میڈیا کی طاقت اور نفرت کے بازی گر

تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری

آج ہر طرف نفرت کابازار گرم ہے ۔ طرح طرح کے ایشوز گھڑ گھڑکر مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازشیں رچی جا رہی ہے ۔وہ اپنے سارے وسائل بیداری اور سیاسی شعور کے ساتھ اسےپھیلا رہے ہیں۔ نفرت، جھوٹ، بہتان، بے آبروئ، مظلوم کو ظالم بتانا۔ "کشمیر فائلس” ایک خاص طبقہ اسے زمینی سطح پر پروموٹ کررہا ہے۔ مسلمانوں کی آبادی ان کی مساجد، اذان ،مدارس، پرسنل لاء، زبان، اداروں پر شکنجہ ۔۔انٹرکاسٹ میریج کو فروغ کے لیے سرے عام نوجوانوں کو انعامات دے کر ورغلانے کی کوشش، تاریخ میں تبدیلی، نصابی کتابوں میں قدیم تاریخی ورثے کو نکال کر من چاہی ترتیب۔ مال میں نمازکی ادائیگی کا شٹینتر، آدھی رات کو موٹر سائیکل سواروں کا عبادت گاہ کے احاطے میں گوشت اور اوراق پھینک کر فرار ہونے کا سی سی ٹی وی کیمرے میں ثبوت ۔ اسلحہ کی سپلائی، ٹرینگ سنٹروں پر مشقیں، صدیوں سے چلے آرہے شہر کے مسلم ناموں کی تبدیلی، آواز اٹھانے والے پترکاروں پر کیس اور انھیں سلاخوں کے پیچھے کرنے میں پولیس کی مستعدی۔

سچ کا بول بالا ۞ جھوٹ کا منہ کالا

مندرجہ بالا تصویر ایک ایک شخص تک پہنچا نے کے لیے آپ کے پاس سوائے سوشل میڈیا کے کیا ہے؟؟؟
گودی میڈیا، آئی ٹی سیل کے لوگ نفرت پھیلا رہے ہیں ان کے مد مقابل آپ درست بات کو سرکولیٹ تو کر ہی سکتے ہیں!.

آپ بن جائیے حق کے علمبردار، سچائی اور صدق کے امین اور نمائندے۔ پیار اور بھائی چارے کے ساتھ محبت بانٹنے والے فرد۔ ظلم کے خلاف حق کی آواز،۔ بے عزتی، بے آبروئ کے مقابلے میں عزت وتکریم کے محافظ۔۔۔کیونکہ یہ آپ کا مذہب سکھاتا ہے۔۔۔

آپ سوشل میڈیا کا استعمال کرتے وقت ان باتوں کا خیال رکھیں کہ!

آپ کی ایک پوسٹ بھی سچائی کے خلاف نہ ہو۔ آپ کی ایک ترسیل بھی نفرت پھیلانے والی اور اپنے مذہب کی تعلیمات کے خلاف نہ ہو۔ آپ کی ایک فارورڈنگ بھی سطحی، لغو، جھوٹ اور ظلم پر مبنی نہ ہو۔۔۔۔۔ آپ کی چیٹنگ صرف وقت گزارنے والی اور دھوکا دینے والی ، ہنسنے ہنسانے والی، بس یوں ہی بے مقصد نہ ہو۔

میرے بھائی!
اپنے وقت کو ایساخرچ کرو اور سوشل میڈیا کو یوں استعمال کرو کہ لوگ اس سے فیض اٹھائیں ۔۔۔آپ میں بے پناہ صلاحیتیں ہیں ۔ ذہانت ہے، عزم وحوصلہ ہے۔۔۔۔آپ کے پاس دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔ بس توجہ، لگاؤ، نقطہ نظر ،مقصد، نصب العین ،تعلیم،تعلم ، بہترسماج اور مشن سے جڑنے کی ضرورت ہے ۔

کب تک بس تماشائی بن کر پیچھے رہیں گے ؟؟؟؟۔
کب تک میڈیا، ئی وی ،موبائل کے استعمال کو غیر اسلامی بتاؤ گے؟؟؟؟؟ اس وسیلے کو بھی مسلمان بنائیے۔!!!

دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

کام کا نتیجہ مزید کام کی صورت میں نکلتا ہے۔ اچھی باتوں کو سوشل میڈیا پر پھیلانا بھی اہم کام ہے۔
اگر سچی خواہش پیدا ہوجائے تو ہزاروں تدبیروں سے ہم اپنے ایجنڈےاور منصوبے میں رنگ بھر سکتے ہیں ۔سوشل میڈیا سے بات پہنچانے کی شروعات کرتے ہیں ۔اور کام کرنے کا منصوبہ بناتے ہیں ۔اور اس کے لیے الله سے دعا اور عزم صمیم ،محنت ،لگن ،جدوجہد۔اور اس ذریعے جو ملت کی نمائیدگی، دین کی دعوت پھیلانے، جاگنے اور جگانے کا وسیلہ بناتے ہیں ۔