رشتہ ریجیکٹ کی نفسیات

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
9224599910

شادی کے لیے انتخاب رشتہ اور selaction of life partner کے نام پر ہمارے سماج میں ہونے والی خرافات، رسم ورواج، خود ساختہ طور طریقے اور پھر لڑکی میں عیب تلا ش کر کے اسے رجیکٹ کردینے کے واقعات بہت بڑھ گئے ہیں ۔ یہ سوداگر منہ اٹھائے”لڑکیوں کو اس طرح دیکھنے چلے آتے ہیں گویا وہ سرکس کے جانور ہیں” ۔ بن سنور کر ہاتھوں میں ناشتے کی ٹرے آٹھائے، نظریں نیچی کیے سامنے پروسی جاتی لڑکی کی بھی عزت نفس ہے۔پھر اس سے طرح طرح کے سوالات؟؟؟؟ اور منی دکھائی کا سلسلہ در سلسلہ عمل۔۔۔ اور معمولی بات کو لے کر مسترد،رجیکٹ۔

روپ بھر کر کبھی فرشتوں کا

گھر بسانے کو سانپ آتے ہیں

آجکل ماں باپ اور لڑکا ،بہنیں ایک ساتھ کئی کئی جگہ جاکر لڑکیاں دیکھتے ہیں ۔
اُنکی کوشش ہوتی ہے لڑکی حور پری ،قد لامبہ، جسم سڈول، بال گھنے، کمر نازک، ستواں گردان، انکھیں جھیل کنول، رنگ گندمی ۔
گوری ہو ذیادہ سے ذیادہ تعلیم یافتہ ہو،ذیادہ سے زیادہ کما سکے ،برسرملازمت بھی ہو۔اور سلیقه شعار بھی۔تمام خوبیوں کی مالک۔۔ الله میاں کی گائے ہو۔۔لڑکی کو مکمل طور پر کھانا پکانا آتا ہو
گھر کے سبھی لوگوں کا کھانا پکانا اور برتن کپڑے دھو ئیے۔ (جس میں شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہن شامل ہیں)

لڑکی دیکھنے کے لیے پانچ سے سات افراد جاتے ہیں . ڈٹ کر کھانا کھاتے ہیں لڑکی کا باپ مجبوراً بہتر سے بہتر انتظام و اہتمام کرتا ہے۔ سب کو کھانا کھلاتا ہے ۔ پھر اگلی نششت میں ماموں اور چاچا اپنی بیگمات اور بیٹیوں کے ساتھ لڑکی دیکھنے آتے ہیں اور کھا پی کر ڈکار جاتے ہیں۔۔ آخری مرحلے میں لڑکے کو لڑکی دیکھنے بھیجا جاتا ہے ۔لڑکے کو لڑکی کسی وجہ سےپسند نہیں آتی۔ نقص نکالے جاتے ہیں ۔عیب جوئ اور ڈیمانڈ رکھے جاتے ہیں ۔ اور رشتہ رجیکٹ۔رجیکٹ۔ مسترد۔۔۔ مسترد

جس کی بیٹی جوان ہوتی ہے

اس کی آفت میں جان ہوتی ہے

بوڑھے ماں باپ کے کلیجہ پر

ایک بھاری چٹان ہوتی ہے

بعض لوگ بیس بیس لڑکیاں اسی طرح دیکھ چکے ہیں ۔دعوت اڑا چکے ہیں۔ شہر شہر گھوم رہے ہیں ۔مگر لڑکی پسند نہیں آتی۔ اس طرح ذیل اور رجیکٹ پر رجیکٹ ہوتے رہنے سےلڑکی کی نفسیات پر ایسا بُرا اثر پڑتا ہے کہ شادی ہی سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ وہ اکیلے آزاد اپنی مرضی سے رہنے کو ترجیح دے رہی ہے ۔

پھر کسی ظلم کی بنیاد پڑی ہے لوگو!

جہاں معاملہ طے ہوتا ہے گھر کے سازو سامان کی فرمائش، برات میں ہم پچاس لوگ آئیں گے سو لوگ آئیں گے۔سب کی بردباری، ،ناشتہ ،چائےکھانا، ،دھوبی، حجام ۔۔۔۔مجبوراً باپ قرض لینے پر مجبور ہوتا ہے۔لڑکی کے سازو سامان پر قبضہ کر لیا جاتا ہے جس میں زیورات اور نقد مہر کی رقم اور ملے تحفے کی رقوم بھی شامل ہیں۔

بیٹی مریم ہے بیٹی زہرا ہے
بیٹی رحمت ہے بیٹی جنت ہے

بیٹی کہتے ہیں بےزبانی کو
بیٹی پتھر کی ایک مورت ہے

سماج کے رویے، رسومات اور خاموشی نے بیٹیوں کو اپنا رشتہ خود طے کر لینے اور انٹر کاسٹ بلاجہیز کے رشتوں کی طرف رخ موڑا ہے یا پھر ملازمت سے شادی کر کے بے سہاگ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ۔

کیوں اُجرتا ہے باغ مفلس کا

کس نے دیکھا ہے داغ مفلس کا

ایک بیٹی جو گھر کو آتی ہے

اپنی بیٹی بھی گھر سے جاتی ہے

رشتہ انتخاب کرنے والو!
سنو۔۔۔دھیان رکھو۔۔۔
مفت دعوتیں اڑانے والو
۔۔۔۔۔بیٹی کے رشتے دیکھ کر ریجیکٹ کرنے والو۔۔
اگر رشتہ کے لیےلڑکی دیکھنا ہے تو کسی تقریب میں، کسی موقع سے بغیر محسوس کیے لڑکی کو دیکھ لو۔ اس کی بارے میں جان لو، پھر جب اطمینان ہو جائے تب ہی رشتہ لے کرلڑکی کے گھر پہنچو ۔۔۔۔

ہم پتھر ہیں انسان نہیں

بازار کی جنس کی مانند اور مویشی بازار کی طرح تندرستی،خدوخال، قد، چال، انداز، نین نقش ، دانت اور رنگ کو دھوپ میں لے جا کر دیکھ کر ذلیل نہ کرو۔فقرے کَس کر تذلیل نہ کرو، ڈیمانڈ کر کے رسوا نہ کرو۔۔ احتیاط کرو۔۔۔اور اگر کچھ کہنا ہی پڑے تو اعتراف کر کے کہو کہ اے بیٹی!
میرا بیٹا تمہارے لائق نہیں ۔ نہ وہ تم سے خوبصورت ہے، نہ اس کی تعلیم اونچی ہے نہ اس کے اخلاق نہ میرا گھرانہ،نہ میں نے اس کی تمھاری طرح تربیت کی ہے۔

خیال خاطر احباب چاہیے ہر دم

انیس ٹھیس نہ لگ جائے آب گینوں کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے