طلاق کی وجہ بہو کے حق میں

ازقلم: عابدہ ابوالجیش

عورت کی تقدس کی حد یہ ھے کہ فرشتوں سے بھی اس کی بناوٹ کا پردہ رکھا گیا
میں اپنے گھر کے آنگن میں کھلکھلاتی وہ کلی ھوں کہ جس کے خوشبو سے میرے گھرکے درودیوار مہک اٹھتے ہیں میری چمکتی صورت دیکھ کر میرے بابا جی اٹھتے ہیں مگر یہ کیا ھوا کہ آن کی آن میرے خوشحال گھرانے کی کایا پلٹ دی گٸ مجھے میرے جنت جیسے گھر سے اٹھا کر جہنم جیسی کوٹھری میں ڈال دیا گیا رحم رحم کی کی فریاد کرتی میری روح کو چھلنی کیا گیا اور (طلاق)
کا پیپرمیرے ہاتھ میں تھما کر مجھے رسوا کیا گیا
(طلاق) کے مساٸل تب شروع ھوتے ہیں جب ایک بہو کو بیٹی نہیں بلکہ محو رقص لونڈی سمجھا جاتا ھےبہو کی ذمہ داریاں گھر کو دیکھے بچوں کو دیکھے خاوند کو دیکھےساس کو دیکھے سسر کو دیکھے سسرال سے آٸ ھوٸ نندوں کو ان کے بچوں کو گھر کے دوسرے معاملات کو دیکھے جیتی جاگتی انسان ہیں کوٸ روبوٹ تو نہیں ( طلاق)کا سب سے بڑا مسلہ سسرال کے ظلم وستم اور انکے طعنے ہیں جہیز کم لانے پر (طلاق*) بچے پیدا نہ ھونے پر *(طلاق)*
ساس کی خدمت نہ کرنے پر طلاق وہ بھی کسی کی بیٹی ھےاگر کبھی غلطی سے کوٸ غلطی ھوجاۓ بیچاری کو گھسیٹا اور پیٹا جاتا ھے سسرال بے رحم ھے جو دوسروں کی بیٹیوں کو محض کھیل اور تماشہ سمجھتا ھے تماشتہ ہی تو لگا ھے

ظلم کے قفس میں دم توڑتی انسانیت کا تماشہ انسانیت کا لبادہ اوڑھے حیوانیت کا تماشہ ڈوبتے وقار کا تماشہ یہ تماشے کب تک دیکھنے کو ملیں گے میں پوچھتی ہوں آپ سب سے کہ طلاق کی وجہ بہو کیسے ھو سکتی ھے کہ ایک لڑکی جو اپنا سب سے قیمتی زیوراپنے ماں باپ بہن بھاٸ گھر بار سب کچھ چھوڑ کر آتی ھے اور ایک مرد کے وحشت کے پانی کو اپنے بدن کی سیپ میں رکھ کر کفن سر پہ باندھ کر اسکے بچوں کو جنم دیتی ھے وہ عورت اپنا گھر خود کیسے اجاڑ سکتی ھے دوسروں کے بیٹیوں کو محض کھلونہ سمجھا جاۓ اور ٹیشو پیپر کی طرح استعمال کرکے کچرے کی باسکٹ میں پھینک دیا جاۓ۔

اپنی انا کو لبھانے کی خاطر گناہ پہ گناہ میں کیۓ جارہی ھوں
میں آدمیت کی سب جرم لیکر زندہ زمیں میں گڑھی جا رہی ھوں
سبھی وحشتوں سے ھے بڑھ کر یہ وحشت
کہ آباد ویرانے پہ گھبرا رہی ھوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے