کہانی: تحفہ نکاح

ازقلم: شیخ عابدہ ابوالجیش

اللہ عارفہ خالہ کو جزاے خیر دے، ایک سال کی ان کی صحبت نے میری زندگی بدل دی، میں نے ایک متوسط خاندان میں آنکھ کھولی تھی، ابو اسکول ٹیچر اور امی گھریلو خاتون تھیں. افسوس کہ گھر کا ماحول زیادہ اچھا نہ تھا، امی بہت تیز مزاج تھیں، وہ پہلے بولتیں بعد میں سوچتیں، ابو ان کے رویے سے نالاں رہتے اور عام طور سے خاموش ہی رہتے مگر کبھی کبھی ان کی آواز بھی بلند ہوجاتی.ویسے ابو بہت سمجھ دار اور صابر تھے ورنہ گھر ہر وقت کربلا کا نمونہ ہوتا. امی نہ تو ابو کی عزت کرتیں اور نہ ہی ان کے دل میں ان کا ذرہ بھر خوف ہی تھا میں نے ہمیشہ امی کو اپنی قسمت کو کوستے اور حالات کا رونا روتے ہوے پایا. حالانکہ نہ تو ان کی قسمت خراب تھی اور نہ ہی گھر کے حالات رونے جیسے تھے.
میری تربیت بس یونہی ہورہی تھی. ابو کو تو خیر فرصت ہی نہ تھی، امی کو اس کا احساس ہی نہ تھا.
عارفہ خالہ ایک بار دو ہفتے کے لیے ہمارے گھر آئیں تو ابو سے کہنے لگیں :
"بھائی اگر مناسب سمجھیں تو ایک دو سال کے لیے خاشعہ کو میرے یہان بھیج دیں،اس کی بارہویں ہوچکی ہے، یہ اب ماشاء اللہ جوان ہورہی ہے، ایک دو سال میں اس کا کہیں شادی بیاہ ہوگا.باجی تو کچھ کرتی نہیں، میں اسے گھرداری بھی سکھاوں گی اور قریب میں واقع سید مودودی علیہ الرحمۃ تربیت گاہ میں داخلہ بھی کروادوں گی وہاں منذرہ باجی نوجوان بچیوں کی بہت اچھی تربیت کرتی ہیں.،،
ابو کو اور کیا چاہیے تھا وہ تو پہلے سے ہی پریشان تھے کہ اگر بیٹی کی صحیح تربیت نہ کی گئی تو وہ بھی اپنے ماں جیسی بنے گی وہ ایک دوسرا گھر کیسے آباد کرے گی؟کسی کے گھر کو کیسے جنت کا نمونہ بناے گی؟
وہ فورا تیار ہوگئے، گرچہ امی کی زیادہ خواہش نہ تھی، میری امی کم پڑھی لکھی تھیں وہ سمجھتی تھیں کہ وقت سب کچھ انسان کو سکھادیتا ہے، بیٹی حالات کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لے گی.
عارفہ خالہ کے شوہر یعنی میرے خالو ایک ٹیلر تھے. ان کی آمدنی ٹھیک ٹھاک تھی. میری خالہ گرچہ گریجویٹ تھیں مگر شادی کے بعد انھوں نے کالج کی اچھی خاصی سروس چھوڑ کر گھر داری پر توجہ دی تھی. وہ محلے کی لڑکیوں کو ٹیوشن پڑھا کر گھر چلانے میں خالو کی مدد کرتی تھیں.
خالہ کے گھر مجھے جو چیز سب سے نمایاں محسوس ہوئی وہ خالو جان کا گھر میں مقام تھا. گھر کا ہر فرد ان کی بے حد عزت کرتا تھا، میرے خالہ زاد بھائی عمر، قمر، آصف، ذبیح خالہ زاد بہنیں رحاب، طلعت اور طیبہ سب اپنے ابو، امی کا بے حد ادب کرتے تھے. میں ایک سال تک خالہ کے گھر رہی مگر کبھی خالہ کو خالو کے سامنے بلند آواز سے بات کرتے نہیں سنا. خالہ جیسے خالو کی خدمت کو اپنی سعادت سمجھتیں، کیا مجال کی کوئی کام خالو خود کر لیں. دونوں کے درمیان بہت موافقت اور محبت تھی. وہ دونوں میاں بیوی سے زیادہ ایک دوسرے کے گہرے دوست نظر آتے. اکثر ان کے درمیان ہلکا پھلکا ہنسی مذاق بھی ہوتا. مجھے خالہ کا گھر کسی جنت کی طرح معلوم ہوتا جس میں کسی طرح کا مسئلہ نہ تھا اور نہ ہی شور وگل اور لڑائی جھگڑے کا نام و نشان نہ تھا.
خالہ نے میری تربیت کے لیے بڑی محنت کی، ویسے تو خالہ کا گھر ہی میرے لیے ایک بہترین تربیت گاہ اور رول ماڈل تھا جہاں بعیر کچھ کہے سنے ہی انسان زندگی گزارنے اور برتنے کا سلیقہ سیکھ جاے مگر اس کے باوجود خالہ روزآنہ مجھے کچھ نہ کچھ اچھی باتیں ضرور سکھاتیں، انھوں نے اچھی کتابوں کا ایک پورا سیٹ منگوایا، وہ ہر دو تین روز بعد اس میں سے ایک کتاب مجھے پڑھنے کے لیے دیتیں اور پھر کتاب کے موضوع اور مواد پر بہت اچھی گفتگو کرتیں. خالہ وہ تمام کتابیں نہ صرف پڑھ چکی تھیں بلکہ دھو کر پی گئی تھیں.رات میں وہ انبیاے کرام، صحابیات اور دیگر مشہور مسلم خواتین کے واقعات سناتیں. خالہ یہ واقعات اس طرح سناتین کہ دل میں ساری باتیں بیٹھ جاتیں اور خواہش پیدا ہوتی کہ کاش ہم بھی انھیں عظیم کرداروں کی طرح ہوجائیں. سید مودودی تربیت گاہ میں میں نے تجوید سیکھی ، قرآنی عربی سیکھی اور امور خانہ داری کے ڈھنگ سیکھے. گھر پر میں خالہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتی، کام دھندے سے جتنی فرصت پاتی سارا وقت مطالعے مین ہی گزارتی، صحیح بات یہ ہے کہ میں نے بیس سال کی عمر میں جو کچھ نہیں سیکھا، تھا عارفہ خالہ کی صحبت میں وہ سب ایک ہی سال میں سیکھ لیا.خالہ مجھے اکثر سمجھاتیں
"دیکھ خاشعہ شکل وصورت تو اللہ کی بنائی ہے، انسان اس کو بدل نہیں سیکھتا مگر اخلاق کردار آدمی کے ہاتھ میں ہے. میٹھی زبان، خدمت، ایثار و قربانی، خیر خواہی یہ ایسی صفات ہیں جن کو اختیار کرکے آدمی دلوں پر حکومت کرسکتا ہے. تجھے بھی کسی کا گھر آباد کرنا ہے. ابھی سے عزم کر لے کہ میں اپنی سسرال والوں کو کسی طرح کی شکایت کا موقع نہ دوں گی.،،
میں مسکرا کر رہ جاتی، خالہ کو کیا جواب دیتی.؟
شائد میں خالہ کے گھر کچھ دن اور رہتی مگر اسی دوران خالہ کی نند نے اپنے بیٹے کے لیے مجھے مانگ لیا. خالو کا یہ بھانجا پیشے سے انجینیر تھا، میں تو بس بارہویں پاس تھی مگر میرا مزاج، کام کاج سے میری دلچسپی، جذبہ خدمت، سلیقہ مندی، عمدہ پکوان کا ڈھنگ اور شوق مطالعہ وغیرہ شائد انھیں پسند آگیا تھا. ابو نے یہ رشتہ منظور کرنے میں دیر نہ لگائی، شائد وہ ایسا ہی رشتہ ڈھونڈ رہے تھے.
عارفہ خالہ نے میرے لیے سونے کا ایک خوبصورت ہار بنوایا، شادی سے ایک ماہ پہلے جب میں اپنے گھر آنے لگی تو خالہ کہنے لگیں:
"خاشعہ دیکھو میں نے تمہارے لیے سونے کے ہار کا ایک تحفہ خریدا ہے مگر اس ڈیڑھ سال میں میں نے تمہیں اس سے بھی زیادہ کئی خوبصورت تحفے دیے ہیں، تم ان تحفوں کے بارے میں کیا سوچتی ہو.،،؟
خالہ کی بات پہلے تو میری سمجھ میں نہ آ ئی، چھوتی موٹی تو بہت سی چیزیں تو وہ تحفے مین دیتی ہی رہتی تھیں. جب میں کوئی جواب نہ دے سکی تو خالہ ہنس پڑیں، کہنے لگیں:
"ذہن پر اور زور لگاو، ایک سال میں تم نے مجھ سے کتنے قیمتی تحفے حاصل کیے ہیں. یہی تو وہ تحفے ہیں جو تجھے زندگی بھر کام آئیں گے، ان تحفوں کو میری جانب سے تحفہ نکاح سمجھ کر قبول کرو، اگر تم نے ان تحفوں کی قدر کی تو تجھے زندگی کی ہر راحت ملے گی اور مجھے بھی تھوڑی بہت دعائیں .،،
اب میں خالہ کی بات سمجھی، احسان مندی سے میری آنکھیں ڈبڈبا اٹھیں. میں بس اتنا ہی کہہ سکی:
” خالہ میں زندگی بھر آپ کی احسان مند رہوں گی. میں نے ایک، ڈیڑھ سال میں آپ سے اتنا کچھ حاصل کیا ہے کہ زندگی کی آخری سانس تک آپ کی ممنون رہوں گی. خدانخواستہ اگر میں آپ کے پاس یہ وقت نہ گزارتی تو مجھے کبھی زندگی گزارنے کا سلیقہ نہ آتا، اب میں مطمئن ہوں. ان شاء میں اپنے گھر کو آپ کے گھر کی طرح سکون وچین کا گہوارہ بنا دوں گی.
خالہ مسکرائیں، ان کے چہرے پر اطمئنان جھلک رہا تھا. کہنے لگیں:
"بیٹا میری نصیحتوں کو گرہ میں باندھے رہنا. ہمیشہ یاد رکھنا کہ یہ میری جانب سے تم کو نکاح کا تحفہ ہے.،،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے