نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو

ازقلم: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری( گوونڈی ممبئی)

گھٹ گئے پیڑ نیم کے لیکن

تلخیاں بڑھ گئیں گھرانوں میں

جسم میں بڑھ گئیں شکر بزمی

اور کڑواہٹیں زبانوں میں

ساری ملت ایک جسم کی مانند ہے۔جسم کے کہا ایک عضو میں تکلیف ہو تو پورا جسم اس کی تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ملت کی سادگی ہے کہ وہ اپنے علاوہ دیگر کوششوں سے واقف رہناہی نہیں چاہتی۔

غیروں کو کیا پڑی ہے کہ رسوا کریں مجھے

ان سازشوں میں ہاتھ کسی آشنا کا ہے

صالح اجتماعت کی ضرورت ہر وقت ہر سماج میں رہی ہے۔دینی سماجی کاموں میں پیش پیش رہنے والوں کو اپنی دعوت اور طریقہ کار بھی الله کے بتائے طریقے کے مطابق اپنے ملک کے جغرافیائی حالات، وقت کے تقاضے،حاصل وسائل اور قوانین کے فریم میں رہتے ہوئے طے کرنے چاہیے ۔

"الله تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں، اور وہ تمھیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کر سکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں انھیں الله ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے”۔ (آل عمران:160)

ملت اسلامیہ میں بہت سارے تعمیری، اخلاقی، دینی، فکری، سماجی، معاشرتی کاموں کو انجام دینے کے لیے واضح تنظیم اور صالح اجتماعیت کی شدید ضرورت ہردور میں رہی ہے۔ آج کے حالات میں بھلائیوں کو پھیلانے براٰئیوں سے روکنے،اور اس دور کے منکرات کی قباحت پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔انصاف، عدل وقسط، رحم، مددوتعاون، خدمت خلق اور احترام انسانیت، کے لیے خیر خواہی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے ۔ سماج میں ہونے والے کمزور طبقات کی حق تلفی، ظلم وستم، نا انصافی وجبر، حق کی پائمال کی بجائے عدل وقسط قائم ہونا چاہیے۔سب کو انصاف ملے، تکریم انسانیت ہو۔مغالطہ انگیز یوں کا علمی جواب دیا جائے۔

شکوہ ظلمت شب سے تو بہتر ہے

کہ ہردم، چراغ اپنے جلائے رکھو

اسلامو فوبیا کے بڑھتے وار کے درمیان آج اسلام اور مسلمانوں کا فرق بیان کرنا بھی ضروری ہے ۔ساتھ ہی ساتھ دیگر اقوام سے اچھے تعلقات واچھے معاملات ہوں۔۔اپنی جماعت ،اپنے مسلک، اپنی اجتماعیت کو کشتی نوح نہ سمجھتے ہوئے اس کے علاوہ بھی جو لوگ ملت کے لیے تعلیمی، علمی، سیاسی، معاشی، معاشرتی،اصلاحی، صحت وتندرستی ۔ ، دینی وعصری تعلیم، مواقع روزگار، دعوت اصلاح اعمال اور دعوت دین ،اسلام سے متعلق پھیلی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کررہے ہوں ان کا معروف میں ساتھ دینا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔
مسلمانوں کے جان ومال کے تحفظ، ان کے بنیادی حقوق کی حفاظت ملت کےدینی و تہذیبی تشخص کی بقا کے لیے ساری جماعتیں مل کر کوشش کریں ۔

مخالفت برائے مخالفت، بغض واعناد، حسد، بے پرواہی، لا تعلقی ،بے اعتنائی ،غیریت مناسب نہیں ۔گفتگو میں مناطرانہ رنگ کی بجائے شائستہ زبان کا استعمال ہو۔اس بات کی پوری کوشش کی جائے کہ کوئی اسلوب، لفظ، جملہ یا لہجہ ایسا نہ ہو جس سے دوسرے کے جذبات مجروح ہوتے ہوں۔بالخصوص مذہبی شخصیات اور مقدسات کے بارے میں شائستہ زبان استعمال کی جائے ۔مخالف لاکھ دشنام طرازی پر اتر آئے آپ کے اندر اشتعال پیدا نہ ہو۔۔آپ اپنے مقام سے نیچے نہ گریں۔ایک دوسرے کی خیر خواہی، حسن ظن، مشورےاور دعاؤں میں سب کو شامل رکھیے۔تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ قرآن وسنت، حکمت، بصیرت، تفقہ فی الدین، مستند دلائل کے ساتھ موعظت حسنہ، جدال احسن، شورائی نظام اور قوانین کی پاسداری کے ساتھ اپنی کوششیں کریں۔
جذباتیت، غصہ، غلط سمجھ، غلط فہمیوں، شدت پسندی کی بجائے ٹھنڈے دماغ اور غورو فکر سے معاملے طے ہوں، پھر ان کو پورا کرنے کےلیے بھر پور کوشش کریں ۔ احتیاطی تقاضے، سابقہ تجربات، علماء کی بصیرت، دانشوروں کا فہم وادراک، مردوں کے ساتھ خواتین کی سعی وجہد، بچوں کی اسلامی تربیت، مزاج ومنہاج سے بہتر ماحول کی پرورش ہوگی۔ ملت کو اپنا وقار نصیب ہوگا۔الله تعالیٰ حکمت اور نصرت عطا فرمائے گا اور اس کے راستے سجھائے گا۔آمین

جنہیں خود اعتمادی مائل تدبیر رکھتی ہے

وہ ناکامی میں بھی تقدیر کو رویا نہیں کرتے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے