پھر یوں ہوا کہ میں عازم سفر ہوا

میری ڈائری: دہلی کا سفر (١)

ازقلم: ابن اللفظ، جھارکھنڈ

کہتے ہیں دنیا ایک مسافر خانہ ہے مسافروں کا آوا گون کبھی تھمتا نہیں، آج یہ ہے تو کل وہ نہیں، مسافر خانوں میں روز تماشے ہوتے رہتے ہیں،

کوی آئے کوئی جائے یہ تماشا کیا ہے،
جب تک انسان زندہ رہتا ہے زندگی کے مشکلات ہمیشہ ارد گرد پھیرا لگاتے رہتے ہیں، کبھی معاش کی تنگی بے چین کرتی ہے تو کبھی بیماری استقبال کیلے گلدستہ لیۓ کھڑی رہتی ہے ، کبھی ضروریات در بدر بھٹکاتی ہے تو تحسینات جذبات کو کچوکے لگاتا ہے اور پھر انسان اسی مسافر خانوں کا سفر شروع کرتا ہے، دنیا جہاں کی خاک چھانتا ہے قسم قسم کی الجھنوں پریشانیوں اور صبر آزما گھڑیوں سے نبرد آزما ہوکر اپنے عارضی منزل سے ہمکنار ہوتا ہے یہ ایسا سفر ہے جسمیں انسان خود مختار ہوتا ہے جتنا چاہئے فائدہ اٹھا لے دنیا کی رنگ ریلیوں سے جتنا چاہئے بہرہ ور ہو لے ، کسی سے باز پرس نہیں ہوگی،
زندگی کی اسی الٹ پھیر کا ناچیز بھی ایک حصہ ہے، گردش زمانہ کے ساتھ خاکسار بھی اسی کے رو میں گردش کررہا ہے، مختلف قسم کے سفر کا تجربہ ہوا ڈھٹکولے کھائے چپہ چپہ چھان مارا تاریک رات میں بھی مختلف وحشتناک گلیوں میں بھٹک بھٹک کر اپنی مسافرت کا حق ادا کیا، خدا نے اس کم عمری میں بہت سی آزمائشوں میں ڈالا اور ڈھیر ساری کامرانیاں مقدر ہوئیں یہ ناچیز بارگاہ ایزدی میں صد تشکر پیش کرتا ہے،
آج بارہ اکتوبر دوہزار بائیس بروز سوموار کو دہلی کا رخصت سفر باندھا غرض یہ تھی کہ ہندوستان کی مشہور یونیورسٹی جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں بی اے کا امتحان شروع ہونے کوہے، امتحان میں شرکت کیلیے اور پھر آگے کی منزل طے کرنے کیلئے یہ آزمائش بھی قبول کی ،
حالانکہ میں مشہور مدرسہ نسواں بنام جامعہ ام سلمہ دھنباد جھارکھنڈ۔ کا ایک استاد ہوں الحمدللہ قال اللہ و قال رسول میں اپنی حیات مستعار گزار رہا ہوں لیکن یہ دنیا ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے کیلے نیز اس کے سینے پر چڑھ کر اپنا حق وصولنے کیلے کچھ سرکاری چیزیں بھی ضروری ہیں، چنانچہ میں نے ناظم جامعہ سے رخصت لیکر بمدد خدا سفر پر نکل گیا، گھر والوں نے بڑی شوق و لگن کے ساتھ میرے اس حصول علم کے سفر میں ساتھ دیا ان کا شکریہ، ورنہ عام طور سے یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ ازدواجی زندگی گزارنے کے بعد گھر والوں کا سہارا اٹھ جاتا ہے اور انسان ان کی ضرورت پوری کرنے میں لگ جاتا ہے، الحمدللہ تحدیث نعمت کے طور پر عرض کرتا ہوں کہ خدا نے مجھے ابھی بے سہارا نہیں کیا گھر والوں کے دلوں سے میرے تئیں جذبہ و شوق نہیں ضبط کیا نتیجہ یہ ہے کہ میں اب بھی طالب علم ہوں،
بہر حال ٹرین تین بجے سویر تھی گھر سے قریب عصر کے وقت نکل گیا کیونکہ گاؤں شہر سے خاصا فاصلے پر ہے اسٹیشن تک پہنچنے میں دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، سات بجے دھنباد اسٹیشن پہنچا گاڑی گومو اسٹیشن سے تھی دھنباد قمرو ہوٹل میں عشائیہ ہوا اس کے بعد ۔دھنباد فیروز پور۔ سے گومو پہنچا فی الوقت رات کے بارہ بج رہے ہیں اور یہ تحریر صفہ قرطاس کی جارہی ہے ،
ان شاءاللہ یہ سفر قسط وار ہدیہ ناظرین کیا جائے گا.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے