خلافت راشدہ (قسط نمبر 2)

خلیفہ اوّل: حضرت ابو بکر صدیق

تحریر: شفیق احمد ابن عبد اللطیف آئمی

بیعت عامہ

   سقیفہ بنو ساعدہ کے چوپال میں مخصو ص لو گو ں نے بیعت کی تھی۔دوسرے دن حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیعت عامہ کے لئے مسجد نبوی میں بیٹھے ۔امام محمد بن اسحاق سیرت میں لکھتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”جب بیعت ثقیفہ ہو چکی تو دوسرے دن حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ مسجد نبوی میں منبر پر تشریف لے گئے۔آپ رضی اﷲ عنہ کے تقریر کرنے سے پہلے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور حمد و صلوة کے بعد فرمایا:”لو گو !اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے صاحب خاص اور یار غار پر متفق کر دیا ہے جو تم میں سب سے بہتر اور اچھے ہیں۔اس لئے کھڑے ہو جاو اور بیعت عام کرلو۔تمام لوگوں نے اُس وقت آپ رضی اﷲ عنہ سے بیعت عام کی ۔یہ بیعت ”بیعت سقیفہ“کے بعد ہوئی۔اِس بیعت عام کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور حمدو ثنا کے بعد فرمایا:”مسلمانو!تم نے مجھے اپنا امیر بنایا ہے حا لانکہ میں اس قابل نہیں ہوں۔اب اگر میں بھلائی کروں تو تم میری مدد کرنااور اگر میں بُرائی کروں تو مجھے سیدھا کر دینا۔سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔تم میں سے جو ضعیف ہے وہ میرے نزدیک اُس وقت تک قوی ہیں جب تک میں اُن کا حق نہ دلوا دوں۔(انشاءاﷲ) یاد رکھو!جو قوم جہاد فی سبیل اﷲ (اﷲ کے لئے لڑنا)چھوڑ دیتی ہے اﷲ اُس کو ذلیل وخوار کر دیتا ہے اور جس قوم میں بد کاری پھیل جاتی ہے اﷲ تعالیٰ اُن کو بلاوں میں گرفتار کر دیتا ہے۔مسلمانو!جب تک میں اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کروں،تب تک تم بھی میری اطاعت اور اتباع کرنا اور جب میں اﷲ اور اُس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے رو گردانی کروں تو پھر میری اطاعت تم پر واجب نہیں رہے گی۔پس !اب چلونماز پڑھو !اﷲ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے۔“امام موسیٰ بن عقبہ نے اپنی کتاب ”مغازی“میں لکھا ہے اور امام حاکم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اُس دن خطبہ میں ارشاد فرمایا:”اﷲ کی قسم!مجھے دن رات میں کبھی امارت کا شوق نہیں ہوااور نہ میں نے کبھی اس کی حرص کی نہ میں نے اﷲ تعالیٰ سے اس کے لئے ظاہر و باطن میں دعامانگی۔(یعنی خلافت کی کبھی تمنا یا دعا نہیں کی)اصل (بات)یہ ہے کہ مجھے ڈر تھا کہ کہیں فتنہ برپا نہ ہو جائے۔میرے لئے خلافت میں کو ئی راحت و سکون نہیں ہے ۔میرے کندھوں پر بھاری بوجھ رکھ دیا گیا ہے۔انشاءاﷲ! اﷲ تعالیٰ کی مدد سے اس دشوار کام کو انجام دینے کی کوشش کروں گا۔مجھے اﷲ کی طاقت اور قوت پر پورا پورا بھروسہ ہے۔“یہ تقریر سن کر حضرت علی رضی اﷲ عنہ اور حضرت زبیر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”ہمیں ندامت ہے کہ ہم مشورہ خلافت میں آپ رضی اﷲ عنہ کے ساتھ نہیں تھے۔حالانکہ ہم خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ ہی تمام لوگوں میں خلافت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ آپ رضی اﷲ عنہ، رسول ا ﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے یار غار ہیں۔ہمیں آپ رضی اﷲ عنہ کے شرف اور بزرگی کا علم ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں آپ رضی ا ﷲ عنہ کو امامت کا حکم فرمایا تھا۔“

منبر پر رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جگہ نہیں بیٹھے

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بیعت عامہ کے بعد خطبہ کے بارے میں امام محمد بن سعد لکھتے ہیں کہ حضرت مالک بن عُروہ رضی اﷲعنہ نے فرمایاکہ جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ خلیفہ ہوئے تو آپ رضی اﷲ عنہ نے حمد و صلوة کے بعد لوگوں سے خطاب فرمایا:”لوگو!میں اگرچہ تمہارا امیر ہو گیا ہوںلیکن میں تم سے بہتر نہیں ہوں۔قرآن پاک نازل ہو چکا ہے اور رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سنتوں پر چلنا سکھا دیا ہے۔ہم اچھی طرح (احکام ِ شریعت) جان گئے ہیں۔پس اے لوگو!سمجھ لو کہ دانشمند وہی ہے جو متقی ہے اور سب سے زیادہ فاسق و فاجر وہ ہے جو(گناہوں سے بچنے میں)سب سے زیادہ عاجز ہے۔میرے نزدیک تم میں جو سب سے زیادہ کمزور ہے ،وہ اُس وقت تک قوی ہے جب تک کہ اُس کا حق قوی سے نہ دلوا دوں اور میرے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ قوی اُس وقت تک ضعیف ہے ،جب تک کہ اس سے لوگوں کا حق نہ لے لوں۔لو گو !میں سنت کی پیروی کرنے والا ہوں،دین میں نئی نئی باتیں پیدا کرنے والا نہیں ہوں۔پس میں نیکی کروں تو مجھ سے تعاون کرنااور اگر میں غلطی کروں تو مجھے سیدھے راستے پر لے آنا۔بس مجھے اتنا ہی کہنا ہے۔ اب میں اپنے اور تمہارے سب کے لئے مغفرت چاہتا ہوں۔“(طبقات ابن سعد)حضرت عبداﷲ بن عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ پوری زندگی منبر پر اُس جگہ نہیں بیٹھے جہاں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم تشریف فرما ہوتے تھے۔اسی طر ح حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ ،پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے اور حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ پوری زندگی اُس جگہ پر نہیں بیٹھے جہاں حضرت عُمر رضی اﷲ عنہ بیٹھتے تھے۔(المعجم الاوسط،امام طبرانی)

اسلام پر سنگین بحران

   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے اسلام کے لئے بہت ہی سنگین بحران پیدا ہو گیا۔ ملک عرب کے بہت سے قبیلے اسلام چھوڑ کر مُرتد ہوگئے۔بہت قبیلوں نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا۔کئی لوگوں نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔پورے ملک عرب میں بے یقینی اور بے چینی کا ماحول تھا۔ہر قبیلے کے صحیح مسلمان حیران و پریشان تھے اور اپنے اپنے قبیلے والوں کو سمجھا رہے تھے۔لوگوں کو مُرتد ہونے سے روک رہے تھے۔جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کی اتباع کرنے سے روک رہے تھے اور ذکوٰة روکنے والوں کو بھی سمجھا رہے تھے۔ہر قبیلے کے سچے مسلمان اپنے اپنے قبیلے کے لوگوں کو سمجھا رہے تھے۔ایسے سنگین حالات میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کا خلیفہ بنایا گیااور آپ رضی اﷲ عنہ پر اسلام کو بحران سے نکالنے اور دنیا والوں تک پہنچانے کی عظیم ذمہ داری ڈال دی گئی ۔

تمام آزمائشوں پر کھرے اُترے

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے انتہائی سنگین حالات میں خلافت کی ذمہ داری سنبھالی اور آپ رضی اﷲ عنہ کا دور ِ خلافت بہت ہی ہنگامہ خیز تھا ۔رسول ا ﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد جو طوفان اُٹھا وہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے لئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا تھا۔ آپ رضی اﷲ عنہ کے لئے پہلی آزمائش سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کی وہ مجلس تھی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی جا نشینی کا مسئلہ طے ہونا تھا۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اِس آزمائش میں پورے اُترے ۔اس کے بعد فتنہ¿ ارتداد کی وبا نے تقریباًسارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اس کے ساتھ ساتھ منکرین ذکوٰة کا فتنہ الگ انتشار پیدا کرر ہا تھا۔رہی سہی کسر جھوٹے مدعیان ِنبوت نے پوری کر دی۔اِ ن نا مساعد حالات کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے بہت سے قبائلی سرداروں نے بھی بغاوت کر دی۔ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد عالم اسلام کی ذمہ داریوں اور اُمت کی قیادت کا بوجھ بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی ا ﷲ عنہ کے کاندھوں پر آگیا۔انہوں نے کمال بصیرت و دانائی سے پہلے صحابہ ¿ کرام رضی اﷲ عنہم کے زخمی دلوں پر پھایا رکھاجو آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال سے بد حال ہو رہے تھے۔ اُسی وقت سقیفہ بنو ساعدہ میں پہنچے اور اپنی خدا داد فراست و تدبر سے انتہائی بگڑے ہوئے حالات پر قابو پایامگر یہاں مشکلات کا خاتمہ نہیں ہوابلکہ یہ تو آغاز تھا۔اُن مصائب کا جن سے آپ رضی اﷲ عنہ کو دوچار ہو نا تھا۔حالات انتہائی خطرناک صورت اختیار کر چکے تھے لیکن اس طوفانی دور میں بھی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے استقلال کے دامن کو ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور اُن کے پائے ثبات میں ذرا بھی لغزش نہیں آئی اور آپ رضی اﷲ عنہ اپنے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے مسلک سے ایک انچ بھی ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔حالانکہ بعض مواقع پر بڑے بڑے جلیل القدر صحابہ کرام رضی ا ﷲ عنہم کی رائے آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے سے مختلف تھی۔خاص طور سے منکرین ذکوٰة اور لشکر ِ اُسامہ کے بارے میں ۔لیکن بعد میں حالات نے ثابت کیا اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے بھی تسلیم کیا کہ آپ رضی اﷲ عنہ کی رائے اور فیصلہ دُرست تھااور آپ رضی اﷲ عنہ نے اپنی فراست اور تدبر سے جھوٹے نبیوں کا بھی خاتمہ کیا ،منکرین زکوٰة کو بھی اسلام پر عمل کرایا،مرتدین کو بھی دوبارہ حلق بگوش اسلا م کیااور باغیوںکی بھی سرکوبی کی اور ان سب معا ملات کو کنٹرول کرنے کے لئے اُنہوں نے ”اﷲ کی تلوار“یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اﷲ عنہ کا بہت خوبی سے استعمال کیا۔یہ اجمالی حالات ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کئے ہیں۔اب انشاءاﷲ تمام حالات تفصیل سے پیش کریں گے۔اﷲ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

فتنوں کے پیدا ہونے کی وجوہات

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اُس وقت مکہ مکرمہ ،مدینہ منورہ اور طائف کے تمام لوگ اسلام پر قائم رہے۔ان کے علاوہ قبیلہ مزنیہ،قبیلہ بنو غفار ،قبیلہ بنو جہینہ،قبیلہ بنو اشجع،قبیلہ بنو اسلم،اور قبیلہ بنو خزاعہ کی اکثریت اسلام پر قائم رہی صرف چند افراد مُرتد ہوئے تھے۔اِن کے علاوہ پورے ملک عرب میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی تھی۔وہ لوگ جن کے دل قبائلی عصبیت سے پاک نہیں ہوئے تھے اور وہ لوگ جن کے دل میں اسلام راسخ نہیں ہوا تھاوہ مُرتد ہو گئے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ۹ ھجری اور ۰۱ ھجری میں پورے ملک عرب سے وفود نے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اسلام قبول کیا تھااور چند ہفتے یا چند مہینے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں رہ کر تعلیم و تربیت حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے قبیلے میں جا کر اسلام کی تعلیم دی۔اس طرح دور دور کے قبائل میں اسلام راسخ نہیں ہو سکا تھااور وہ ہوا کے رخ پر بہہ گئے۔دوسرا گروہ ”مانعین زکوٰة“ کا تھا۔یہ مدینہ منورہ کے قریب آباد قبیلہ بنو عبس،قبیلہ بنو ذیبان،قبیلہ بنو کنانہ ،قبیلہ بنو غطفان اور قبیلہ بنو فزارہ تھے۔انہوں نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کے بھیجے ہوئے تحصیلداروں کو زکوٰة دینے سے انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ان قبائل کے اندر جاہلی تصور پیدا ہو گیا تھااور اُنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ چونکہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے کسی کو اپنا جا نشین مقرر نہیں کیا ۔اس لئے ہم پر مہاجرین و انصار کے منتخب خلیفہ کی اطاعت لازم نہیں ہے اور ہمیں بھی یہ اختیار ہے کہ اپنا امیر مقرر کر لیں اور اسلام پر کاربند رہتے ہوئے اپنے امیر کی پیروی کریں۔زکوٰة کو یہ لوگ جزیہ سمجھتے تھے۔تیسرا گروہ جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں کا تھا۔اِن جھوٹی نبوت کا دعویٰ کرنے والوں میں (۱) اسود عنسی (یمن) (۲) مسیلمہ کذاب (یمامہ) (۳) طلیحہ (بنو اسد) (۴) سجاع(بنو تمیم) (۵)ذوالتاج لقیط بن مالک(عمان)سرِفہرست تھے۔اِن تینوں گروہوں کے علاوہ چوتھا گروہ مسلح باغیوں کا تھا۔

لشکر اُسامہ کی روانگی

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد سب سے پہلا حکم یہ دیا کہ لشکر اُسامہ کو روانہ کیا جائے۔رسول اﷲ صلی ا ﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد تمام عرب کے قبائل یا تو سب کے سب مُرتد ہو گئے تھے یا اُن میں سے کچھ لوگ مرتد ہو چکے تھے۔صرف طائف کا قبیلہ بنو ثقیف ایسا تھاجو اسلام پر قائم رہے ،نہ تو انہوں نے فرار اختیار کیا اور نہ ہی مرتد ہوئے۔دوسرے کئی قبائل نے زکوٰة دینے سے انکار کردیا تھا۔جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک شام میں بلقاءکی ملحقہ سرحد پر( جہاں جنگ موتہ ہوئی تھی )جانے کا حکم دیا تھا۔وہ مقام ”جرف“پر جا خیمہ زن ہو گیا تھا۔اُن لوگوں میں حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ بھی تھے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے نماز پڑھانے کے لئے مستثنیٰ کر لیا تھا۔چونکہ ہر طرف نفاق پھوٹ پڑا تھا اور اب یہود و نصاریٰ بھی للچائی ہوئی نظروں سے مسلمانوں کو دیکھ رہے تھے اور خود مسلمانوں کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے وصال کے بعد اپنی قلت اور دشمنوں کی کثرت کی وجہ سے اُن بھیڑ بکریوں کی طرح ہو گئی تھی جو موسم سرما کی برساتی رات میں حیران ہو گئی ہوں۔ایسے وقت میں جب حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے کہا کہ اب لے دے کے صرف یہی مسلمان ہیں جو آپ رضی اﷲ عنہ کے سامنے ہیںاور عربوں کے ارتداد کی جو حالت ہے وہ تو آپ رضی ا ﷲ عنہ جانتے ہی ہیں۔اس لئے اب مناسب نہیں ہے کہ لشکر اُسامہ کو بھیجا جائے۔اس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا :”جس لشکر کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے روانہ کیا تھا،میں اُسے ضرور بھیجوں گا۔اﷲ کی قسم! اگر میرے پاس ایک شخص بھی نہ رہے اور مجھے اندیشہ ہو کہ درندے اُٹھا لے جائیں تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا اور لشکر اُسامہ کو اُس کی مہم پر روانہ کروں گا۔ اگر تمام بستیوں میں میرے سوا کوئی نہ رہے تو میں تنہا ہی آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کی تعمیل کروں گا۔“اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو حکم دیا کہ مقام جرف پر جاکر پڑاو¿ ڈالے ہوئے لشکر کو کوچ کے لئے تیار کریں۔

رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو ہر حال میں پورا کروں گا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر اُسامہ کو بھیجنے کا پختہ فیصلہ کرلیا۔علامہ محمد بن جریر طبری لکھتے ہیں۔امام حسن بن حسن بصری رحمتہ اﷲ علیہ سے مروی ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے ایک لشکر روانہ کیا اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کو اُس کا سپہ سالار مقرر کیا۔اس لشکر میں حضرت عُمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ بھی تھے،ابھی لشکر نے خندق کو پوری طرح پار بھی نہیں کیا تھا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سب کے ساتھ ٹھہر گئے اور انہوں نے حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ سے عرض کیاکہ آپ رضی اﷲ عنہ جایئے اور خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ سے میری واپسی کی اجازت لے آیئے۔کیونکہ تمام اکابر اور جلیل القدر صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم میرے ساتھ ہیںاور مجھے خلیفہ ¿ رسول رضی اﷲ عنہ اور مدینہ منورہ کے مسلمانوں کی جانوں کا اندیشہ ہے کہ کہیں دشمن اچانک سب کو قتل نہ کردیں۔اِس لشکر کے کچھ مجاہدین نے کہا۔اگر خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ واپسی کی اجازت نہ دیں اور لشکر کے جانے کا اصرار کریں تو اُن سے ہماری طرف سے کہہ دینا کہ وہ ہمارا سپہ سالارکسی ایسے شخص کو مقرر کر دیں جوحضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ سے زیادہ عُمر والا ہو۔(یہ نو جوان تھے)حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ مدینہ منورہ آئے اور حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ کی درخواست سنائی۔حضرت ابو بکر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا:”اگر کتے اور بھیڑیئے تنہائی کی وجہ سے مجھے کھا لیں ،تب بھی میں رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کے حکم کو پورا کروں گا۔“حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ لشکر کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سپہ سالار کسی زیادہ عُمر والے کو بنا دیں۔یہ سنتے ہی حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ جو بیٹھے ہوئے تھے،غصے سے کھڑے ہو گئے اور آگے بڑھکر حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کی داڑھی پکڑ لی اور فرمایا:”اے خطاب کے بیٹے !یہ کہنے سے پہلے تم مر کیوں نہیں گئے کہ جس شخص کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اُس منصب پر فائز کیا ہے ،میں اُسے ہٹا دوں۔“یہ فرما کر آپ رضی اﷲ عنہ ،حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر لشکر اُسامہ کے پاس آئے۔

لشکر اُسامہ کو اپنی نگرانی میں روانہ کیا

   حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ اس کے بعد مقام جرف میں پہنچے۔تب تک پورا لشکر کوچ کی تیاری کر چکا تھا۔آپ رضی اﷲ عنہ پیدل ہی لشکر کے ساتھ چلنے لگے(حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اﷲ عنہ اُن کا گھوڑا لیکر ساتھ میں چل رہے تھے۔حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا:”اے خلیفہ رسول رضی اﷲ عنہ !یا تو آپ رضی اﷲ عنہ گھوڑے پر سوار ہو جائیںیا پھر مجھے بھی پیدل چلنے دیں۔“حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے مسکراتے ہوئے فرمایا:”دونوں باتیں نہیں ہو سکتیں!میں اِس وقت اس لئے پیدل چل رہا ہوں کہ اﷲ کی راہ میں کچھ دیر چل کر اپنے قدم خاک آلود کر لوںکیونکہ مجاہد کے ہر قدم کے عوض میں سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیںاور سات سو درجے بڑھائے جاتے ہیںاور سات سو خطائیں معاف کی جاتی ہیں۔چلتے چلتے جب وہ ٹھہرے تو فرمایا:”بہتر ہوتا کہ حضرت عُمر فاروق رضی اﷲ عنہ کو میرے پاس چھوڑ جاتے۔“حضرت اُسامہ بن زید رضی اﷲ عنہ نے عرض کیا :”ٹھیک ہے!آپ رضی اﷲ عنہ اُنہیں اپنے ساتھ رکھیں۔“اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے لشکر سے بلند آواز میں خطاب کیا۔”میں تمہیں دس باتوں کی نصیحت کرتا ہوں!اچھی طرح یاد رکھنا(۱)خیانت نہ کرنا۔(۲)نفاق نہ برتنا۔(۳)مثلہ نہ کرنا،یعنی اعضائے جسم کو کاٹ کر الگ نہ کرنا۔(۴)کبھی چھوٹے بچے کو ،بوڑھے مرد کو،اور کسی عورت کو قتل نہ کرنا۔(۵)کسی کھجور کے درخت کو نہ کاٹنا،اور نہ جلانا۔(۶)کسی پھل دار درخت کو نہ کاٹنا،سوائے کھانے کی ضرورت کے۔(۷)تم کو ایسے لوگ بھی ملیں گے ،جو ترک ِدنیا کر کے خانقاہوں میں بیٹھ گئے ہیں،اُن سے کوئی تعارض نہ کرنا۔(۸)بعض لوگ تمہارے لئے کھانوں کے خوان لائیں گے،اگر تم اُن میں سے کچھ کھانا چاہوتو اﷲ کا نام لیکر کھانا۔(۹)ایسے لوگوں سے تمہارا مواجہہ ہوگا جن کی سر کی چندیا صاف ہو گی ،اور اُس کے گرد بالوں کی پٹیاں جمی ہوں گی ،ایسے لوگوں کی خبر تلوار سے لینا۔(۰۱)اچھا اب اﷲ کا نام لیکر جاو¿ ،اﷲ تمہاری نیزے کی ضرب سے اور طاعون سے حفاظت کرے۔(تاریخ طبری)

ملک یمن میں عاملوں(گورنروں)کا تقرر

   رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حجتہ الوداع“ہونے کے بعد مدینہ منورہ پہنچتے ہی ملک یمن کی امارت کا انتظام فرمایا۔اسے کئی اشخاص میں تقسیم کردیا اور ہر شخص کو ملک یمن کے خاص خاص رقبوں کا عامل(گورنر)مقرر فرما دیا۔ اسی طرح آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ”حضر موت “میں بھی گورنروں کا تقرر کیا۔حضرت عمرو بن حزم رضی اﷲ عنہ کو نجران کا گورنر مقرر کیا۔حضرت خالد بن سعیدبن عاص رضی اﷲ عنہ کو بحران،رمع اور زبید کے درمیانی علاقے کا والی مقرر فرمایا۔حضرت عامر بن شہر رضی اﷲ عنہ کو ہمدان کا والی مقرر کیا۔حضرت شہر بن باذام رضی اﷲ عنہ کو صنعاءکا والی مقرر کیا۔حضرت طاہر بن ابی ہالہ کو عک اور اشعرین کاوالی،حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اﷲ عنہ کو مارب کا والی،اور حضرت یعلیٰ بن اُمیہ رضی اﷲ عنہ کو جند کا والی مقرر فرمایا تھا۔اسی طرح حضر موت میں بھی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے والی(گورنر)مقرر فرمائے تھے۔حضرت عکاشہ بن ثور رضی اﷲ عنہ کو عکاسک اور سکون کا والی مقرر فرمایااور حضرت عبد اﷲ بن مہاجر کو بنو معاویہ بن کندہ کا والی مقرر فرمایا تھا،جو بیماری کی وجہ سے نہیں جاسکے تھے۔اُن کی جگہ عارضی طور سے آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے حضرت زیاد بن لبید رضی اﷲ عنہ کو والی مقرر کیا تھا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد اُنہیں بھیجا۔ان سب کے علاوہ حضرت معاذبن جبل رضی اﷲ عنہ کو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے ملک یمن اور حضر موت کا معلم(اسلام کی تعلیمات دینے والا) بنایا تھا۔اور آپ رضی اﷲ عنہ مسلسل ملک یمن اور حضر موت کا دورہ کرتے رہتے تھے ،اور اسلام کی اور قرآن پاک کی تعلیم دیتے رہتے تھے۔(تاریخ طبری ،تاریخ ابن کثیر)

باقی ان شاءاللہ اگلی قسط میں