتی ،قاضی اور ماہرین علوم اسلامیہ نکلتے رہیں ،اور عصری مضامین بھی شامل ھو جائیں ، اور عربی درجات میں عربی اول و دوم کو شامل کرتے ہوئے میٹرک تک کی تعلیم کا انتظام کیا جائے
(13) جہانتک مدارس کے حکومت کے ریکارڈ میں آنے کی بات ہے تو جو مدارس مدرسہ بورڈ سے ملحق ہیں ، وہ تو بورڈ سے رجسٹرڈ ہیں ، البتہ آزاد مدارس جو رجسٹرڈ نہیں ہیں ، ان کو سوسائٹی رجسٹریشن ایکٹ ، ٹرسٹ ڈیڈ وغیرہ کے ذریعہ رجسٹرڈ کرایا جائے ، تاکہ حکومت کے ریکارڈ میں اجائے
(14) موجودہ وقت ایسا نہیں ھے کہ کسی معاملہ میں ٹکراؤ کی شکل پیدا ہو ، بلکہ سنجیدگی سے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ھے ، اور وہ شکل ھے ملک کے آئین کی روشنی میں کام کرنا ، حکومت سے بات چیت کر کے مسائل کا حل نکالنا ، اس لئے موجودہ وقت میں اس کی سخت ضرورت ھے کہ ہم اپنے مسائل کے سلسلہ میں سنجیدہ ہوں ، اور مناسب حل تلاش کریں ، اللہ تعالی حفاظت فرمائے

ازقلم: (مولانا ڈاکٹر) ابوالکلام قاسمی شمسی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے