غزل: خود کو میں کیسے بھلا تیرے برابر کہہ دوں

ایک بونے کو ہمالہ کے برابر کہہ دوں
ریڑ کے پیڑ کو میں سرو وصنوبر کہہ دوں

کیسے میں ظلم کوبھی عدل سراسر کہہ دوں
حق و باطل کو بھلا کیسے برابر کہہ دوں

یہ گوارا بھی نہیں مجھ کو کسی بھی صورت
خود کومیں حق پہ کہوں تجھ کو خطاپرکہہ دوں

میری تخلیق ہے مٹی سے میں جھک جاتا ہوں
میں تو مغرور نہیں خود کوجو امبر کہہ دوں

ایک قطرے کے لیے مجھ کو جو تڑپاتا ہے
ایسے کم ظرف کو میں کیسے سمندر کہہ دوں

ہے زمیں پست ، بسا کرتے ہیں اس پہ انساں
کیسے افلاک کو ان کے لیے بہتر کہہ دوں

حُبِّ دنیا میں جو ہے غرق اسے کیسے میں
متقی ، زاہدِ دنیا و قلندر کہہ دوں

ایک ذرّے کی حقیقت کیا فلک کے آگے
”خود کو میں کیسے بھلا تیرے برابر کہہ دوں “

میرے حالات پراگندہ ہیں اتنے عاجزؔ
کیسے میں وقت کا خود کو ہی سکندر کہہ دوں

سیِّد عزیزالرّحمٰن عاجز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے