سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی

تحریر: زین العابدین ندوی
مقیم حال لکھنؤ

دنیا میں مختلف مذاہب اور ان کے ماننے والے پائے جاتے ہیں، کل حزب بما لدیہ فرحون ہر ایک کی متفرق جداگانہ رسوم ورواج ہیں، کسی پر کوئی جبر وتشدد نہیں ہر ایک کو اللہ کی عطا کردہ آزادی کے ساتھ جینے کا حق ہے، ایسا اس لئے کہ دنیا دارالجزاء نہیں بلکہ دارالعمل ہے، یہ اور بات ہے کہ بسا اوقات اللہ رب العزت جزاء کی بھی کبھی کبھی جھلک دکھاتے رہتے ہیں تاکہ ہم گمراہی سے محفوظ رہیں، دنیا میں بعض ممالک وہ ہیں جہاں صرف ایک ہی مذہب کے ماننے والے رہتے ہیں جبکہ وہیں کچھ ممالک وہ بھی ہیں جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے ایک ساتھ ایک ہی سماج میں بود وباش اختیار کرتے ہیں، اس موقع پر ہمیں یہ بات خوب اچھے سے سمجھ لینا چاہیے کہ اسلام دنیا کو وہ واحد اور آخری مذہب ہے جو اپنے رہنما اصول و قوانین اور نظام زندگی سے ہر شعبہ میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، جہاں ایک طرف ہمیں دربارِ رسالت سے خالص اسلامی سماج میں جینے کا طریقہ ملتا ہے تو وہیں دوسری جانب مخلوط سماج میں بھی بحیثیت مومن جینے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔

تمہیدی باتیں ذہن میں رکھتے ہوئے آئندہ سطور میں رقم کی جارہی باتوں کو بغور دیکھنے کی زحمت کریں، ہمارا ملک بھارت چونکہ مختلف ثقافتوں تہذیبوں اور مذہبوں کا گہوارہ ہے اور ایک زمانہ سے رہا ہے جس کی مستقل طویل ترین تاریخ ہے، جو سچ پوچھئے تو بھائی چارہ اور انسانی ہمدردی کا بے نظیر مرکز رہا ہے، لیکن پچھلی ایک صدی سے ملک کے وقار مجروح کرنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ملک دستاویزی طور پر آزاد ہونے کے باوجود بھی اہالیان بھارت کے لئے تنگ ہے جس میں وہ آئے دن نت نئی آزمائشوں میں ڈالے جاتے ہیں، معاملہ یہاں تک آ پہونچا ہے کہ اپنے ہی ہاتھ سے پیداکردہ چیزوں پر ٹیکسز ادا کرنے پڑ رہے ہیں، دوسری جانب انسانی ہمدردی کے مثالی ملک بھارت میں نفرت کا ایسا راج ہے کہ لوگوں کو حلیے اور کپڑے سے پہچانے جانے کی بات کی جارہی ہے تو کہیں اسی بنام بیس کا انتخاب لڑنے کی آواز لگائی جاتی ہے۔

آئیے بگڑے حالات کے پیچھے بلا معذرت اسباب کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے ہیں، ایک سبب جہاں شرپسند عناصر کی مسلم دشمنی کے واسطہ حکومت کرنے کی منصوبہ بندی کا بڑا دخل ہے، جس نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ملک کی تصویر بدلنے کی ٹھان رکھی ہے، معاشی اعتبار سے بے جان لاشہ بنا کر مذہب کے نام غریب عوام کا جس طرح استحصال کیا جارہا ہے ماضی قریب میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے، دوسرا بڑا سبب مسلمانوں کا بالخصوص ذمہ داران کا ضرورت سے زیادہ یکجہتی کی دعوت دینا ہے جس نے جہاں ایک طرف ان کے اندر سے ایمانی غیرت اور اسلامی حمیت کو تقریباً نیست ونابود کررکھا ہے وہی نتیجۃ دوسری طرف شرپسندوں کے حوصلے بلند کرنے میں بڑا رول ادا کیا ہے، حالیہ دنوں کاونڑ یاترا جو برادران وطن کا ایک مذہبی تہوار سمجھا جاتا ہے، جس میں وہ قافلہ در قافلہ گنگا کا قصد کرتے ہوئے جاتے ہیں اور ندی کا پانی متبرک سمجھ کر لاتے ہیں، ایسے میں مختلف مقامات پر دیکھا گیا کہ بعض تنظیموں نے جس میں مسلمانوں کی مضبوط ترین آواز سمجھی جانے والی تحریک جمعیت علماء ہند بھی شامل ہے اپنا اپنا بینر لگا کر ان کی خدمت کرتے دکھائی دے رہے ہیں، کہیں پانی پلاتے اور کہیں چپل پہناتے دکھائی دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ یہ کس بھائی چارگی اور کیسی انسانیت کا ثبوت دینا چاہ رہے ہیں؟

اسلام کامل و مکمل مذہب ہے انسانیت سے ہمدردی و پیار جس کی تعلیم کا ایک حصہ ہے لیکن بے سر وپیر ہر جگہ انسانیت کے نام پر آزادانہ طور پر کچھ بھی کرنے کی اجازت نہیں دیتا، ایک مخلوط ثقافتی سماج میں آپسی تعلقات چار طریقے پر ہو سکتے ہیں ۱.سماجی تعلقات ۲. سیاسی تعلقات ۳. معاشی تعلقات 4۔ مذہبی تعلقات۔ مذکورہ تعلقات میں ابتدائی تین تعلقات کو بحال رکھنے میں ایک حد تک گنجائش ہے لیکن آخر الذکر میں بالکل بھی گنجائش نہیں اور اس میں شمولیت کو انسانی ہمدردی کہتے ہوئے آوبھگت کرنا نہ صرف یہ کہ گناہ ہے بلکہ اس سے بھی بڑھا ہوا ہے، جس کے بعد ایمانی غیرت اور دینی حمیت کا باقی رہنا ناممکن ہے، مانا اسلام کوئی ہلکی پھلکی دیوار نہیں کہ کوئی بھی چیز اسے اثر انداز کردے لیکن اتنی نازک ضرور ہے کہ وہ شرک کا شائبہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، اس لئے بجا طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کا مسلمان جہاں دشمن عناصر کا نشانہ بنا ہوا ہے وہیں دوسری جانب اپنوں کی بیجا یکجہتی کے سبب پریشانیوں کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔۔۔ اور جب تک یہ حالت رہے گی اس وقت تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سجدہ خالق کو بھی ابلیس سے یارانہ بھی
حشر میں کس سے عقیدت کا صلہ مانگے گا